قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس صبح ہوگا،ترجمان پاک فوج

وزیراعظم کوممبئی حملوں پرمتنازع بیان کا جائزہ لینےکامشورہ دیا،ممبئی حملوں سےمتعلق میڈیا پرجوبیانات آئے وہ حقائق کے منافی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

اتوار مئی 19:30

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء): پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل صبح ہوگا،وزیراعظم کوممبئی حملوں پرمتنازع بیان کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا گیا ،ممبئی حملوں سے متعلق میڈیا پرجوبیانات آئے وہ حقائق کے منافی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق ترجمان پاک فوج نے ممبئی حملوں پربیانات پرردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کوممبئی حملوں پرمتنازع بیان کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس کل صبح ہوگا۔اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق گمراہ کن بیانات کا جائزہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں سے متعلق میڈیا پرجوبیانات آئے وہ حقائق کے منافی ہیں۔

(جاری ہے)

واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے گزشتہ روز انگریزی قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے عسکریت پسندوں نےہندوستان میں جاکر ممبئی حملے کیے۔

جس میں ایک سوپچاس لوگ ہلاک ہوئے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ابھی تک عدالتوں میں انکوائری چل ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے معاملات کو ٹھیک کرنے کیلئے ایک حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت تین متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔ نوازشریف کے پاکستان مخالف بیان پرسکیورٹی اداروں نے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کے ممبئی حملوں کے بیان پروزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے کل نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کوفیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کے ساتھ ہیں یاپھرکرپٹ نوازشریف کے ساتھ ہیں۔سی ای سی میں نوازشریف کی ضد تھی کہ چیئرمین نیب کے خلاف ریفرنس لایا جائے۔ذرائع نے بتایا کہ نوازشریف چاہتے ہیں چیئرمین نیب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں۔نوازشریف قومی استحکام کی قیمت پربھی نیب کاروائی روکنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا ملک مخالف بیان اداروں کودباؤ میں لانے کیلئے تھا۔نوازشریف ملک مخالف قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اسی طرح ن لیگ کی مخالف اور ن لیگی رہنماؤں نے بھی نوازشریف کے بیان پرتشویش کا اظہار کیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Your Thoughts and Comments