ہارون رشید کی100روزہ پروگرام پیش کرنےپرشاہ محمود قریشی پرتنقید

بات کرنےکا سلیقہ ہونا چاہیے،شاہ محمود قریشی کوکھڑا کرنےکامطلب یہ ہےکہ ایک انتہائی فلاپ ایکٹرکوفلم کا ہیرو بنا دیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

اتوار مئی 22:19

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء): سینئر تجزیہ کار ہارون رشید نے پی ٹی آئی کا 100روزہ پروگرام پیش کرنے پرشاہ محمود قریشی کو تنقید کا نشانہ بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ بات کرنے کا سلیقہ ہونا چاہیے،شاہ محمود قریشی کو کھڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک انتہائی فلاپ ایکٹر کو فلم کا ہیرو بنا دیں۔مطلب دس کروڑ روپے لگا کروہ فلم فلاپ توہوگی۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی کے 100دن کا پروگرام پیش کرنے کیلئے سو طریقے تھے۔ لیکن بولنے اور لکھنے والے کو حق نہیں ہے ان کو ایسے کہے۔اس پروگرام کو مختصر پیش کرنا ہوتا ہے ۔جبکہ تفصیل بعد میں پریس ریلز میں بھی جاری کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو کھڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک انتہائی فلاپ ایکٹر کو فلم کا ہیرو بنا دیں۔

(جاری ہے)

مطلب دس کروڑ روپے لگا کروہ فلم فلاپ توہوگی۔انہوں نے شاہد محمود قریشی کی نسبت اسد عمر اچھی گفتگو کرتے ہیں۔ ہم تواللہ کے فضل سے سنتے ہیں نہیں ،ہم تو بعد میں اس کی صرف جھلکیاں دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بات کرنے کا سلیقہ ہونا چاہیے۔جیسے دنیا کے سب سے اچھے لیڈر ابراہم لنکولن ہیں۔ واضح رہے آج اسلام آباد میں حکومت کے قیام کے بعد پہلے سو دن کا پلان جاری کرنے کے مقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک وقت تھا پیپلزپارٹی وفاق کی جماعت تھی ن لیگ بھی پنجاب کے ایک حصے کی جماعت بن کر رہ گئی ہے تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو وفاق کی نمائندگی کرتی ہے ہم فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں گے بلوچستان کو احساس محرومی سے نکالیں گے بلوچستان کو مین اسٹریم میں لائیں گے پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے جنوبی پنجاب صوبہ بنائیں گے فاٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فاٹا کا پختونخوا میں انضمام فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کیلئے قانون سازی جلدکی جائے گی فاٹا کی تعمیر و ترقی کیلئے ایک بڑے منصوبے (میگا پراجیکٹ) پلان کا آغاز کیا جائے گا اور فاٹا میں باقی تمام قوانین کو لاگو کرنیکا آغاز کیا جائیگا۔

بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہمارے منشور میں ہے کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر سیاسی مفاہمت کی کوششیں شروع کی جائے گی اور اس مقصد کیلئے صوبائی حکومت کو بااختیار بنایا جائے گا اس کے ساتھ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں خصوصاً گوادر میں جاری ترقیاتی عمل میں مقامی آبادی کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی انتظامی بنیادوں پر صوبہ جنوبی پنجاب کا قیام جنوبی پنجاب میں بسنے والے تین کروڑ پچاس لاکھ لوگوں کو غربت کی دلدل سے نکالنے اور صوبوں کے مابین انتظامی توازن قائم کرنے کے بنیادی مقاصد کے تحت صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کیلئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا کراچی کی بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی کی بہتری کیلئے خصوصی منصوبہ لایا جائے گا جس میں بہتر انتظامات ، سیکیورٹی ، انفراسٹرکچر، گھروں کی تعمیر ، ٹرانسپورٹ کا نظام ،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور پینے کے صاف پانی جیسی سہولیات مہیا کی جائیں گی پاکستان کے غریب ترین اضلاع کیلئے غربت میں کمی کی تحریک کا آغازپنجاب، سندھ ، پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ اور غریب ترین اضلاع سے غربت کے خاتمے کیلئے جاری کاوشوں کو تقویت دینے کیلئے خصوصی پلان تیار کیا جائے گا احتساب عمران خان کی حکومت کا اہم ستون ہوگا تحریک انصاف کی حکومت نیب کو مکمل خود مختاری دے گی بیرون ملک چوری شدہ قومی دولت واپس لانے خصؤصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی بازیاب کرائی گئی دولت قرضوں کی آدائیگیوں اور غربت میں کمی کیلئے استعمال کی جائے گی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک اور با اختیار بنایا جائیگا زیر التوا مقدمات کے خاتمے کیلئے ہائی کورٹس کی مشاورت سے جوڈیشل ریفارمز پروگرامز لایا جائیگا بدھ کو فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا بل پیش ہوگابل تحریک انصاف کی سوچ کا عکاس ہوگاحکومت میں آنے کے بعد ایک میگا ڈیولپمنٹ پلان بنائیں گے ایف سی آر کو فاٹا سے ختم کریں گے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب 11 اضلاع پر مشتمل ہے جنوبی پنجاب کو خود مختار اکائی کا درجہ دیں گے مسلم لیگ ن کا یہ چھٹا اقتدار ہے ن لیگ نے وعدے کرکے وفا نہیں کیے یہاں غربت بہت ہے مجھے مسلم لیگ ن کی نیت پر شک ہے انہوں نے ہمیشہ دھوکہ دیاکراچی کے لئے پیکج دیا جائے گاکراچی میں ٹرانسپورٹ سسٹم بہتر کیا جائیگالوگوں کو سستے گھر دیے جائیں گے جرائم کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے شہر اقتدار میں گورننس کو بہتر بنائیں گے۔

Your Thoughts and Comments