عمران خان کیلئے ڈیل یا ڈھیل کا امکان ’صفر‘ ہونے کا دعویٰ

ماضی کے تناظر میں موجودہ نظام کو نہ دیکھا جائے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں؛ انصارعباسی کی ایک اہم اور باخبر ذریعے کے حوالے سے خبر

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 22 اگست 2026 12:14

عمران خان کیلئے ڈیل یا ڈھیل کا امکان ’صفر‘ ہونے کا دعویٰ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اگست 2026ء) صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ایک اہم اور باخبر ذریعے نے سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے کسی بھی طرح کی ’’ڈیل یا ڈھیل‘‘ کے امکان اور وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات کی رپورٹس کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے دونوں امکانات کو ’’صفر‘‘ قرار دے دیا۔

روزنامہ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیاسی اور حکومتی سطح پر ہونے والی پیشرفت پر گہری نظر رکھنے والے اس ذریعے نے دونوں صورتوں کے امکان کو دوٹوک انداز میں ’’صفر‘‘ قرار دیا، یہ بیان سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کے طبی علاج سے متعلق حکم کے بعد جاری ہونے والی شدید قیاس آرائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

(جاری ہے)

توقع کی جا رہی تھی کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے گا، تاہم انہیں شفاء کی بجائے پمز منتقل کیا گیا اور بعد ازاں اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا، اس پیشرفت کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ آیا یہ معاملہ عمران خان کے لیے کسی ممکنہ ’’ڈیل یا ڈھیل‘‘ سے جڑا تھا۔

انصار عباسی لکھتے ہیں کہ جب ذریعے سے خاص طور پر پوچھا گیا کہ کیا ان کے لیے کسی ڈیل یا ڈھیل کا کوئی امکان موجود ہے تو انہوں نے مختصر اور دوٹوک جواب دیا ’’صفر‘‘، اس ذریعے سے پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات سے متعلق رپورٹس اور قیاس آرائیوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو اس بار بھی جواب تھا ’’صفر‘‘۔

رپورٹ میں ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان میں اس نوعیت کی قیاس آرائیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں جہاں سیاسی اور عسکری قیادت سے متعلق پیشرفت کو تاریخی طور پر سول حکومت اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’’ڈیل‘‘، ’’ڈھیل‘‘ یا ’’اختلافات‘‘ کے روایتی تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے، جب بھی کوئی غیرمعمولی سیاسی پیشرفت ہوتی ہے تو فوراً یہ قیاس آرائیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ کہیں پسِ پردہ کوئی معاہدہ طے پا رہا ہے یا قیادت کے درمیان دراڑ پڑ گئی ہے۔

ذریعے نے اصرار کیا کہ موجودہ سیاسی اور ادارہ جاتی انتظام کو پاکستان کے ماضی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، تقریباً تین سے چار سال قبل تشکیل پانے والے سیاسی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی قیادت میں سول حکومت اور عسکری قیادت کا سفر ماضی میں دیکھے جانے والے طریقہ کار سے ’’بالکل مختلف‘‘ ہے، اس وقت زیرِ گردش بہت سی رپورٹس زمینی حقائق کے بجائے بعض افراد کی خواہشات یا توقعات کی عکاسی کرتی ہیں، جن کی موجودہ حالات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔