Dengue Virus Ke Hamle - Article No. 2330

ڈینگی وائرس کے حملے - تحریر نمبر 2330

بدھ 22 دسمبر 2021

Dengue Virus Ke Hamle - Article No. 2330
عمران سجاد
دنیا بھر میں ڈینگی وائرس پہلے بھی کروڑوں انسانوں کو شکار بناتا آیا ہے،تاہم پچھلے چند ہفتوں میں یہ رفتہ رفتہ پاکستان بھر اور خاص طور پر صوبہ سندھ میں پھر شدت اختیار کر رہا ہے۔اس وائرس کے پھیلاؤ کے باعث مریضوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔اس کا پرانا نام ہڈی توڑ بخار تھا۔یہ مرض نیا نہیں ہے،بلکہ اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

اس مرض کے وبائی شکل میں پھیلنے کا ذکر سترھویں صدی کی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک ارب سے زیادہ افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہیں۔کئی ممالک جن میں پیراگوئے،وینز ویلا،پیرو،میکسیکو،کولمبیا،برازیل،،بولیویا،ایل سلواڈور،پاکستان اور بھارت شامل ہیں،اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈینگی مچھر 1980ء میں تھائی لینڈ سے پاکستان پہنچا تھا۔

تھائی لینڈ سے پرانے ٹائروں کا کاروبار کرنے والے افراد اسے پاکستان لانے کا ذریعہ بنے تھے۔ڈینگی مچھر 100 کلو میٹر سے زیادہ فاصلے کا سفر طے نہیں کر سکتا،البتہ اس مرض کا کیریئر 10 ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرکے بھی اسے وہاں پہنچا سکتا ہے،یعنی اس وائرس کو وہاں منتقل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈینگی وائرس صرف مادہ مچھر (Aedes Aegypti) کے کاٹنے سے اس کے لعاب دہن کے ساتھ انسان کے جسم میں داخل ہوتا ہے۔

نر مچھر پھولوں اور پتوں وغیرہ پر گزارا کرتے ہیں۔یہ مچھر گندے پانی پر پرورش پانے کے بجائے صاف پانی کے ذخیرے پر پلتے ہیں۔مادہ مچھر انڈے دیتی ہے،جو سال بھر تک خشک جگہ پر بھی زندہ رہتے ہیں۔اگر مادہ مچھر کے جسم میں ڈینگی وائرس ہے تو انڈے میں بھی وائرس ہو گا۔جب ان انڈوں کو پانی یا نم جگہ مل جائے تو یہ تعدیہ (انفیکشن) پھیلانے والے بڑے مچھر بن جاتے ہیں۔

پلاسٹک کی گیلی تھیلیوں کا ذخیرہ بھی ان کی افزائش کی بہترین جگہ ہے۔مشروبات کی بوتلوں کے ڈھکنوں اور قابلِ تلف (Disposable) بوتلوں اور جوس کے خالی ڈبوں میں بھی یہ پروان چڑھتے ہیں۔اسی طرح گھروں میں پانی کے پودے جو بوتلوں میں لگائے جاتے ہیں،ان میں بھی ان کی افزائش ہو سکتی ہے۔گھروں میں ڈبلیو سی (Water Closet) اور اس کے کناروں میں موجود گڑھوں میں بھی ان مچھروں کی افزائش کے شواہد موجود ہیں۔

ایئر کنڈیشنر سے گرنے والا پانی بھی ان کی پرورش میں مدد دے سکتا ہے۔ان مچھروں کے بچے صاف پانی میں ایک ماہ تک بغیر غذا کے زندہ رہ سکتے ہیں۔یہ مچھر درختوں کے سوراخوں میں اور گیلے پتوں پر بھی پروان چڑھتے ہیں۔
دنیا بھر میں ڈینگی کا مچھر دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد ٹائر کی صنعت اور سیاحوں کے ذریعے پھیلا ہے۔گھر میں پانی کی ٹنکی میں جانے والے پائپ کے سوراخ میں نمی کی جگہ بھی یہ مچھر پروان چڑھ سکتے ہیں۔

مسجدوں کے طہارت خانوں میں موجود لوٹوں میں بھی یہ پرورش پا سکتے ہیں۔ڈینگی وائرس مشرقی ایشیا کے ممالک انڈونیشیا،ملائیشیا اور سنگاپور وغیرہ میں عام ہے۔
ڈینگی وائرس دراصل متاثرہ مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔یہ مادہ مچھر عام طور پر صبح یا شام کے وقت انسان کو کاٹتی ہے،یہ بے آواز ہوتی ہے،اس لئے پتا ہی نہیں چلتا۔ماہرین کہتے ہیں کہ سالانہ دس کروڑ سے زیادہ افراد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور دنیا کی آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ اس وائرس سے متاثر ہوتا ہے۔

ڈینگی وائرس کی علامات حسب ذیل ہیں:تیز بخار،فلو،گلے میں خراش،جسم پر سرخ دھبے،بے چینی اور سردی لگنا،سر میں شدید درد،آنکھوں کے پچھلے حصے میں درد،جوڑوں اور پٹھوں میں درد،اُبکائیاں اور قے شامل ہیں۔اگر مذکورہ علامات یا ان میں سے چند بھی کسی شخص میں نظر آرہی ہوں تو فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہیے یا پھر مریض کو ہسپتال میں داخل کر دینا چاہیے،تاکہ اس کی دیکھ بھال اور مرض کی تشخیص صحیح طریقے سے ہو سکے۔


لیبارٹری میں مریض کے خون کا مکمل ٹیسٹ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔اس ٹیسٹ میں مریض کے خون میں موجود تشتریوں (Platelets) کی تعداد چیک کی جاتی ہے۔خون کی نارمل رپورٹ میں 40 سے 50 ہزار تشتریاں نظر آجاتی ہیں،لیکن بعض مریضوں میں 15 سے 20 ہزار تک ہوتی ہیں۔اصل میں ہمارے جسم میں کروڑوں چھوٹی چھوٹی خون کی تشتریاں ہیں،جن میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی رہتی ہے۔یہ پنکچر کا کام کرتی ہیں اور خون بہنے سے روکتی ہیں۔

تشتریوں کی زندگی دس روز ہوتی ہے۔یہ ہڈیوں کے گودے میں تیار ہوتی ہیں۔ڈینگی وائرس (ڈینگی کا وائرس Flavivirus کہلاتا ہے) سے شدید متاثر مریضوں کے جسم میں تشتریاں کم ہو جاتی ہیں،لہٰذا ڈاکٹر اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مریض کو مطلوبہ تشتریاں فراہم کرتے ہیں۔بلا ضرورت تشتریاں دینے سے مریض کے جسم میں ردعمل (Reaction) ہو سکتا ہے،جو آگے چل کر مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

ان تشتریوں کو ریفریجریٹر میں رکھا جاتا ہے،تاکہ یہ ہر وقت پلتی رہیں،ورنہ یہ جم جاتی ہیں اور فائدہ مند نہیں رہتیں۔
ڈینگی بخار کے خوف سے مریض کے والدین،رشتے دار اور دوست احباب بہت متاثر ہوتے ہیں۔مریض کی حالت جتنی خراب ہوتی ہے، اس سے زیادہ ان کے قریب رہنے والے لوگ پریشان ہوتے ہیں،لیکن اس ضمن میں لوگوں کو گھبرانا یا خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔

جدید طبی تحقیقات کے مطابق عام ڈینگی بخار خطرناک نہیں ہوتا اور کم و بیش ایک سے دو ہفتوں میں مناسب دیکھ بھال اور علاج سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔البتہ دو صورتوں میں ڈینگی بخار انتہائی پیچیدگیاں اور شدید خطرناک صورت اختیار کر لیتا ہے۔پہلی صورت میں ڈینگی بخار کے مریض کو اگر مادہ مچھر دوبارہ کاٹ لے تو وہ ڈینگی ہیمرہیجک فیور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اس بخار میں جسم کی چھوٹی رگوں کے پھٹنے سے ناک اور مسوڑوں سے خون خارج ہونے لگتا ہے۔دوسری میں مریض ڈینگی شاک فیور کا شکار ہو جاتا ہے۔اس بخار میں مریض پر ڈینگی کی دہشت یا خوف و ہراس طاری ہو جاتا ہے،لیکن مذکورہ بخاروں کی شرح پوزیٹو مریضوں (وہ مریض جنہیں ڈینگی بخار تشخیص ہو جاتا ہے) میں تین سے پانچ فیصد تک ہے،تاہم خوف و ہراس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر بھی انتہائی ضروری ہیں۔

ڈینگی بخار انسان سے انسان کو نہیں لگتا۔جب مریض بخار میں مبتلا ہو جائے تو اسپرین اور دافع درد قسم کی گولیوں کا کھانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،اس لئے کہ یہ معدے میں زخم پیدا کر دیتی ہیں اور جریانِ خون کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔بخار کو کم کرنے کے لئے صرف پیراسیٹامول دینا چاہیے اور اگر ڈاکٹر نے کسی اور عارضے یا تکلیف کے سبب پانی زیادہ پینے سے منع نہ کیا ہو تو روزانہ ڈھائی سے تین لیٹر پانی پینا بہت مفید ہوتا ہے۔


طب کے ماہرین کے مطابق طب یونانی میں شہد ڈینگی بخار کے لئے ایک بہترین علاج ہے۔ایک چمچہ شہد ایک پیالی نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ،جب کہ دوپہر اور رات کھانے سے ایک گھنٹہ قبل پینا چاہیے۔پروپولس (Propolis ایک سرخ یا بھُورا مومی مادہ جو شہد کی مکھیاں پھولوں سے حاصل کرکے اس سے چھتے کی تعمیر کرتی ہیں)جو شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلتا ہے،ایک انتہائی مانع تعدیہ،دافع جراثیم اور ضد وائرس ہے۔

ہم اسے شہد نکالے ہوئے چھتے سے حاصل کر سکتے ہیں۔اس چھتے کے تین تین گرام کے ٹکڑے کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح،دوپہر،شام اور رات یعنی دن میں چار مرتبہ چبا کر رس چوس لیں،مومی مادے کی مطلوبہ مقدار حاصل ہو جائے گی۔اس سے قوتِ مدافعت میں بھی زبردست اضافہ ہوتا ہے،جس سے وائرس زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پپیتے کے پتے بھی اس مرض کا شافی علاج ہیں۔

دو تازہ پتوں کا رس صبح و شام پینے سے تشتریاں حیرت انگیز طور پر چند گھنٹوں میں بڑھ جاتی ہیں۔اس کے علاوہ کالی مرچ،کلونجی،اجوائن،پودینے کا قہوی،تین گرام چھوٹی الائچی کا سفوف،حیاتین ”کے“ ”بی“ اور ”سی“، چاول،مونگ کی دال،کھچڑی،شلجم،چقندر،گاجر،بند گوبھی،انگور،سنترا،موسمی،میٹھا اور سرکہ اور پیاز اس مرض میں بہت مفید ہیں۔

سالن میں پسی ہوئی سرخ مرچ کی جگہ پسی ہوئی کالی مرچ ڈالنا چاہیے۔سیب،ناشپاتی یا انار کے جوس میں لیموں کے دس بارہ قطرے ملا کر پینے سے بھی بہت فائدہ ہوتا ہے۔گھر میں کافور مختلف جگہوں پر رکھیں،نیز کسی تیل یا کریم وغیرہ میں شامل کرکے جسم پر لگائیں،مچھر قریب نہیں آئیں گے۔ڈینگی مچھروں سے بچاؤ کے لئے بیدمشک کو گھروں میں رکھا جائے یا گھر کے گملوں میں ”نیازبو“ اور لیمن گراس کے پودے لگائیں۔

گھر میں حرمل اور گوگل کی دھونی بھی دیں،اس سے ہر قسم کے کیڑے مکوڑے،مچھر،لال بیگ اور چھپکلی ختم ہو جاتے ہیں۔
وہ اقدامات جو اس مچھر کی افزائش کو کم اور ہمیں جانی و مالی نقصانات سے بچا سکتے ہیں،ان میں پانی کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنا،پانی کے ٹوٹے ہوئے پائپ اور ٹنکی میں جانے والے پائپ اور پانی کی موٹر سے گرنے والے اور اوپر ٹنکی سے بہنے والے پانی کو روکنا اور سوراخ بند کرکے جگہوں کو صاف اور خشک رکھنا،جانوروں کے لئے رکھا جانے والا پانی تیسرے دن تبدیل کرنا،گھر میں پانی کی بوتل میں لگے پودے کے پانی کو پانچویں دن بدلنا،گملوں کے نیچے رکھی جانے والی پلیٹ کے پانی کو خشک کرنا،گھر میں اگر کہیں گڑھے ہیں تو ان کو بھرنا اور ان میں جمع پانی پر مٹی کا تیل ڈالنا،پلاسٹک کی تھیلیوں اور جوس کے ڈبوں اور بوتلوں وغیرہ کو کوڑے دان میں پھینکنا،بیت الخلا کے فلیش کو خشک رکھنا،مسجد کے بیت الخلا میں مٹی کا تیل ڈالنا یا اسپرے کرنا اور زیر استعمال لوٹوں کو خشک رکھنا،بچوں،خواتین اور مردوں کا پوری استین والے کپڑے پہننا،بخار ہو جائے تو پانی سے بخار کو کم کرنا،خوب پانی پینا،او آر ایس کا استعمال کرنا،کوئی بھی ضدحیوی دوا (اینٹی بائیوٹک) بغیر ڈاکٹر کی اجازت سے ہر گز نہ کھانا اور گھروں،لان،کیاریوں اور پودوں،محلوں اور دفاتر میں مچھر مار اسپرے کا چھڑکاؤ کرانا شامل ہیں۔


وبائی امراض میں خواہ کورونا وائرس شامل ہو یا ڈینگی وائرس،ان سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر،بروقت تشخیص اور علاج کی بنیادی اہمیت و افادیت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-12-22

Your Thoughts and Comments