آسٹریلیا میں امیگریشن قوانین سخت کرنے کا اعلان، ویزا ہاپنگ اورغیر قانونی قیام کے خلاف کارروائی ہوگی

نئی پالیسی کے تحت آسٹریلیا میں زیر تعلیم طلبہ کے خاندان کے افراد کے ملک میں داخلے پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی.آسٹریلین وزیرداخلہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 17 ستمبر 2026 14:24

آسٹریلیا میں امیگریشن قوانین سخت کرنے کا اعلان، ویزا ہاپنگ اورغیر ..
سڈنی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 ستمبر ۔2026 ) آسٹریلیا نے امیگریشن میں کمی لانے کے لیے ویزا ہاپنگ کی روک تھام، طلبہ اور ورکنگ ہالی ڈے ویزا کے قوانین مزید سخت کرنے اور ویزا مدت ختم ہونے کے باوجود ملک میں قیام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے جمعرات کو کینبرا میں نیشنل پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امیگریشن آسٹریلیا کے لیے بنیادی طور پر ایک طاقت ہے، تاہم ملک میں رہائش کی بڑھتی ہوئی مشکلات کے باعث امیگریشن پالیسی میں تبدیلیاں ضروری ہوگئی ہیں.

(جاری ہے)

انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ حکمران لیبر پارٹی نے یہ اقدامات دائیں بازو کی جماعت ون نیشن کی مقبولیت میں اضافے کے باعث کیے ہیں ون نیشن رواں سال آسٹریلیا کی مقبول سیاسی جماعتوں میں شامل ہوئی ہے اور اس کی جانب سے امیگریشن میں بڑے پیمانے پر کمی لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے. ٹونی برک نے کہا کہ آسٹریلیا کو امیگریشن کی رفتار میں اتنی کمی لانے کی ضرورت ہے کہ ملک میں مکانات کی قلت کو پورا ہونے کا موقع مل سکے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ رہائش کے بحران کی وجہ تارکین وطن نہیں ہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وبا کے بعد آسٹریلیا کی سرحدیں دوبارہ کھلنے کے نتیجے میں ملک میں آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور 2022 میں خالص بیرون ملک ہجرت کی شرح 538,000 کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی.

جمعرات کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ختم ہونے والے سال کے دوران خالص بیرون ملک ہجرت کم ہو کر 292,100 رہ گئی، جو کورونا کے بعد کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں 47 فیصد کم ہے برک کے مطابق حکومت پالیسی میں تبدیلیوں کے ذریعے آئندہ سال خالص بیرون ملک ہجرت کو 225,000 تک لانے کا ہدف رکھتی ہے. انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت امیگریشن کو کنٹرول کررہی ہے، لیکن ساتھ ہی اس عمل میں انسانی اور مناسب رویہ بھی اختیار کیا جارہا ہے آسٹریلیا آنے والے افراد میں سب سے بڑا گروپ بین الاقوامی طلبہ کا ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریباً 753,000 بین الاقوامی طلبہ آسٹریلیا میں موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد چین اور بھارت سے تعلق رکھتی ہے.

وزیر داخلہ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت آسٹریلیا میں زیر تعلیم طلبہ کے خاندان کے افراد کے ملک میں داخلے پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی، جبکہ طلبہ کے لیے ایک کورس سے دوسرے کورس میں منتقل ہو کر آسٹریلیا میں قیام کی مدت بڑھانا بھی مشکل بنایا جائے گا برک نے بتایا کہ برطانیہ سے ورکنگ ہالی ڈے ویزوں کی ریکارڈ 80,000 درخواستوں کے بعد پیدا ہونے والے بیک لاگ کو بدستور سست رفتاری سے نمٹایا جائے گا انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر برطانوی حکومت سے بھی بات چیت جاری ہے.

دیہی علاقوں میں کام کرنے والے ورکنگ ہالی ڈے ویزا رکھنے والوں کو دوسرے یا تیسرے سال قیام کی اجازت کے لیے قرعہ اندازی کے عمل سے گزرنا ہوگا، جبکہ تیسرے سال کے لیے صرف 5,000 ویزے دستیاب ہوں گے آسٹریلیا میں موجود شہریوں سے ملاقات کے لیے آنے والے تارکین وطن کے خاندان کے افراد کے عارضی ویزوں پر”مزید قیام نہیں“ کی شرائط عائد کی جائیں گی.

حکومت نے اس کے ساتھ تعمیرات اور ہاﺅسنگ کے شعبے میں مہارت رکھنے والے تارکین وطن کو ویزے دینے میں ترجیح دینے کا بھی اعلان کیا ہے وزیر داخلہ نے کہا کہ آسٹریلیا ایک دہائی قبل اختیار کی گئی پالیسی کی طرف واپس جائے گا، جس کے تحت ویزا مدت ختم ہونے کے بعد ملک میں رہنے والے افراد کو دو ہفتوں کے اندر آسٹریلیا چھوڑنے کی ہدایت کی جائے گی، بصورت دیگر انہیں حراست میں لے کر ملک بدر کیا جاسکے گا.

انہوں نے بتایا کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کے لیے مزید 100 افسران تعینات کیے جائیں گے، جبکہ امیگریشن حراستی مراکز میں مزید 250 بستروں کا اضافہ کیا جائے گا برک نے تاہم واضح کیا کہ حکومت کی کارروائی ان سخت گیر امیگریشن آپریشنز جیسی نہیں ہوگی جو دوسرے ممالک، خصوصاً امریکا میں ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں 27.6 ملین آبادی والے آسٹریلیا کی تازہ مردم شماری کے مطابق ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی بیرون ملک پیدا ہوئی ہے.