درخت ماحول کے تحفظ، ماحولیاتی توازن کے قیام اور صاف و صحت مند ماحول اور حیات کی بقاء کے لئے ناگزیر ہیں، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا شجرکاری کے قومی دن کے موقع پر پیغام

پیر 17 اگست 2026 20:18

درخت ماحول کے تحفظ، ماحولیاتی توازن کے قیام اور صاف و صحت مند ماحول ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اگست2026ء) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ درخت ماحول کے تحفظ، ماحولیاتی توازن کے قیام اور صاف و صحت مند ماحول اور حیات کی بقاء کے لئے ناگزیر ہیں، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، پانی کی کمی، ماحولیاتی آلودگی اور سیلاب جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جن سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے شجرکاری کے فروغ اور جنگلات کے رقبے میں اضافے کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شجرکاری کے قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا جو ہر سال 18 اگست کو ملک بھر میں منایا جاتا ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ درخت نہ صرف فضا کو صاف رکھنے، آکسیجن کی فراہمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور زمین کے کٹائو کی روک تھام کیلئے مدد گار ثابت ہوتے ہیں، بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے، آبی ذخائر کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور سبز رقبے میں کمی سے زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بارشوں دوران سیلاب کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کا تحفظ، دریائوں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کی حفاظت اور بڑے پیمانے پر شجرکاری سیلاب کے خطرات کم کرنے اور ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات ہیں۔

سپیکر نے کہا کہ شجرکاری محض درخت لگانے تک محدود نہیں بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال اور نشوونما یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے عوام بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ شجرکاری مہمات میں بھرپور حصہ لیں اور لگائے گئے پودوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کو اپنا قومی فریضہ سمجھیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے حکومت کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ، جنگلات کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہمات کی کامیابی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، بلدیاتی اداروں، تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو مربوط اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانے کے لیے جنگلات کے رقبے میں اضافے کے ساتھ ساتھ موجودہ جنگلات کے تحفظ، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی اور پانی کے موثر انتظام کے لیے بھی مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور قدرتی وسائل کے موثر اور پائیدار استعمال کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کسی ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہر شہری کو زیادہ سے زیادہ درخت لگانے، ان کی حفاظت کرنے اور ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سرسبز پاکستان ہی صحت مند، محفوظ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ شجرکاری ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کا موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ درختوں کا تحفظ اور زیادہ سے زیادہ پودے لگانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی بحالی اور قدرتی ماحول کا تحفظ سیلاب سمیت موسمیاتی آفات کے خطرات کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمان ماحول دوست اقدامات، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔