’بظاہر پنجاب کی ناک کو موڑنا سب سے آسان لگ رہا ہے‘

لیکن یاد رکھیں پنجاب کا ردعمل تاخیر سے آتا ہے اور جب آتا ہے تو پھر سب کچھ بدل دیتا ہے، پنجاب کی تقسیم دفاعی ڈھال میں چھید کرنے اور مضبوط ترین فوج کی شناخت کو کمزور کرنے کا سبب بنے گی؛ سہیل وڑائچ کا تجزیہ

Sajid Ali ساجد علی اتوار 2 اگست 2026 14:02

’بظاہر پنجاب کی ناک کو موڑنا سب سے آسان لگ رہا ہے‘
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اگست 2026ء) سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے پنجاب کی ممکنہ تقسیم سے متعلق اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ بظاہر پنجاب کی ناک کو موڑنا سب سے آسان دکھائی دیتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پنجاب کا ردعمل تاخیر سے آتا ہے اور جب آتا ہے تو حالات بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک کالم میں انہوں نے لکھا کہ تاریخی اعتبار سے پنجاب کی شناخت برصغیر کے دیگر صوبوں سے زیادہ قدیم ہے، 1765ء میں سکھوں کے لاہور پر قبضے کے بعد پنجاب ایک آزاد ریاست کی حیثیت اختیار کر گیا تھا، جو پاکستان کے قیام سے تقریباً 182 برس پہلے کی بات ہے، پنجاب کی تاریخی شناخت سے انکار ممکن نہیں۔

سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی قوت میں پنجاب بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور مسلح افواج میں سب سے زیادہ قربانیاں بھی پنجاب کے جوانوں نے دی ہیں، پنجاب کی تقسیم ناصرف پاکستان کی دفاعی ڈھال کو کمزور کر سکتی ہے بلکہ فوج کی مضبوط شناخت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، پنجاب نے پاکستان کے استحکام کے لیے اپنی زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت تک کو پس منظر میں رکھا، تاہم اگر پنجاب کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے پنجابی قوم پرستی کو فروغ مل سکتا ہے، جو اس وقت نمایاں نہیں لیکن اس کے بیج معاشرے میں موجود ہیں اور حالات کے مطابق ابھر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن بنیادی طور پر پنجاب کی سیاست سے وابستہ جماعت ہے، اگر وہ پنجاب کی تقسیم پر آمادگی ظاہر کرتی ہے تو اس کی سیاسی قوت متاثر ہو سکتی ہے، اسی طرح تحریک انصاف کی اکثریت بھی پنجاب سے آتی رہی ہے، اس لیے اگر وہ بھی اس تجویز کی حمایت کرتی ہے تو اسے علاقائی جماعتوں کی صورت میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے ہی اپنی سندھ مرکز پالیسیوں کے باعث پنجاب میں محدود سیاسی اثر رکھتی ہے، اگر سیاسی جماعتوں نے پنجابی عوام کو نظر انداز کیا یا ان کے تحفظات کو اہمیت نہ دی تو مستقبل میں "جاگ پنجابی جاگ" جیسے نعروں کی صورت میں ایک نئی سیاسی لہر بھی جنم لے سکتی ہے، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یا چھوٹے انتظامی یونٹ بنانا یقینی طور پر امرت دھارا ہے لیکن نئے صوبے بنانے کی بات کرنا لازماً ایک نیا پواڑا ہے۔