سعودی عرب اور ایران کی دشمنی کی اصل وجہ کیا ہے ؟؟

بدھ اپریل 15:22

ریاض (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ بدھ اپریل ء) سعودی عرب کے سرکاری حکام اور خاص طور پر ریاست کے طاقتور شہزادے محمد بن سلمان اکثر ایران کو سعودی عرب کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی گھریلو سیاست کی بنیادوں پر چل رہی ہے ۔ شہزادہ محمد اس حقیقت سے بہت اچھے سے واقف ہیں کہ ایک خوفنا ک دشمن انکی اپنی طاقت کو بڑھاوا دے رہا ہے اور آئندہ بھی دے گا۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان یہ کشیدگی دہائیوں سے چلی آ رہی ہے ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نیو یارک ٹائمز کے اداریے میں دعوی کیا گیا ہے کہ شہزادہ محمد سلمان ایران کے ساتھ سعودی عرب کی رقابت کو مزید بڑھانے کے لیے پُر عزم نظر آتے ہیں اور ہمیشہ سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے خدشات کو بڑھاتے رہتے ہیں کہ ایران بہت جلد عرب دنیا کے ساتھ ساتھ باقی دنیا میں بھی خود کو پھیلا لےگا۔

(جاری ہے)

ایران اور سعودی عرب تنازعے کی جڑیں ہمیشہ سے گھریلو سیاست سے جڑتی نظر آئی ہیں۔ شہزادہ سلمان اپنی گھریلو سیاست کی کمیوں کو چھپانے کے لیے تہران تنازعے پر بات کرتے نظر آتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہی بات ایران کے معاملے میں بھی درست ہو ۔ 1979 ء میں ایرانی انقلاب کے بعد، ایران نے انقلابی اسلام کو پھیلانے کے بعد دن رات کوشش شروع کر دی تھی ۔

جب سے ایران ایک اسلامی جمہوریہ ریاست بنا ہے تب سے سُنی اسلام پسند شیعہ اسلام پسندوں سے نہ صرف حسد کرتے ہیں بلکہ تب سے انہوں نے دنیا میں اپنے نظریہِ اسلام کو پھیلانے کے لیے کوششوں میں مزید تیزی لانا شروع کر دی ہے ۔ سعودی عرب نے افریقہ ، ایشاء اور حتیٰ کہ یورپ میں وہابی اسلام کی تبلیغ کی ۔ دونوں ممالک ایران اور سعودی عرب دہائیوں سے شیعہ اور سُنی اسلام کی کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کا حصہ بن گئے ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال مختلف ہے ۔ شہزادہ محمد بن سلمان ایران کو دنیا سے الگ تھلگ رکھنے میں مصروف ہیں تاکہ اُنکی گھریلو سیاست چیلنجوں سے محفوظ رہے ۔

Your Thoughts and Comments