حکومت کے رویے سے آئندہ مذاکرات کی گنجائش کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے،مولانافضل الرحمن

ہم مذاکرات کے عمل سے اصولی طور پر اختلاف نہیں کرتے، سب برابر کے پاکستانی ہیں، کسی کی وفاداری مشکوک قرار نہیں دی جا سکتی ،سربراہ جے یوآئی لانگ مارچ اور احتجاج سیاسی و جمہوری حق ہے، اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو اصولی طور پر اسے اجازت ہونی چاہیے،پریس کانفرنس مولانا صاحب نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کر دیا ہے،اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس کی گفتگو

منگل 6 اکتوبر 2026 22:45

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 اکتوبر2026ء) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کے رویے سے آئندہ مذاکرات کی گنجائش کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جمہوری اور سیاسی قوتیں مذاکرات پر یقین رکھتی ہیں، ہم مذاکرات کے عمل سے اصولی طور پر اختلاف نہیں کرتے، سب برابر کے پاکستانی ہیں، کسی کی وفاداری مشکوک قرار نہیں دی جا سکتی ،لانگ مارچ اور احتجاج سیاسی و جمہوری حق ہے، اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو اصولی طور پر اسے اجازت ہونی چاہیے جبکہ اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاہے کہ مولانا صاحب نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کر دیا ہے۔

منگل کواپوزیشن کے وفد کی سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی، اپوزیشن کے وفد میں علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے،جے یو آئی کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضیٰ سمیت دیگر قائدین بھی شریک تھے۔

(جاری ہے)

ملاقات کے اپوزیشن رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے مختصر ملاقات ہوئی، ملک کی سیاسی صورتحال عدم توازن کا شکار ہے جبکہ حکومت کا حزب اختلاف کے ساتھ رویہ بھی ہمارے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات سیاسی لب و لہجے میں ہونے چاہئیں اور پس پردہ قوتوں کی مداخلت کے بغیر بات چیت آگے بڑھنی چاہیے۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہاکہ مذاکرات کچھ لینے اور کچھ دینے کی بنیاد پر ہی نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں، حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز دی گئی ہے، جس پر وہ اپنی جماعت سے مشاورت کریں گے، اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس تجویز پر تفصیلی غور کرنا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تو تمام جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ ایجنڈا اور لائحہ عمل سامنے آنا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی معاملات میں میانہ روی پیدا ہو اور قومی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔انہوںنے کہاکہ ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں، کسی کی وفاداری مشکوک قرار نہیں دی جا سکتی، ہم آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے مفاد میں آگے بڑھیں گے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ لانگ مارچ اور احتجاج سیاسی و جمہوری حق ہے، اگر پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو اصولی طور پر اسے اجازت ہونی چاہیے۔دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملکی معاشی اور امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں ہے، سیاستدان مسائل کا حل نکالتے ہیں، ہم نے مولانا فضل الرحمان کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے، مولانا صاحب کی طرح ہم بھی ایک متفقہ ایجنڈے کے متقاضی ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاہک ہم سب پاکستان کے بیٹے ہیں، وطن کی مشکلات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، جو ایجنڈا مشاورت سے بنے گا اس میں پورے پاکستان کے مسائل کا حل ہو گا، ہم سب مل کر مشترکہ سیاسی جدوجہد کریں گے، جہاں سیاسی عمل روک دیا جائے وہاں انتہا پسند رویے پروان چڑھتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مولانا صاحب نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کر دیا ہے، مولانا کے مطابق کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں۔