نئے صوبوں کی بات کابینہ میں زیرِ غور نہیں، انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے، مصطفی کمال

انتظامی یونٹس کی بحث سندھی، مہاجر کی نہیں نظام کی بات ہے، بھارت نے صوبے 9 سے بڑھا کر 38 کر دیے، ہم اب بھی چار پر کھڑے ہیں، کراچی کو پانی، سیوریج اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ناگزیر ہے،وفاقی وزیرصحت

ہفتہ 22 اگست 2026 21:35

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 اگست2026ء) وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی کوئی تجویز تاحال زیرِ غور نہیں، تاہم ملک میں انتظامی اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے، انتظامی یونٹس کی بات سندھی یا مہاجر کی نہیں بلکہ بہتر نظام کی بات ہے، موجودہ نظام پورے ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

آباد ہاؤس میں تعمیراتی شعبے سے وابستہ نمائندوں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ آئین پاکستان میں صوبوں کے قیام کی گنجائش موجود ہے اور آئین میں ترامیم بھی ہوسکتی ہیں، تاہم اس وقت وفاقی کابینہ میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے کوئی معاملہ زیرِ غور نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سندھ دھرتی ماں کی طرح ہے اور وہ سندھ کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کررہے بلکہ اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بات کررہے ہیں تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جس کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن مردم شماری میں اس کی آبادی کم ظاہر کی جاتی رہی۔ کراچی کو مردم شماری میں درست طور پر شمار نہیں کیا گیا، وفاق میں آواز اٹھانے کے بعد کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار میں 73 لاکھ افراد کا اضافہ کرکے اسے 2 کروڑ 3 لاکھ تک پہنچایا گیا۔مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی سندھ کی آبادی کا تقریباً 38 فیصد اور حیدرآباد 5 فیصد ہے، تاہم مردم شماری کے موجودہ اعداد و شمار پر مختلف حلقے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی حقیقی آبادی اور اس کے مطابق وسائل کی تقسیم کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010ئ میں ڈسٹرکٹ ٹیکس کو این ایف سی میں شامل کردیا گیا، کراچی کو ڈسٹرکٹ ٹیکس کی مد میں سالانہ 238 ارب روپے ملتے تھے، تاہم یہ رقم شہر کی ترقی پر خرچ نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق کراچی کے حق کا تقریباً 2 ہزار ارب روپے انفرااسٹرکچر پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ گزشتہ 18 برس میں کراچی کو 22 ہزار ارب روپے ملنے کے باوجود شہر بنیادی سہولتوں کے حوالے سے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ شہر میں پینے کا پانی دستیاب نہیں، سیوریج کا پانی نکاسی کے نظام سے نہیں نکلتا جبکہ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک پہنچانے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے انتظامی اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی مقامی سطح پر منتقل کرنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت پاکستان کو مزید نہیں چلایا جاسکتا، کسی کی خواہش پر ملک کو قربان نہیں کیا جاسکتا بلکہ اب خواہشات کی قربانی دینا ہوگی۔مصطفی کمال نے انتظامی یونٹس کے حوالے سے کہا کہ بھارت نے اپنے صوبوں کی تعداد 9 سے بڑھا کر 38 کردی، جبکہ پاکستان آج بھی چار صوبوں تک محدود ہے۔ ان کے مطابق وقت آگیا ہے کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور ضرورت کے مطابق اصلاحات کی جائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ 23 سال قبل آئی ٹی وزیر اور 21 سال قبل کراچی کے میئر بنے تھے، اس دوران انہوں نے کراچی میں تشدد کی سیاست کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی اور ایسی طاقت کے خلاف بھی بات کی جو اختلاف کرنے والوں کی جان لینے سے دریغ نہیں کرتی تھی۔صحت کے شعبے سے متعلق سوال پر مصطفی کمال نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ متعارف کرانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اسے صوبائی حکومتوں کا معاملہ قرار دیا گیا۔

وفاق اور گلگت بلتستان میں ہیلتھ کارڈ شروع کردیا گیا ہے جبکہ سندھ میں ہیلتھ کارڈ کے لیے 22 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وزارت صحت قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر 210 ارب روپے کی لاگت سے ملک بھر میں ہیلتھ کوریج پلان پر بھی کام کررہی ہے، جس کا مقصد شہریوں کو صحت کی بنیادی سہولتوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔