Khabardar Hoshiyar Dengue Phir Aa Giya

خبردار ہو شیار․․․ڈینگی پھر آگیا

بدھ نومبر

Khabardar Hoshiyar Dengue Phir Aa Giya

ڈاکٹر آصف محمود جاہ
اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کا شکار ہوتے ہیں اور سالانہ بیس ہزار سے زائد افراد اس کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں ڈینگی وائرس پھیلانے والا ایک ہی مچھرAedes Aegyptiپایا جاتاہے۔W.H.Oکا کہنا ہے کہ ایشیا میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ درجہ حرارت میں خاطر خواہ حد تک اضافہ اور کئی جگہوں پر شدید بارشیں اور سیلابی صورتحال ہے۔


تحقیق کے مطابق ڈینگی بخار کا باعث بننے والا مچھر بہت نفیس اور صفائی پسند ہے۔یہ خطر ناک مچھر صاف پانی،گھریلوواٹرٹینک کے آس پاس ،پانی سے بھرے برتنوں ،گلدانوں اور گملوں وغیرہ میں رہنا پسند کرتے ہیں۔یہ مچھر انسان پر طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس بخار کا علم تین سے سات دن کے اندر ہوتاہے۔عام سے نزلے بخار کے ساتھ شروع ہونے والا بخار شدید سر درد ،پٹھوں میں اینٹھن اور جوڑوں کے درد سے شروع ہو تاہے ،حتیٰ کہ انسان بے بس ہو جاتاہے اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتاہے۔

مچھر کے کاٹنے کے نشانات جسم کے ظاہری حصوں پر سرخ نشانوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔اگر بخار کی نوعیت شدید ہوتو ناک یا منہ سے خون بھی جاری ہو جاتاہے۔
احتیاطی تدابیر اور علاج
احتیاطی تدابیر کے طور پر اس مچھر کو پھلنے پھولنے کے لئے ماحول نہیں ملنا چاہئے۔ایسی تمام جگہوں پر مچھر مار اسپرے کیا جائے اور پانی نہ کھڑا ہونے دیا جائے۔

مچھر دانیوں کا استعمال اسی لئے اب ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔
شہد
ڈینگی فیور کے لئے بہترین علاج شہد کا استعمال ہے۔ایک چائے کا چمچ شہد ایک کپ نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ جبکہ دوپہر اور رات کے کھانے سے ایک گھنٹہ قبل استعمال کرلینا چاہئے۔
رائل جیلی
یہ شہد کی مکھی کے چھتے سے نکلنے والا انتہائی طاقتور اینٹی وائرل جزو ہے۔

اس چھتے کے تین تین گرام کے پیس کاٹ لیں اور ایک ٹکڑا صبح اور شام مختلف اوقات میں چبا کر رس چوس لیں۔پروپولس(رائل جیلی) قوت مدافعت میں زبردست اضافہ کرتاہے۔یہ پاکستان کے ہر بڑے شہر کے مستند اور ماہر یونانی دواخانوں سے دستیاب ہو سکتاہے۔
پپیتے کے پتے
یہ پتے بھی اس مرض کا بہترین علاج ہیں۔پپیتے کے دو تازہ پتے یا ان کا رس صبح شام پینے سےPlateletsمیں حیران کن طور پر اضافہ ہو جاتاہے۔


کالی مرچ،کلونجی اور چرائتہ افسنتین
یہ تینوں اجزاء دس دس گرام کی مقدار میں لے کر باریک پیس لیں اور باہم ملا کر پودینے یا اجوائن کے قہوے کے ساتھ پی لیں۔بہتر یہ ہے کہ دن میں تین مرتبہ صبح،شام اور دوپہر آدھی پیالی کی مقدار کے برابر لیا جائے تو ڈینگی بخار کے مریضوں کو افاقہ ہوتاہے۔
وٹامنBاورCکا زائد استعمال
ایسے پھل اور سبزیاں کھائی جائیں جن میں یہ دونوں وٹامنز بھر پور مقدار میں موجود ہوں۔مونگ کی دال کی کھچڑی ،شلجم،چقندر،گاجر،گوبھی،کریلا،انار،سنگترہ،مسمی،میٹھا اور امرود اس میں کھانا مفیدہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-27

Your Thoughts and Comments