وزیراعلیٰ وعدے کے مطابق مدراس کی رجسٹریشن کا مسئلہ حل کریں، اتحاد تنظیمات مدارس خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا کے آپریشن زدہ علاقوں میں مساجد و مدارس کی عمارتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، جن مساجد اور مدارس کو نقصان پہنچا ہے ان کی ازسرِن تعمیر و بحالی کا موثر انتظام کیا جائے، مولانا حسین احمد

اتوار 9 اگست 2026 21:45

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اگست2026ء) اتحاد تنظیمات مدارس خیبرپختونخوا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن زدہ علاقوں میں مدارس اور مساجد کو تحفظ فراہم کیا جائے اور خیبرپختونخوا حکومت مدارس رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کے لیے اقدامات کرے۔اتحاد تنظیمات مدارس خیبر پختونخوا کا اجلاس گزشتہ روز پشاور میں مولانا حسین احمد کی صدارت میں ہوا، جس میں دینی مدارس کے پانچوں بڑے بورڈز، وفاق المدارس العربیہ پاکستان، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان، رابط المدارس الاسلامیہ پاکستان، تنظیم المدارس اہلِ سنت پاکستان اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے مولانا حسین احمد نے کہا کہ دینی مدارس امن و سلامتی کے مراکز ہیں، انہیں شدت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑنا انتہائی افسوس ناک اور بیمار ذہنیت کی عکاسی ہے، دہشت گردی کے خلاف مدارس اور علما کا موقف بالکل واضح ہے، ہم بلا تفریق ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں، ہمارے متعدد جید علما دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے آپریشن زدہ علاقوں میں مساجد و مدارس کی عمارتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، جن مساجد اور مدارس کو نقصان پہنچا ہے ان کی ازسرِنو تعمیر و بحالی کا موثر انتظام کیا جائے، 26ویں آئینی ترمیم کے بعد رجسٹریشن کے حوالے سے مدارس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ وفاقی وزارتِ تعلیم کے ساتھ رجسٹر یا سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کرائیں، تاہم سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے راستے میں رکاوٹیں موجود ہیں اور تاحال ضروری قانون سازی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر قانون سازی کرکے مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ حل کرے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے وعدے کے مطابق رجسٹریشن کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں فوری طور پر قانون سازی کریں۔