Live Updates

امریکی افواج کا 23 سال بعد عراق میں مشن آج مکمل، انخلا کر لیا

اس صورتِ حال سے ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کو تقویت مل سکتی ہے،ماہرین

بدھ 30 ستمبر 2026 17:20

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 ستمبر2026ء) امریکی افواج نے عراق میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط جنگ کے بعد اپنا مشن ختم کر دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق سے امریکی افواجی انخلا کے بعد سیکیورٹی خلا پیدا ہونے کے خدشات بڑھ گئے ۔ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس صورتِ حال سے ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کو تقویت مل سکتی ہے اور داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

آخری امریکی فوجیوں کی واپسی کو تہران اور اس کے اتحادیوں نے فتح کے طور پر پیش کیا، تاہم متعدد عراقی شہریوں کو تشویش ہے کہ ان کی اپنی سیکیورٹی فورسز ملک کی حفاظت کی ذمے داری سنبھالنے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں۔واضح رہے کہ امریکی افواج کے انخلا پر 2024 میں جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں اتفاق کیا گیا تھا، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایسے وقت میں عمل درآمد کیا جب وہ پڑوسی ملک ایران کے خلاف جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

یہ انخلا امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج کی جانب سے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے 23 سال بعد عمل میں آیا ہے، جس کے بعد عراق میں کئی برس تک بدامنی اور انتشار جاری رہا۔امریکی فوجی ابتدائی طور پر 2011 کے اختتام پر عراق سے نکل گئے تھے، تاہم 3 سال سے بھی کم عرصے بعد اس وقت واپس آئے جب داعش کے جنگجوں نے عراق کے تقریبا ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔امریکا کی اس صدی کی سب سے بڑی جنگ میں ساڑھے 4 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جو افغانستان میں لڑی جانے والی متوازی جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سے تقریبا دوگنا ہے۔عراق باڈی کانٹ منصوبے کے مطابق عراق میں 2 لاکھ سے زائد شہری بھی مارے گئے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات