اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 اگست 2026ء) یوکرینی دارالحکومت کییف سے منگل 25 اگست کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق صدر وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں لکھا کہ یوکرین کی آزادی کے تحفظ کے لیے برلن نے اب تک اپنا جو قائدانہ کردار ادا کیا ہے، اس پر وہ جرمن ریاست، حکومت اور عوام کے دل سے شکر گزار ہیں۔
حالت جنگ میں انتخابات کے انعقاد سے یوکرین ’تقسیم‘ ہو جائے گا، زیلنسکی
یوکرین نے سابق سوویت یونین کی تقسیم کے بعد ایک ریاست کے طور پر اپنی آزادی اور خود مختاری کی 35 ویں سالگرہ کل پیر 24 اگست کے روز منائی تھی۔ اس موقع پر یوکرین میں گزشتہ روز بڑی تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
اس پس منظر میں ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں صدر زیلنسلکی نے منگل کے روز لکھا، ''یوکرین جرمنی کی طرف سے ملنے والی امداد کی بنیاد پر اپنے ہاں لاتعداد انسانی جانیں بچانے میں کامیاب رہا۔
(جاری ہے)
روس
اور شمالی کوریا کے درمیان پہلی سڑک کی تعمیرصدر ٹرمپ کی طرف سے بھیجا گیا مبارک باد کا خط
یوکرینی صدر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے نام بھیجا گیا یوم آزادی کے موقع پر مبارک باد کا ایک خط بھی شائع کیا۔
اس کا پس منظر یہ ہے کہ وولودیمیر زیلنسکی کی طرف سے اس خط کے شائع کیے جانے سے قبل روس کے میڈیا نے اپنے طور پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس سال یوکرینی یوم آزادی کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین اور یوکرینی قیادت کو کوئی مبارک باد نہیں دی۔
روس
اپنا سونا کیوں بیچ رہا ہے؟صدر زیلنسکی کی طرف سے شائع کردہ امریکی صدر کے اس خط کے متن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا، ''24 اگست ایک ایسا دن ہے، جب ہمارے دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کے 35 برسوں کی بنیاد پر قائم شدہ دیرپا دوستی کی خوشی منائی جانا چاہیے، ایک ایسا رشتہ جو یوکرین کے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے آج تک صرف مضبوط تر اور گہرا ہی ہوا ہے۔
‘‘روس
غیر ملکی شہریوں کو یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے کیسے راغب کر رہا ہے؟ساتھ ہی امریکی صدر نے اپنے اس خط میں صدر زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا، ''اپنے بہادر، باہمت اور باصلاحیت لوگوں کے ساتھ، آپ ایک عظیم ملک کی تعمیر میں کامیاب رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ کے خط پر صدر زیلنسکی کا ردعمل
یوکرینی صدر زیلنسکی نے منگل کے روز ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکی صدر نے یوکرین اور یوکرینی عوام کی ہمت کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ جس طرح یوکرین نے قربانیاں دی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ یہ ''ملک اپنے خود مختار اور خوشحال ریاستی مستقبل کے راستے پر گامزن ہے۔
‘‘اس کے علاوہ صدر زیلنسکی نے صدر ٹرمپ کے ''گرمجوشی اور حوصلہ افزا خیالات سے عبارت تہنیتی پیغام‘‘ پر امریکی ہم منصب کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے خط کے اختتام پر امن کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ہے، ''ہمیں اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے اس تنازعے کے خاتمے اور ایسے دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنانا چاہیے، جس کے ساتھ یوکرین آنے والی بہت سی نسلوں تک اپنی بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا رہے۔
‘‘یوکرین کے لیے 50 ہزار حملہ آور ڈرونز کی خریداری میں جرمنی کی معاونت
یوکرین کے ڈھائی ہزار کلومیٹر دور روسی ریفائنری پر ڈرون حملے
اس موقع پر یوکرینی سربراہ مملکت نے یوکرین پر بیلسٹک میزائلوں سے کیے جانے والے روسی حملوں کے خلاف امریکہ سے فضائی دفاع کے لیے انٹرسیپٹر میزائلوں کی فراہمی کی بالواسطہ درخواست کرتے ہوئے لکھا، ''(صدر ٹرمپ کے) یہ الفاظ ہمارے حوصلوں کو بلند کرتے ہوئے ہمیں ویسی ہی امید دلاتے ہیں، جیسی پیٹریاٹ میزائلوں کی لاچنگ کے وقت سنائی دینے والی آواز، جو اس بات کی علامت ہے کہ یوکرین میں انسانی زندگیوں کو روس کے ظالمانہ حملوں سے بچایا اور باوقار امن حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘
ادارت: جاوید اختر