بھارت: ایئر انڈیا کے تمام پائلٹس کی لازمی ڈرگ اسکریننگ شروع

DW ڈی ڈبلیو جمعہ 14 اگست 2026 18:40

بھارت: ایئر انڈیا کے تمام پائلٹس کی لازمی ڈرگ اسکریننگ شروع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 اگست 2026ء) یہ قدم 4 اگست کو پھوکیٹ سے دہلی آنے والی پرواز کے ایک واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے، مذکورہ واقعے میں فلائٹ کے کمانڈنگ پائلٹ کے خون کی جانچ سے اس میں ماریجوانا کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی تھی۔

ایئر انڈیا کے اس طیارے کو دوران پرواز پیش آنے والے متعدد تکنیکی مسائل کے نتیجے میں اس میں سوار افراد میں سے 24 زخمی ہو گئے تھے۔

بھارت کی سول ایوی ایشن کی وزارت نے اس واقعے کو سنگین قرار دیا اور معاملے کی مزید تحقیقات ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کر رہا ہے۔

پائلٹس کی ممنوعہ منشیات سے متعلق جانچ کیوں؟

ایئر انڈیا نے اس گروپ کے تمام پائلٹس کی لازمی اسکریننگ شروع کردی ہے تاکہ ہوا بازی کے ضوابط کے تحت ممنوعہ نشہ آور مادوں یا ادویات کے استعمال کا پتا چلایا جا سکے۔

(جاری ہے)

ایئر انڈیا کے مطابق اس اقدام کا مقصد حفاظتی معیار کو مزید مضبوط بنانا اور مسافروں کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔

ٹاٹا گروپ کی ملکیت اس ایئر لائن کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ایئر انڈیا نے ہمیشہ اپنے پائلٹس اور دیگر ملازمین کی پیشہ وارانہ مہارت، قابلیت اور حفاظتی عزم کے باعث اپنی ساکھ قائم کی ہے، اور عوام کا اعتماد برقرار رکھنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ایئر لائن کے مطابق یہ ٹیسٹ لازمی ہوں گے۔ پائلٹس کی اسکریننگ گروگرام میں قائم اکیڈمی میں تربیتی سیشنز کے ساتھ ساتھ، پروازوں کے بعد فلائٹ بریفنگ سینٹرز، ایئر انڈیا کے دفاتر یا پائلٹس کے آپریٹنگ اڈوں پر مقررہ مقامات پر بھی کی جائے گی۔

ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ یہ اقدام صرف قانونی تقاضوں کی تکمیل تک محدود نہیں بلکہ کمپنی کے اعلیٰ ترین حفاظتی اور پیشہ وارانہ معیار کو برقرار رکھنے کے عزم کا حصہ ہے۔

ایئر انڈیا کے سی ای او کا ملازمین کو انتباہ

ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کیمبل ولسن نے جمعرات 13 اگست کو ایک بیان میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ملازمین پر ''غصے اور مایوسی‘‘ کا اظہار کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ ہفتے پھوکیٹ - دہلی پرواز کے دوران واقعے کے بعد یہ ایئر لائن پہلے ہی سخت جانچ پڑتال کی زد میں ہے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ولسن نے کہا کہ نجکاری کے بعد ایئر انڈیا نے ایسے نظام اور کنٹرولز قائم کیے ہیں جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

انہوں نے ملازمین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بدعنوانی یا بدانتظامی کی صورت میں سزائیں ''مزید سے مزید سخت‘‘ ہوتی جائیں گی۔

کمپنی سی ای او نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ ''اس وقت بھی درست کام کریں جب کوئی انہیں نہ دیکھ رہا ہو‘‘ اور کسی بھی غلط کام کی اطلاع بھی دیں۔

کیمبل ولسن نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً 1,000 ملازمین کو مختلف بدعنوانیوں اور خلاف ورزیوں کے باعث ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے، جن میں سفری سہولتوں کا غلط استعمال اور سفری دستاویزات میں جعل سازی جیسے معاملات بھی شامل تھے۔

ادارت: مقبول ملک