کیٹی بندر پورٹ کو نئی بحری گزرگاہ بنانے کی تیاری، صدر کی جامع منصوبہ بندی کی ہدایت

پیر 24 اگست 2026 13:32

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کیٹی بندر کو نئی بحری گزرگاہ کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے کو جامع منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بندرگاہ کے ساتھ سڑکوں کا مربوط نظام، بجلی و پانی کی فراہمی، صنعتی ڈھانچہ اور دیگر ضروری سہولیات بھی یقینی بنانا ہوں گی۔صدر مملکت نے یہ ہدایات چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ کی مجوزہ ترقی کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران دیں۔

انہوں نے چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور بحری شعبے کی ترقی میں چین کی مسلسل دلچسپی کو سراہا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ کیٹی بندر پاکستان کے بندرگاہی اور لاجسٹکس نیٹ ورک میں ایک اضافی بحری دروازے کے طور پر اہم صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ملک میں رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے چینی حکام اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان مضبوط تکنیکی رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

صدر مملکت نے منصوبے میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی اہمیت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے حساس ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی ماہی گیر برادری کے مفادات اور روزگار کو بھی مدنظر رکھا جائے۔انہوں نے کیٹی بندر پورٹ کے ماسٹر پلان کو مزید بہتر بنانے کے لیے تکنیکی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔

بریفنگ کے دوران چینی وفد نے کیٹی بندر پورٹ کا تصوراتی ماسٹر پلان پیش کیا، جس میں متعدد ٹرمینلز، لاجسٹکس اور معاون بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایک نئی گہری سمندری بندرگاہ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔منصوبے کے پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل کثیرالمقاصد ٹرمینل کی تعمیر شامل ہے، جس کی ابتدائی انجینئرنگ لاگت تقریباً 52 کروڑ 23 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر بتائی گئی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹرز سلیم مانڈوی والا اور شیری رحمان، سندھ کے وزیر توانائی و منصوبہ بندی و ترقی ناصر حسین شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سید قاسم نوید قمر اور چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔بریفنگ میں چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کے پاکستان میں چیف نمائندہ وو پنگ، مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ وانگ زونگ ڈے، انجینئر شو ٹیلن اور اسٹریٹجی و مارکیٹنگ کے جنرل منیجر علی رضا بھی موجود تھے۔اجلاس میں منصوبے کے نفاذ اور مالیاتی فریم ورک کے لیے موزوں طریقہ کار وضع کرنے کے حوالے سے تکنیکی پیش رفت جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔