پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ اور نوازشریف کی واپسی پر شاہزیب خانزادہ کا رانا ثناءاللہ سے مکالمہ

مسلم لیگ ن کے قائد کے برطانیہ میں چار سالہ قیام، علاج اور وطن واپسی کے وقت پر دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 20 اگست 2026 12:37

پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ اور نوازشریف کی واپسی پر شاہزیب خانزادہ کا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اگست 2026ء) معروف اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ کے درمیان ٹی وی شو کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کے برطانیہ میں چار سالہ قیام، علاج اور وطن واپسی کے وقت پر دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شو کے دوران اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی لندن روانگی اور وہاں طویل قیام سے متعلق تلخ حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عدالت نے نواز شریف کو تین بار باضابطہ طور پر طلب کیا، لیکن وہ واپس نہیں آئے، وہ صرف اس وقت وطن واپس لوٹے جب پاکستان میں عمران خان کی حکومت ختم ہو رہی تھی، اتفاق کی بات ہے کہ نواز شریف کا علاج اور بیماری کا تمام تر سلسلہ اسی وقت مکمل ہوا جب پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کا وقت قریب آیا۔

(جاری ہے)

اس اعتراض کے جواب میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے اپنے قائد نواز شریف کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ اگر نواز شریف کا علاج چار دن میں مکمل ہو جاتا تو وہ یقیناً چار دن میں ہی واپس آ جاتے، لیکن چونکہ ان کا طبی علاج پیچیدہ تھا اور اس میں چار سال کا عرصہ لگا، اسی لیے انہیں برطانیہ میں اتنے عرصے تک قیام کرنا پڑا۔

اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے رانا ثناء اللہ کی اس دلیل پر دوبارہ سوال دہرایا کہ ’لیکن حیرت کی بات یہی ہے کہ وہ علاج ٹھیک اسی وقت جا کر مکمل ہوا جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی‘، اس چبھتے ہوئے اور طنز سے بھرپور سوال پر رانا ثناء اللہ کوئی واضح سیاسی جواب دینے کے بجائے بات کو ٹال گئے اور صرف اتنا کہا کہ ’علاج کب مکمل ہونا ہے اور کتنا وقت درکار ہے، یہ بات تو صرف معالج اور ڈاکٹر ہی بہتر جان سکتا ہے‘۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نومبر 2019ء میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے دوران علاج کی غرض سے چار ہفتوں کی اجازت لے کر لندن روانہ ہوئے تھے، تاہم وہ چار ہفتوں کے بجائے تقریباً چار سال تک لندن میں ہی مقیم رہے اور اکتوبر 2023ء میں اس وقت واپس آئے جب عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد جیل جا چکے تھے، اب چونکہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ن لیگ کی جانب سے اعتراض سامنے آیا ہے تو اس پر نواز شریف کی علاج کیلئے بیرون ملک روانگی پھر سے بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔