مہنگائی آسمان پر، سبزیاں،پھل،دالیں عوام کی پہنچ سے باہر

پیر 28 ستمبر 2026 20:45

ئ*جڑانوالہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 ستمبر2026ء) پاکستان کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ عام آدمی سے لے کر تنخواہ دار طبقے تک محدودنآمدنی کے ساتھ کچن کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ مہنگائی کے نہ تھمنے والے طوفان نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بجٹ میں اضافہ کیا گیا تاہم نجی اداروں کے ملازمین اس سے بھی محروم ہیں۔ مہنگائی کے باعث تنخواہ پہلے اور مہینہ بعد میں ختم ہوجاتا ہے۔دالیں اور موسمی سبزیاں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں جبکہ پھل اور گوشت خریدنا مشکل ہوگیا۔چھوٹا گوشت 3000روپے، بڑا گوشت بغیر ہڈی کے 1800روپے اور مرغی کا گوشت 560روپے کلو فروخت کیا جارہا۔

(جاری ہے)

پیاز 220، ٹماٹر 180، ادرک 400، لہسن 400، مٹر 450، بھنڈی 260، کدو 180، بینگن 220، سبز توری 180، کریلے 220، شملہ مرچ 350، ٹینڈا 200اور آلو 40روپے کلو فروخت ہورہے ہیں۔پھلوں میں سیب گاجا درجہ اول 300، امرود 250، انگور 500، آڑو 400، کھجور ایرانی 600روپے کلو جبکہ کیلے 200اور مٹھا 180روپے درجن فروخت ہورہے ہیں۔ شیور انڈے 260روپے درجن فروخت کیے جارہے ہیں۔گھی درجہ اول 650روپے کلو تک پہنچ گیا، تازہ دودھ 260روپے، پیکٹ کا دودھ 400روپے لٹر جبکہ تازہ کھلا دہی 280روپے کلو فروخت ہورہا ہے۔

ایل پی جی بھی 480روپے کلو کردی گئی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کے ساتھ آن لائن سروس بھی مہنگی کردی گئی۔ ملبوسات، جوتے اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بھی کم وبیش 80فیصد مہنگی ہوگئی ہیں۔ڈھابوں اور چھپر ہوٹلوں پر دودھ پتی 120، سادہ چائے 80اور 100روپے میں دی جارہی ہے۔ دال سبزی دو روٹیوں کیساتھ ایک وقت کا کھانا بھی غریب کے لیے 250روپے سے کم نہیں رہا۔ انٹر سٹی، بین الاضلاعی اور بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ مہنگائی کی شرح بڑھ رہی ہے مگر تنخواہوں میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں کیا گیا