وزیراعظم شہبازشریف نئے صوبوں کے زبردست حمایتی لیکن مریم نواز پنجاب کی تقسیم نہیں چاہتی

نوازشریف نے بھی وزراء کو بات کرنے سے روک دیا ہے، یہاں ن لیگ کے منشور اور پنجاب حکومت کی پالیسی میں ٹکراؤ آگیا ہے، صحافی حامد میر

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 4 ستمبر 2026 00:57

وزیراعظم شہبازشریف نئے صوبوں کے زبردست حمایتی لیکن مریم نواز پنجاب ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 03 ستمبر 2026ء ) سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نئے صوبوں کے زبردست حمایتی لیکن مریم نواز پنجاب کی تقسیم نہیں چاہتی ، نوازشریف نے بھی وزراء کو بات کرنے سے روک دیا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نئے صوبوں کے زبردست سپورٹر ہے اور وہ بند کمروں میں اس کی حمایت یقین دہانی کرا چکے ہیں، ن لیگ کے کئی وفاقی وزراء بھی اسکے حق میں ہیں، احسن اقبال کم ازکم 19 نئے صوبوں کے حامی ہیں، اویس لغاری بھی پنجاب میں دو صوبوں کے حامی ہیں، لیکن نواز شریف نے ان سب کو بات کرنے سے روکا ہے کیونکہ مریم نواز جو پنجاب کی وزیراعلی ہے تو وہ پنجاب میں نئے صوبوں کی حمایت نہیں کرتیں۔

(جاری ہے)

یہاں پر مسلم لیگ ن کے منشور اور پنجاب حکومت کی پالیسی میں ٹکراؤ آگیا ہے، شہبازشریف نئے صوبوں کے حامی ہیں، مریم نوازچونکہ وزیراعلیٰ ہیں اس لئے وہ پنجاب کی تقسیم نہیں چاہتی۔ لیکن کور پیپلزپارٹی کا لے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے تو ہم بھی پنجاب کی تقسیم نہیں چاہتے۔ بند کمروں میں تو سب کہتے ہیں انتظامی یونٹس پر اعتراض نہیں، شہبازشریف کو بھی جلد عوامی سطح پر بھی یہ بات کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب صحافی منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ جیسے مسلم لیگ ن نے عمران خان کے دور میں جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن میں سپورٹ کیا، تو میاں نوازشریف بیرون ملک چلے گئے، حالانکہ ن لیگ کو رگڑے لگ رہے تھے لیکن پھر بھی ن لیگ نے ساتھ اور قانون بن گیا۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے تجزیہ کیا تھا کہ صوبوں کیلئے اگر پیپلزپارٹی ساتھ نہیں دیتی تو دوتہائی اکثریت نہیں ہوسکتی، اس لئے پی ٹی آئی ساتھ دے سکتی ہے اور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کیلئے کوئی آفر ہے تو وہ اپنے دماغ کا علاج کرائیں، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے اتنے برے دن نہیں آئے کہ میں عام آدمی ہوں میرے ذریعے پی ٹی آئی سے کوئی تعاون لیا جائے، کیونکہ انہوں نے تعاون لینا ہوا تو معذرت کے ساتھ ڈنڈے کے زور پر بھی لے لیں گے۔ اور پوری پی ٹی آئی سپورٹ کرے گی، پوری پی ٹی آئی پاؤں میں بیٹھی ہوئی ہے کہ پاؤں رکھنے کی بس جگہ دے دیں۔

عمران خان کو اشارہ مل جائے کہ اسٹیبلشمنٹ کو راضی کرسکتے ہیں تو عمران خان فوری کہیں گے کہ جاؤ ترمیم کیلئے ووٹ کرو، نئے صوبے بننے سے ہمارا کیا چلا جاتا ہے؟ عمران خان سے ابھی تک کسی نے کوئی تعاون نہیں مانگا۔ اپنے ایک اور وی لاگ میں انہوں نے کہا کہ میں یہ بتا دوں کہ نئے یونٹ بنانا جن کی خواہش ہے انہوں نے پانچواں گیئر ضرور لگایا ہوا ہے، نئے صوبائی یونٹ بنانے کیلئے اگر صوبوں کی مرضی ختم کرنی ہے تو آئین کے آرٹیکل 239/4 میں حکومت کو ترمیم کرنا پڑے گی۔

آئین کے  آرٹیکل 239/4 میں  لکھا ہے کہ اگر  فیڈریٹنگ یونٹ یا صوبہ بناناہے تو اسی صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرے۔۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ  پیپلز پارٹی  کے پاس اوورویلمنگ میجورٹی ہے سندھ میں ۔وہ انکار کر رہی ہے۔ تو پھر آرٹیکل 239/4 میں حکومت کو ترمیم کرنی پڑے گی، اور صوبے کا رول ہی نکالنا پڑے گا۔