Dengue Bukhar - Article No. 2301

ڈینگی بخار - تحریر نمبر 2301

جمعرات 18 نومبر 2021

Dengue Bukhar - Article No. 2301
نمرہ مختار
ڈینگی بخار دنیا بھر میں مچھروں سے سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے اور یہ 4 اقسام کے ڈینگی وائرسز کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس وقت مختلف شہروں میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 40 کروڑ افراد کو ڈینگی انفیکشنز کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے 9 کروڑ 60 لاکھ افراد بیمار ہوتے ہیں۔

ڈینگی بخار مچھروں کی ایک قسم Aedes کے کاٹنے سے ہوتا ہے اور کاٹنے کے بعد خون میں وائرس کو منتقل کر دیتا ہے۔مگر یہ بیماری ایک سے دوسرے فرد میں براہ راست نہیں پھیل سکتی۔
بخار کئی طرح کے ہوتے ہیں ان کے نام بھی الگ الگ ہیں اور علامات بھی مختلف ہوتی ہیں اور ان کے علاج بھی مختلف طریقوں سے کئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

آج ہم آپ کو ڈینگی کے بارے میں معلومات دے رہے ہیں۔

آج کل ڈینگی فیور بہت عام ہے۔اس لئے آپ کیلئے اس کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے تاکہ اس کی علامات کو اچھی طرح سمجھ کر اور ممکنہ بچاؤ کی تدابیر اختیار کرکے اپنے گھرانے کو اس خطرناک بیماری سے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔
ڈینگی ایک خطرناک اور جان لیوا وائرس ہے جو مادہ مچھر (Aedes Albopictus) کے باعث پھیلتا ہے۔اس مچھر کے جسم پر سفید اور سیاہ دھبے سے ہوتے ہیں۔

ڈینگی وائرس کا حامل مچھر صاف پانی میں انڈے دیتا ہے۔مون سون کا موسم ان کی افزائش کیلئے بہترین ہے اس عرصے کے دوران ڈینگی کثرت سے پھیلتا ہے اور بعض اوقات وبائی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
ڈینگی وائرس کی چار اقسام ہیں:
DEN4.DEN3.DEN2.DEN1
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈینگی کی علامات کیا ہیں؟کیسے معلوم کیا جائے مریض ڈینگی بخار کا شکار ہے۔


ڈینگی بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے۔
اس کی علامات کچھ اس طرح سے ہو سکتی ہیں۔
اس میں ہڈیوں اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے۔
تیز بخار،فلو،متلی،اُلٹی کی کیفیت ہوتی ہے۔
جگر کی سوزش بھی اس کی علامات میں سے ایک علامت ہو سکتی ہے۔
بعض اوقات اس کی علامات اتنی معمولی ہوتی ہیں کہ بیماری کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔


ڈینگی بخار کا پہلا حملہ معمولی علامات کے ساتھ گزر جاتا ہے اسے پرائمری انفیکشن کہتے ہیں۔سیکنڈری انفیکشن بہت شدید ہوتا ہے۔دوبارہ انفیکشن کے باعث بڑوں میں آنتوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔آنتوں کی باریک شریانوں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔ڈینگی انفیکشن بار بار ہونے کی صورت میں یہ بگڑ کر ”ڈینگی ہیمریجک فیور“ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

بعض اوقات مریض کے جسم پر نیل پڑ جاتے ہیں۔یہ صورتحال زیادہ خراب ہو جائے تو مریض کوما میں چلا جاتا ہے۔اسے ”ڈینگی شاک سینڈ روم“ کہتے ہیں ایسے وقت میں اگر مریض کو بروقت طبی امداد مہیا نہ ہو تو وہ موت کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ ڈینگی فیور کی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے۔یہ معلوم کرنے کیلئے کہ آیا مریض اس بیماری کا شکار ہے یا نہیں CBC یعنی Complete Blood Count کا ٹیسٹ کروایا جاتا ہے اور اس کی تصدیق کیلئے Dengue Antigen اور Dengue Antributics کے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں ان کے علاوہ PCR اور Immunoblot جیسے ٹیسٹوں سے بھی اس بیماری کی تشخیص ہو سکتی ہے۔

جگر پر سوزش کی وجہ سے CBS اور WBC اور زرد خلیوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اگر کہیں خون بہنا شروع ہو جائے تو HB یعنی ہیموگلوبن کی مقدار میں بھی کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔زرد خلیوں کی کمی کی وجہ سے مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔اگر ان کی تعداد 20 ہزار سے کم ہو جائے تو جریان خون کے خطرے کو ٹالنے کیلئے Platelets کی فوری اور اشد ضرورت ہوتی ہے۔


جہاں تک ڈینگی فیور کے علاج کا تعلق ہے تو یہ ایک وائرل انفیکشن ہے اس لئے اس میں علامات کو جانچنا بے حد ضروری ہوتا ہے اور انہی علامات کو دیکھ کر علاج کیا جاتا ہے۔یعنی بخار اور درد کیلئے گولیاں دی جاتی ہیں۔
اگر خون بہنے کا اندیشہ ہو تو زرد خلیے لگائے جاتے ہیں۔
اگر شاک سینڈ روم ہے تو Nerves یعنی نسوں کے ذریعے سے مریض Liquids یعنی معائعات دیئے جاتے ہیں۔

ڈینگی بخار کے بارے میں معلومات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بیماری سے بچاؤ کے طریقے کیا ہیں۔کیا اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ڈینگی فیور سے بچنا ہی سب سے بہترین طریقہ ہے۔اس کیلئے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔
مثلاً:
اپنے گھر اور ماحول سے ڈینگی مچھر کا خاتمہ کیا جائے۔
محلوں میں مسلسل مچھر مار اسپرے کیا جائے تاکہ ان مچھروں کی نسل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
بچوں کو ایسے کپڑے پہنائے جائیں جس سے ان کا پورا جسم ڈھانپا رہے۔
اپنے گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں پر باریک جالی لگائی جائے تاکہ مچھروں کا گھر میں داخلہ روکا جا سکے۔پینے اور استعمال کے پانی کو ڈھک کر رکھا جائے۔ان باتوں پر عمل کرکے ہی ڈینگی جیسی جان لیوا اور خطرناک بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-11-18

Your Thoughts and Comments