’بالی وڈ کی پاکستان سے پریم کتھا کب ختم ہو گی،‘ کنگنا رناوت

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 13 اگست 2026 14:00

’بالی وڈ کی پاکستان سے پریم کتھا کب ختم ہو گی،‘ کنگنا رناوت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 13 اگست 2026ء) بالی وڈ اداکارہ اور ہندو قوم پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمان کنگنا رناوت کا یہ بیان اداکار سنی دیول کی فلم 'بٹوارہ 1947‘ کی ریلیز سے قبل سامنے آیا ہے، جس کی کہانی برصغیر کی تقسیم کے واقعات کے پس منظر میں بیان کی گئی ہے۔

رناوت نے پاکستانی موضوعات پر بالی وڈ میں بننے والی فلموں اور بھارتی اداکاروں کی جانب سے پاکستان سے متعلق مبینہ تعریفی بیانات دیے جانے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

فلموں سے سیاست کی دنیا میں آنے والی کنگنا رناوت نے بالی وڈ پر’منافقت‘ کا الزام عائد کیا اور کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ مسلسل پاکستان کے جنون میں مبتلا ہیں، چاہے ان کی فلمیں ہوں، بیانات ہوں یا انٹرویوز۔

(جاری ہے)

پاکستان کے ساتھ یہ محبت آخر کب ختم ہو گی؟‘‘ انہوں نے یہ باتیں بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔

رناوت نے مزید کہا، ''تقسیم کو اتنے سال گزر چکے ہیں، پھر بھی یہ ’پریم کتھا‘ (محبت کی داستان) ختم کیوں نہیں ہو رہی؟ بالی وڈ کی پاکستان کے ساتھ محبت کی کہانی آخر کب ختم ہو گی؟ انہیں اس کا جواب دینا ہو گا۔‘‘

لومڑی یا کتا، کون زیادہ اہم؟

کنگنا رناوت نے حال ہی میں معروف بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ کے طلبہ کے احتجاج سے متعلق بیانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں ’لومڑی‘ قرار دیا تھا۔

دراصل نصیرالدین شاہ نے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے حق میں آواز نہ اٹھانے پر بالی وڈ اداکاروں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ اداکار اس وقت آواز اٹھائیں گے، جب ان کا ضمیر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرے گا۔

انہوں نے ایک کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا، ’’منہ میں ہڈی رکھنے والا کتا بھونک نہیں سکتا، جب ہڈی منہ سے گر جائے گی یا اس کے دانت توڑ دے گی، تب وہ بھونکے گا۔

‘‘

کنگنا رناوت نے اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں نصیر الدین شاہ کا نام لیے بغیر کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی کا 'پالتو‘ ہے، تاہم انہیں فخر ہے کہ وہ اسی ملک کی حفاظت اور دفاع کرتی ہیں، جہاں کی وہ روٹی کھاتی ہیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’آج کے دور میں کسی کو 'کتا‘ کہنا بھی تعریف ہے، کیونکہ وفاداری اور معصومیت بہت نایاب ہوچکی ہے۔

کنگنا رناوت نے کہا کہ وہ نصیرالدین شاہ جیسی ''لومڑی بننے کے بجائے کتا بننا‘‘ پسند کریں گی۔

انہوں نے نصیرالدین شاہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ’’روزی تو اسی ملک سے کماتے ہیں لیکن تعریفیں پڑوسی ملک کی کرتے ہیں۔‘‘

کنگنا کے ان تبصروں کو بعض لوگ پچھلے دنوں ریلیز ہونے والی فلم 'میں واپس آؤں گا‘ سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں، جس میں نصیرالدین شاہ کا کردار پاکستان کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھتا ہے اور تقسیم ہند کے بعد اس کردار کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

نصیر الدین شاہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد کے معاملے پر بھی آواز اٹھا چکے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک