پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل: ٹیکنالوجی کی برآمدات کے ذریعے معاشی صلاحیتوں کی توسیع

جمعہ 14 اگست 2026 18:23

پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل: ٹیکنالوجی کی برآمدات کے ذریعے معاشی صلاحیتوں ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اگست2026ء) فیصل آباد میں آدھی رات ڈھل چکی ہے، اور ایک خاتون سافٹ ویئر ڈویلپر اب بھی اپنی میز پر بیٹھی کام میں مصروف ہے۔ اس کی وجہ پاکستان میں کسی حتمی مہلت کا دباؤ نہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ٹورنٹو میں اس کا کلائنٹ اپنے دن کا آغاز کر رہا ہے۔ اس نے کبھی اپنا ملک نہیں چھوڑا، اور نہ ہی اسے اس کی کبھی ضرورت پڑی۔

اس کا لیپ ٹاپ ہی وہ اکلوتی سرحد ہے جو اسے عبور کرنی ہوتی ہے، اور یہ سرحد ہر بار وا ہو جاتی ہے جب وہ اپنے نظام میں داخل ہوتی ہے۔

یہ ایک کلائنٹ کا تعلق تو ایک بہت بڑے کھاتے کی محض ایک سطر ہے۔ سافٹ ویئر ہاؤسز، بی پی او اداروں اور برآمدی کمپنیوں نے، آزاد فری لانسرز کے ساتھ مل کر، مالی سال 2025-26 میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات کی برآمدات سے پاکستان کے لیے 4.6 ارب امریکی ڈالر کمائے، جو اس شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا ہندسہ ہے، اور گزشتہ سال کے 3.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 20.6 فیصد زیادہ ہے۔

(جاری ہے)

صرف جون کے مہینے میں ٹیکنالوجی کی برآمدات نے 416 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 23 فیصد زیادہ ہے۔ یہ نہ تخمینے ہیں نہ اہداف، بلکہ یہ وہ رقم ہے جو پاکستانی کمپنیوں اور افراد نے، پاکستانی سرزمین پر کام کرتے ہوئے، دنیا سے کمائی۔

اس رقم کو پاکستان کی ماضی کی زیادہ تر برآمدات سے جو چیز ممتاز کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اسے کمانے کے لیے تقریباً کچھ بھی درآمد نہیں کرنا پڑا۔

85 فیصد تجارتی فاضل کے ساتھ، ٹیکنالوجی کا شعبہ زرِ مبادلہ پیدا کرتا ہے، بغیر اس کے کہ اسے تیار کرنے کے لیے خام مال درآمد کرنا پڑے۔ نہ کوئی کچ دھات، نہ کپاس، نہ ایسی کوئی جنس جس کی قیمت کہیں اور طے ہوتی ہو۔ ایک ڈویلپر کوڈ لکھتا ہے۔ ایک ڈیزائنر ایک برانڈ تیار کر کے دیتا ہے۔ ایک مشیر کسی مشکل کا حل نکالتا ہے۔ قدر یہاں پیدا ہوتی ہے۔ یہ یہیں رہتی ہے۔

اور یہ بڑھتی چلی جاتی ہے، کیونکہ اسے کمانے والا شخص ابھی بھی یہیں ہے، ابھی بھی کام کر رہا ہے، اور ابھی بھی اپنے آپ کو نکھار رہا ہے۔

معاشی خودمختاری کی یہی وہ شکل ہے جب اسے وسائل کے بجائے انسانوں کی بنیاد پر تعمیر کیا جائے۔

یہ پیش رفت کوئی اتفاقی امر نہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ٹیکنالوجی کی برآمدات کو قومی ترجیح بنایا، اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیے جن سے رکاوٹیں دور ہوئیں اور ایک جرات مندانہ ہدف مقرر کیا گیا: 2030 تک 25 ارب امریکی ڈالر کی ڈیجیٹل معیشت۔

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن میں، اس ترجیح کو ایسے عملی حالات میں تبدیل کر دیا جن کے ساتھ کاروبار واقعتاً کام کر سکیں۔ 0.25 فیصد کا حتمی ٹیکس نظام 2029 تک بڑھا دیا گیا۔ غیر ملکی کرنسی برقرار رکھنے کی شرح 50 فیصد تک بڑھا دی گئی۔ برآمد کنندگان اور فری لانسرز، دونوں کے لیے بین الاقوامی ادائیگیاں آسان بنائی گئیں، اور نئی مالی مراعات مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو کھینچ رہی ہیں۔



حکومت نے اس مستقبل پر بھی شرط لگائی ہے جو سافٹ ویئر خدمات کے بعد آنے والا ہے۔ اب ایک قومی مصنوعی ذہانت پالیسی نافذ ہے، جسے 2030 تک مصنوعی ذہانت میں ایک ارب امریکی ڈالر کی منصوبہ بند سرمایہ کاری کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ملک بھر میں فائبر کی توسیع اور فائیو جی کے نفاذ کا کام جاری ہے، تاکہ ملک کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، اور اسلام آباد آئی ٹی پارک بھی بہت جلد اپنا کام شروع کرنے والا ہے، جس کے ساتھ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کی وسیع تر توسیع بھی ہو رہی ہے۔

اس سب کی بنیاد انسان ہیں: حکومت کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں نے جدید ترین ڈیجیٹل شعبہ جات میں اب تک دس لاکھ سے زیادہ تربیتی نشستیں مکمل کرائی ہیں، اور اس معیشت کے لیے ہنر مند افرادی قوت مہیا کر رہے ہیں جو خود انہی افراد کے دم سے رواں دواں ہے۔

پی ایس ای بی (پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ) کے اپنے پروگرام انہی اعداد و شمار کے پیچھے ہنر مند افراد کا ایک مستقل تسلسل تیار کر رہے ہیں۔

فروری 2026 میں منعقد ہونے والے دو روزہ قومی مصنوعی ذہانت تربیتی بوٹ کیمپ نے 2,000 سے زائد طلبہ تک رسائی حاصل کی، اور یہ آئی بی ایم، ہواوے اور گوگل جیسے عالمی شراکت داروں کے تعاون سے منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ ایک نیا قومی نیم موصل (سیمی کنڈکٹر) افرادی قوت پروگرام، جو ابھی اپنے پہلے ہی سال میں ہے، پہلے سے 475 فارغ التحصیل انجینئرز کا اندراج کر چکا ہے، اور اس کا ہدف ایسی صنعت کے لیے 7,200 ماہرین کو تربیت دینا ہے جس میں پاکستان نے تاحال بمشکل قدم رکھا ہے۔



ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان کے ذریعے، پی ایس ای بی اسی ہنر مندی کو دنیا کے بڑے بڑے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز تک لے جا رہا ہے، اور ایسی منڈیوں کے دروازے کھول رہا ہے جہاں پاکستانی کمپنیاں ابھی رسائی کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔

آزادی کے اناسی برس بعد، پاکستان کے ٹیکنالوجی کے شعبے نے دنیا سے اپنی طرف توجہ مانگنا چھوڑ دیا ہے۔ آج جو کچھ کھڑا ہے وہ ایک بڑی حقیقت کا ثبوت ہے: ایک ایسی قوم جس نے اپنے ہی لوگوں پر شرط لگانے کا انتخاب کیا، اور اس شرط کو قرض کے بجائے کمائے گئے ڈالروں کی صورت میں پورا ہوتے دیکھا۔

لاہور سے لکھی گئی ہر ایک سطرِ کوڈ، فیصل آباد سے طے پانے والا ہر ایک معاہدہ، اور بغیر کسی درآمد کے بھیجی گئی ہر ایک برآمد، خودمختاری کا ایک چھوٹا سا عمل ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو پاکستان نے تعمیر کی ہے۔ اتفاق سے نہیں، بلکہ ارادے سے۔ اور یہ تو ابھی محض ایک آغاز ہے۔