وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 37 واں اجلاس

کونسل نے متفقہ طور پر پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری دیدی ،وزیراعظم اور چاروں وزراء اعلیٰ نے ’’پاکستان واٹر چارٹر‘‘ پر دستخط بھی کئے

منگل اپریل 20:18

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل اپریل ء) مشترکہ مفادات کونسل نے متفقہ طور پر پاکستان کی پہلی آبی پالیسی کی منظوری دیدی ہے جبکہ وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سطح کے ادارہ ’’قومی واٹر کونسل‘‘ کے ذریعے پالیسی پر عملدرآمد اور نگرانی کی جائے گی، وزیراعظم اور چاروں وزراء اعلیٰ نے ’’پاکستان واٹر چارٹر‘‘ پر دستخط بھی کئے۔

مشترکہ مفادات کونسل کا 37 واں اجلاس منگل کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف، وزیر اعلیٰ سندھ سیّد مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک ، وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، وفاقی وزراء اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز نے مشترکہ مفادات کونسل کو قومی آبی پالیسی مسودہ کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ پالیسی تمام بڑے فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور ایک قومی سطح کا مشاورتی سیمینار بھی اتفاق رائے وضع کرنے کیلئے منعقد کیا گیا۔ مشترکہ مفادات کونسل کے 36 ویں اجلاس میں پیش کردہ تجاویز کو پالیسی میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے آبی استعمال اور ترجیحات کے تعین، آبی وسائل کی ترقی اور استعمال کیلئے مربوط منصوبہ بندی، طاس کی ماحولیاتی ہم آہنگی، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات، پانی کے حصے، آبپاشی اور بارش کے پانی پر منحصر زراعت، پینے کے صاف پانی اور سینی ٹیشن، پن بجلی، صنعت، زمینی پانی، آبی حقوق و ذمہ داریاں، پائیدار آبی ڈھانچہ، پانی سے متعلق مسائل، کوالٹی مینجمنٹ، آگاہی اور تحقیق، تحفظ کے انتظامات، قانونی فریم ورک اور آبی شعبہ کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے سمیت قومی آبی پالیسی کے خدوخال کے بارے میں وضاحت کی۔

مشترکہ مفادات کونسل کو بتایا گیا کہ ’’قومی واٹر کونسل‘‘ کے نام سے قومی سطح کے ادارہ کے ذریعے قومی آبی پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے گا جس کی صدارت وزیراعظم کریں گے اور وفاقی وزراء برائے آبی وسائل، خزانہ، بجلی، منصوبہ بندی و ترقی اور تمام وزراء اعلیٰ اس کے ارکان ہوں گے۔ قومی آبی کونسل قومی آبی پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی اور وفاقی وزیر آبی وسائل کی سربراہی میں ایک سٹیئرنگ کمیٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کے نمائندوں کے ساتھ عملدرآمد کی مانیٹرنگ کرے گی۔

مشترکہ مفادات کونسل نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور وزارت آبی وسائل کی کاوشوں کو سراہا اور پاکستان کیلئے پہلی قومی آبی پالیسی کی متفقہ طور پر منظوری دیدی۔ خیبرپختونخوا کی حکومت نے خالص ہائیڈل منافع جات کے تخمینہ کیلئے قاضی کمیٹی طریقہ کار پر عملدرآمد کے بارے میں آگاہ کیا۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد مشترکہ مفادات کونسل نے وزارت بین الصوبائی رابطہ، پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور وزارت آبی وسائل کو صوبوں کے ساتھ مشاورت سے کلیمز کو ہم آہنگ کرنے اور مشترکہ مفادات کونسل کے آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیلئے اس معاملہ کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں ایک سادہ تقریب میں وزیراعظم نے چاروں وزراء اعلیٰ کے ہمراہ پاکستان واٹر چارٹر پر دستخط کئے جس میں قومی آبی پالیسی سے وابستگی کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Your Thoughts and Comments