حکومت کسانوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرے گی، وزیر اعظم

زیتون کی کاشت سے ملک کو خوردنی تیل کی پیداوار میں خودکفیل کرکے قیمتی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف کا پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب

پیر 24 اگست 2026 21:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے زرعی انقلاب کیلئے عملی اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسانوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرے گی، زیتون کی کاشت سے ملک کو خوردنی تیل کی پیداوار میں خودکفیل کرکے قیمتی زرمبادلہ بچا سکتے ہیں، پاکستان کے 100 زرعی گریجویٹس کو زیتون کی کاشت، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں جدید تربیت حاصل کرنے کیلئے اٹلی بھجوائیں گے۔

وہ پیر کو یہاں پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر وفاقی وزرا، غیر ملکی سفارت کاروں کے علاوہ زیتون کی کاشت اور اس شعبے سے وابستہ کسانوں ، ماہرین اور محققین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔

(جاری ہے)

وزیر اعظم نے کہا کہ خوشی ہے کہ وہ پاکستان کے زیتون کے مایہ ناز کسانوں، محققین اور برآمدکنندگان سے مخاطب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں اور ماہرین کی شب و روز محنت سے زیتون کے شعبے میں شاندار مثال قائم ہوئی ہے ۔ انہوں نے لورالائی سے عبدالحبار، مردان سے قر العین اور چکوال سے یعقوب اظہار کی محنت کو خاص طور پر قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ زیتون کی کاشت کے فروغ کے لئے صوبائی حکومتوں کے تعاون پر مشکور ہیں۔ وزیراعظم نے زیتون کی کاشت کو فروغ دینے والے کسانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں نے ثابت کیا کہ عزم، محنت اور جدید سوچ کے ذریعے بڑے نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی انقلاب کے لئے کسانوں کو ہرممکن معاونت فراہم کریں گے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کسانوں کو سہولتیں فراہم کریں گی، ملک میں زرعی انقلاب کیلئے عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہر سال تقریبا 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، درآمدی بل میں سالانہ صرف 400 ملین ڈالر کی بھی کمی لائی جائے تو یہ بڑی خدمت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی بل میں کمی کے لئے انہوں نے پام آئل اور سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان تجارتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، زراعت، ٹریکٹر مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کا تعاون قابل ذکر ہے۔ پاکستان اور اٹلی زیتون کی پیداوار، ویلیو ایڈیشن، جدید پروسیسنگ اور برآمدات کے شعبے میں تعاون مزید بڑھائیں گے۔

وزیراعظم نے 100 نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوان زیتون کی کاشت، پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں جدید تربیت حاصل کریں گے۔ قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زیتون کے کاشتکاروں، اس شعبے کے محقیقین اور ماہرین میں شیلڈز تقسیم کیں۔ انہوں نے مختلف سٹالز کا دورہ بھی کیا اور زیتون کی مختلف مصنوعات میں خصوصی دلچسپی لی۔

انہوں نے زیتون کے کاشتکاروں سے گفتگو بھی کی۔ ملک بھر سے زیتون پیدا کرنے والے انٹرپرینیورز نے وزیراعظم کو بریفنگ دی اور اپنے تجربات بیان کیے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو اعلی معیار اور بیماریوں سے پاک بیج فراہم کریں گے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے فصلوں کے ممکنہ نقصانات کی بروقت نشاندہی اور تدارک ممکن ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ زیتون صرف ایک فصل نہیں اس میں کاروباری مواقع پیدا کرنے والی مکمل ویلیو چین ہے۔ انہوں نے پاکستان کے انٹرنیشنل اولیو کونسل کے مستقل رکن بننے کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تحقیق، ٹیکنالوجی، تربیت اور عالمی معیار کی سرٹیفکیشن سے فائدہ اٹھائیں گے، زیتون کے شعبے میں پاکستان اور اٹلی کا تعاون مشترکہ منصوبوں تک بڑھایا جائے گا۔

سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی کا اجرا خوش آئند ہے، پاکستان جلد جنوبی، مشرقی اور وسطی ایشیا کی منڈیوں میں زیتون کا تیل برآمد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں روایتی زرعی نظام سے آگے بڑھ کر فیصلے کرنا ہوں گے ، زیتون کی پیداوار، پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، معیار، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے نظام پر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل اولیو کونسل کا باقاعدہ رکن بن چکا ہے۔ پاکستان میں اطالوی سفیر اوگو چیار تلانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی اور پاکستان کے درمیان شراکت داری کی طویل اور قابل قدر تاریخ ہے، زراعت، سائنس، تعلیم، تجارت اور سکیورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون فروغ پا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے، 2016 میں پاکستان میں زیتون کے درختوں کی تعداد 5 لاکھ تھی، آج پاکستان بھر میں 70 لاکھ سے زیادہ زیتون کے پودے کاشت کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیتون کی ویلیو چین سے وابستہ 700 سے زیادہ سٹیک ہولڈرز کو تربیت فراہم کی گئی ہے، اولیو کلچر پراجیکٹ کی بدولت پاکستان کے زیتون کے شعبے کو مختلف سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ کوآرڈینیٹر زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر نے کہا کہ ملک بھر میں کاشتکار زیتون کی کاشت کے لئے بہت محنت کر رہے ہیں ۔ تقریب میں لورا لائی بلوچستان سے زیتون کے کاشتکار عبدالحبار نے بتایا کہ زیتون کی کاشت بڑھا کر ملکی قرضہ اتارنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

مردان سے زیتون کی کاشتکار قر العین عرفان نے کہا کہ 15 سال بعد زیتون کی پیداوار حاصل ہوئی، خواہش ہے کہ زیتون کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو، زرمبادلہ میں اضافہ ہو۔ چکوال سے زیتون کے کاشتکار یعقوب اظہار نے کہا کہ میرے خاندان میں واحد میں زمیندار ہوں، لندن میں ایک نمائش میں شرکت کے بعد چکوال میں زیتون کی کاشت کا فیصلہ کیا۔