Phir Dengue Virus Ki Museebat - Article No. 2318

پھر ڈینگی وائرس کی مصیبت - تحریر نمبر 2318

بدھ 8 دسمبر 2021

Phir Dengue Virus Ki Museebat - Article No. 2318
حکیم عبدالرحیم ہاشمی
ڈینگی بخار بہ ظاہر تو ایک معمولی سا،مگر درحقیقت سنگین بخار ہوتا ہے،جو چند دنوں میں خطرناک صورتِ حال اختیار کر لیتا ہے اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ڈینگی بخار عام طور پر ایسے افراد کو شکار کرتا ہے،جن کی مدافعتی قوت کمزور ہوتی ہے۔ابھی کورونا وائرس کی وبا کچھ کم ہوئی تھی کہ ڈینگی وائرس نے دوبارہ حملے کرنا شروع کر دیے اور اس طرح ڈینگی کیسز میں اضافہ ہونے لگا۔

اس سال اب تک متعدد افراد اس بیماری سے مر چکے ہیں اور سینکڑوں افراد ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ڈینگی پر قابو پانے کے لئے لوگوں کو احتیاطی تدابیر پر زیادہ عمل کرنا پڑے گا۔
ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی بخار کی چار قسمیں ہیں،لیکن مریض میں ان چاروں اقسام میں سے ایک ہی قسم کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور ان کے ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر معالج سے رجوع کرنے سے مرض کی شدت میں کمی آ سکتی ہے۔

(جاری ہے)

ڈینگی کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، جسم میں شدید درد،کمزوری کا احساس،ٹانگوں،جوڑوں اور سر میں درد،منہ کے ذائقے میں تبدیلی،چہرے کا رنگ سرخ پڑ جانا،جسم کے بعض اعضا کا گلابی ہو جانا اور سردی لگنا شامل ہیں۔ڈینگی بخار میں مریض کے جوڑوں اور پٹھوں کا درد اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے کہ اُسے اپنی ہڈیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں،اسی لئے اسے ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے۔


چھوٹی چھوٹی تشتریاں،جو پلیٹ لیٹس (Platelets) کہلاتی ہیں،تشتریوں کی شکل کی ہوتی ہیں۔یہ جسم میں کسی بھی جگہ،جہاں خون کا اخراج ہو،اُس جگہ پہنچ کر وہاں بند باندھ دیتی ہیں،یعنی خون کے بہاؤ کو روک دیتی ہیں۔خون کا اخراج اندرونی بھی ہو سکتا ہے اور بیرونی بھی۔عام طور پر ایک صحت مند فرد میں تشتریوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے 4 لاکھ فی مائکرو لیٹر بلڈ ہوتی ہے۔

موسمی بخار میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 90 ہزار سے ایک لاکھ ہو سکتی ہے،جب کہ ڈینگی وائرس کی صورت میں تشتریاں کافی زیادہ کم ہو کر تقریباً 20 ہزار یا اس سے بھی کم رہ جاتی ہیں۔تشتریوں کی غیر معمولی کمی سے دماغ میں خون جمنے لگتا اور اس میں غیر معمولی دباؤ بڑھنے لگتا ہے،جس کی وجہ سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں،مثلاً دماغ کی نس پھٹنے (برین ہیمرج) یا خون کے رسنے کا عمل شروع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تشتریاں انسان کی ہڈی کے گودے (بون میرو) میں ضرورت کے مطابق قدرتی طور پر بنتی رہتی ہیں۔جسم میں ان کی زیادتی اور کمی دونوں کسی بیماری کی علامت ہوتی ہیں۔جسم میں تشتریوں کی کمی کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں،جن میں تعدیہ (انفیکشن)،گردوں کی بیماری،کئی ادویہ کے اثرات یا جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی اور ڈینگی بخار بھی شامل ہے۔خود ایفائی نظام (آٹو امیون سسٹم) کے باعث بھی تشتریوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

خود ایفائی نظام میں جسم اپنے ہی مدافعتی نظام کے ساتھ لڑنا شروع کر دیتا ہے۔مریض کو ادویہ کھلا کر تشتریوں کو اپنا کام کرنے سے روکا جاتا ہے،تاکہ وہ خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹنگ) نہ بنا پائیں۔
ڈینگی مادہ مچھر سے بچنے کیلئے اگر (ان خاص اوقات میں،جب یہ مادہ مچھر کاٹتی ہے) جسم کے کھلے ہوئے حصوں پر کڑوا تیل یا روغنِ تلخ (تارا میرا کا تیل) لگا لیا جائے تو یہ مادہ مچھر کاٹنے سے پہلے ہی مر جاتی ہے۔

ماہرین صحت متاثرہ مریضوں کے لئے صبح و شام پپیتے کے پتوں کا رس پینے کو بے حد مفید قرار دیتے ہیں،کیونکہ اس سے مدافعتی قوت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ جسم کی مدافعتی قوت بڑھانے کیلئے ایک گلاس نیم گرم پانی میں دو چائے کے بڑے چمچے شہد ملا کر دن میں تین بار پینے سے بھی ڈینگی بخار پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس بیماری کا ابھی تک کوئی حتمی علاج موجود نہیں ہے،البتہ معالجین ڈینگی بخار کی علامات کو کم کرنے والی ادویہ تجویز کرتے ہیں۔

معمولی علامات کی صورت میں صرف درد رُبا دوا (پین کلر) ہی مفید ثابت ہوتی ہے،مثلاً پیراسیٹامول،لیکن یہ بھی معالج کی اجازت سے کھانی چاہیے۔ڈینگی بخار میں ایسپرین ہر گز نہیں کھانی چاہیے،کیونکہ اسے کھانے سے خون بہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔سیب،انار یا ناشپاتی کے رس میں لیموں کے چند قطرے ملا کر پینے سے بھی ڈینگی بخار کم ہو جاتا ہے۔گھر میں نیازبو،حرمل یا لیمن گراس کے پودے گملے میں لگا کر رکھیں،ان کی خوشبو سے بھی مچھر بھاگ جاتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-12-08

Your Thoughts and Comments