درجہ حرارت بڑھنے کی اصل وجہ گرین ہاؤس گیسز کا پیدا ہونا ہے،پاکستان کا گرین ہاؤس گیسز کے عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے، ڈاکٹر مصدق ملک

جمعرات 24 ستمبر 2026 19:42

درجہ حرارت بڑھنے کی اصل وجہ گرین ہاؤس گیسز کا پیدا ہونا ہے،پاکستان ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے کی اصل وجہ گرین ہاؤس گیسز کا پیدا ہونا ہے، ہمارے پڑوس میں دنیا کی 40 فیصد گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہوتا ہے، دنیا کے تین ممالک 54 فیصد، 12 ممالک 70 فیصد تک گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کر رہے ہیں، پاکستان کا گرین ہاؤس گیسز کے عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے، پاکستان میں پچھلے پانچ سیلابوں میں 6 ہزار افراد جاں بحق، چار کروڑ افراد اپنے آبائی گھروں سے دربدر ہو چکے ہیں، دنیا کے جو ممالک متاثر ہو رہے ہیں ان کو کچھ نہیں مل رہا، یہ صرف گرین ہاؤس گیسز کا معاملہ نہیں یہ انصاف کا معاملہ ہے اور ہم دنیا سے انصاف مانگ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

جمعرات کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی زیادہ تباہی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہو رہی ہے جبکہ درجہ حرارت بڑھنے کی بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہے جس سے گلیشیئر پگھلتے ہیں اور دریاؤں میں پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی ڈسپلیسمنٹ اور دربدری بھی مائیگریشن کی ایک شکل ہے۔

وفاقی وزیر نے بلوچستان کے بارڈر پر رہنے والے ایک شخص اقبال سولنگی کی کہانی بیان کی جو پانچ یا چھ نسلوں سے اپنے گاؤں میں رہتے اور وہیں کھیتی باڑی کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کا سیلاب آیا تو سب کچھ بہا کر لے گیا اور وہ بے گھر ہو کر دربدر ہو گئے، وہ اپنے گاؤں سے نکل کر کراچی چلے گئے تاہم پانی اترنے کے بعد دوبارہ اپنے گاؤں واپس گئے، تباہ شدہ کھیت کو دوبارہ تیار کیا اور نئے سرے سے کھیتی باڑی شروع کی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ابھی کھیتی باڑی شروع ہی کی تھی کہ 2012 کا سیلاب آ گیا اور وہ پھر دربدر ہو گئے، کراچی منتقل ہونے کے بعد بھی صدیوں پر محیط وابستگی کے باعث دوبارہ اپنے گاؤں واپس گئے اور نئے سرے سے زندگی شروع کی تاہم چار، چھ سال بعد ایک اور بڑا سیلاب آیا جس نے پھر سب کچھ تباہ کر دیا۔ اس مرتبہ وہ واپس نہیں آئے اور سننے میں آیا کہ کراچی میں کہیں مزدوری کرتے ہیں۔

مصدق ملک نے کہا کہ غریب آدمی کے لئے تباہی کے بعد دوبارہ زندگی شروع کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس نہ سرمایہ رہتا ہے نہ کھیتی باڑی کا سامان اور نہ ہی مویشی، ایسے میں وہ دوبارہ زندگی کہاں سے شروع کرے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے پانچ سیلابوں میں تقریباً چھ ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 19 ہزار افراد زخمی یا بے گھر ہو چکے ہیں جو کام کرنے، اپنے بیوی بچوں کی دیکھ بھال کرنے اور بوڑھے والدین کی خدمت کرنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ کراس بارڈر مائیگریشن کی بات نہیں کر رہے بلکہ اس دربدری اور ڈسپلیسمنٹ کی بات کر رہے ہیں جسے غالباً مائیگریشن سمجھا ہی نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ چار کروڑ افراد کی یہ دربدری کسی مائیگریشن رجسٹر یا کتاب میں درج نہیں، یہ بے نام دربدری ہے جسے مائیگریشن بھی نہیں سمجھا جاتا۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جب لوگ ایک بستی سے نکل کر دوسری بستی جاتے ہیں تو ان کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ جھونپڑیوں میں آباد ہوتے ہیں وہاں سکول ہی نہیں ہوتا جبکہ بزرگ والدین کو لے کر جانے کے لئے وہ جگہیں اور سہولیات بھی باقی نہیں رہتیں جہاں وہ پہلے جاتے تھے۔ مصدق ملک نے کہا کہ ہمارے ہاں زیادہ تر تباہی موسمیاتی تبدیلیوں سے آ رہی ہے، جبکہ موسم کی تبدیلی زیادہ تر درجہ حرارت بڑھنے سے آ رہی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر پگھلتے ہیں اور دریاؤں، ندیوں اور پانی کے نظام میں اتنی مقدار اور رفتار سے پانی آتا ہے جس کے لئے وہ نظام بنائے ہی نہیں گئے۔

انہوں نے کہا کہ پانی اپنی حدود سے باہر نکل کر بستیاں بہا لے جاتا ہے، انفراسٹرکچر تباہ کر دیتا ہے، پل برباد کر دیتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج سے ہوتا ہے جن میں کوئلہ اور فوسل فیول جلانا شامل ہے، درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر پگھلتے ہیں اور دریا اس پانی کو سنبھال نہیں پاتے جس سے تباہی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا سے اپنے بچوں اور اقبال سولنگی کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں۔ مصدق ملک نے کہا یہ معاملہ صرف گرین ہاؤس گیسز اور گلیشیئرز کے پگھلنے کا نہیں، یہ انصاف اور سماجی مساوات کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پانی کو جب مرضی بہایا اور جب مرضی روکا جائے تو پوری دنیا میں بے ترتیبی پیدا ہو سکتی ہے اور افریقہ اور لاطینی امریکہ سمیت ہر جگہ اقبال سولنگی جیسی کہانیاں سنائی جا سکتی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ دنیا کا اچھا خاکہ نہیں جس میں نہ انصاف ہے، نہ حقوق ہیں، نہ کلائمیٹ کا احترام ہے بلکہ صرف تباہی ہے جس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلیں گے۔