Platelets Kiya Hote Hain?

پلیٹ لیٹس کیا ہوتے ہیں؟

پیر نومبر

Platelets Kiya Hote Hain?

راحیلہ مغل
آج کل ہرشخص یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ خون کے پلیٹ لیٹس کیا ہوتے ہیں؟ڈینگی کے علاوہ کون کون سی بیماریوں میں یہ کم ہوتے ہیں؟ان کا کون سا لیول خطر ناک ہوتاہے؟کیا ایک دفعہ پلیٹ لیٹس گر کر دوبارہ نارمل ہو جاتے ہیں؟کون کون سی بیماریوں میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہوتی ہے اور اس کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں۔ان سارے سوالات کے جواب ہم اس آرٹیکل میں پیش کرتے ہیں۔


خون میں سرخ اور سفید خلیوں کے علاوہPlateletsبھی ہوتے ہیں۔پلیٹ لیٹس کا لفظ دراصل پلیٹ سے ماخوذ ہے۔یہ جسم کے پولیس مین کا کردار ادا کرتے ہیں۔جسم کے کسی حصے پر جب کٹ لگتاہے۔ خون نکلنے لگتاہے ۔یہ خون کے یہ محافظ اس جگہ میں آکر پلیٹ کی طرح جمع ہو جاتے ہیں۔دماغ کو سگنلز بھیجتے ہیں کہ مزید پلیٹ لیٹس ادھر آجائیں اور یوں سارے جمع ہو کر خون بہنے سے روکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایک نارمل آدمی کے خون میں ان کی مقدار ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک ہوتی ہے۔
آج کل ڈینگی کا مرض عام ہے۔ڈینگی میں بھی وہ آخری اسٹیج ہوتی ہے جب ان کی مقدار چند ہزار رہ جائے ۔اس اسٹیج پر Bleedingشروع ہو جاتی ہے جس سے بندے کی موت واقع ہو سکتی ہے۔اس سال اب تک ڈینگی سے 52اموات اسلام آباد اورراولپنڈی میں ہو چکی ہیں۔حال ہی میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا ڈینگی ٹیسٹ نیگٹو آیا ہے تاہم ان میں پلیٹ لیٹس میں کمی کی دوسری وجوہات میں کوئی اور وائرل انفیکشن مثلاً ہیپا ٹائٹس بی اور سی بھی ہو سکتاہے۔


عام طور پر پاکستان میں انسانی خون کے اندر موجود خلیات یا ذرات کا تذکرہ عام میڈیا اور سوشل میڈیا پر کم ہی ملتاہے مگر گزشتہ چند دن سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جیل میں طبیعت خراب ہو جانے اور ان کے پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وجہ سے ہر کوئی ان پر بات کرتا دکھائی دے رہا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق پلیٹ لیٹس دراصل انسانی جسم کے خون میں موجود پلیٹ کی شکل کے چھوٹے چھوٹے ذرات یعنی خلیات ہوتے ہیں اور ان کے گرد جھلی بنی ہوئی ہوتی ہے ،ان کا کام انسانی خون کے جسم سے انخلا کو روکنا ہوتاہے۔


طبی ماہرین کے مطابق پلیٹ لیٹس کی غیر موجودگی یا انتہائی کمی کی وجہ سے انسانی خون دماغ میں جمع ہو جاتاہے،جس وجہ سے کئی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر خون جسم سے باہر آنا شروع ہو سکتاہے اور ان کی کمی برین ہیمرج کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند انسانی جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ تک ہوتی ہے اور اس سے ہڈی کا گودا ضرورت کے مطاق خود بخود بنتا رہتاہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کسی انسان میں پلیٹ لیٹس کی تعداد25ہزار یا کبھی کبھار10ہزار تک بھی چلی جائے تو پریشانی کی بات نہیں ہوتی۔تاہم اگر ان کی تعداد 10ہزار سے بھی کم ہونے لگے تو انسان کے جسم سے خون کے انخلا کا خطرہ پیدا ہو جاتاہے اور ناک سے بھی خون بہنا شروع ہو سکتاہے۔
پلیٹ لیٹس کی کمی بعض انفیکشنز پھیلنے،گردوں کی بیماری ،جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی اور دوائیوں کے ری ایکشن کا سبب بھی بن سکتی ہے اور انسان میں کافی کمزوری بھی ہونے لگتی ہے۔

انسانی جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد معلوم کرنے کے لیے’کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹ‘(سی بی سی)نامی خون کا ٹیسٹ کرواناپڑتا ہے جو پاکستان میں عام لیباٹریوں سے400سے ایک ہزار روپے تک ہوتاہے۔سی بی سی ٹیسٹ کے ذریعے نہ صرف انسانی جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد معلوم ہو جاتی ہے بلکہ اس ٹیسٹ سے انسانی خون میں موجود سرخ اور سفید ذرات سمیت دیگر طرح کے ذرات کا بھی علم ہو جاتاہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلیٹ لیٹس کی تعداد متعدد امراض کی وجہ سے کم ہو سکتی ہے اور ایسے امراض میں’ڈینگی ‘بخار بھی شامل ہے۔
خون کے خطر ناک امراض بلڈ کینسر اور لیو کیمیا میں بھی خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی بیماریاں جن میں جسم کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے مثلاً ایڈز،SLEاور جوڑوں کے مرض میں بھی پلیٹ لیٹس کم ہو جاتے ہیں ۔

مختلف قسم کی ادویات لینے سے بھی ایک دم پلیٹ لیٹس گر سکتے ہیں۔پلیٹ لیٹس گرنا شروع ہو جائیں تو وہ ایک دم مزید گرتے ہیں۔جسم سے قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے۔ذراسی انفیکشن سے حالت خراب ہو جاتی ہے۔وائرل کے علاوہ مختلف قسم کے بیکٹیریا سے بھی پلیٹ لیٹس کی کمی ہو جاتی ہے۔
پلیٹ لیٹس گرنے کی ایک مشہور وجہITPہے۔جس کا مطلب ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام غیر فعال ہو چکا ہے۔

جس کی وجہ سے ان کی مقدار بتدریج کم ہورہی ہے۔مختلف قسم کی کینسر کی بیماری میں استعمال ہونے والی ادویات ،مرگی کی بیماری کی ادویات اور ہیپارینHeparinلینے سے بھی ان کی مقدار گر جاتی ہے۔خون میں جب پلیٹ لیٹس کی رفتار گرتی ہے تو جسم میں کمزوری ہونا شرع ہو جاتی ہے۔قوت مدافعت ختم ہونے کی وجہ سے انسان ڈاؤن ہو جاتاہے۔جسم میں شدید کمزوری،جوڑوں میں درد ہو تاہے۔

منہ،مسوڑھوں اور ناک سے خون بہنا شروع ہو جاتاہے۔جوڑوں میں سوجن ہو جاتی ہے ۔Bleedingزیادہ ہونے کی وجہ سے شاک میں جانے کی وجہ سے موت بھی ہو سکتی ہے۔جسم پر سرخ رنگ کے دبے نمودار ہوتے ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ جسم پر کسی نے چاقو سے زخم لگائے ہوئے ہیں۔کٹ لگنے سے جسم کے مختلف حصوں سے خون رستا ہوا محسوس ہوتاہے ۔جسم پہ ذرا ساکٹ لگ جائے تو خون بہنا بند نہیں ہوتا۔


مرض کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ CBC،ہیپا ٹائٹسBاور C،ٹوٹل باڈی ایکین۔بون میروسیمئر اور PETسکین کروائے جاتے ہیں جن سے بیماری کی تشخیص کی جاتی ہے۔بیماری میں تلی بھی بڑھ جاتی ہے۔وٹامن 2/Bاور B9کی کمی کی وجہ سے بھی پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔پلیٹ لیٹس کم ہونے کا اچانک پتہ چلتا ہے ۔ان میں بتدریج کمی ہوتی رہتی ہے لیکن جب تک بیماری سے بندہ ادھ موا نہیں ہو جاتا،اس کا پتہ نہیں چلتا۔

اس کے بعد تشخیص کرنے سے اس کمی کی وجہ کا پتہ چلتا ہے لیکن جسم کے مختلف حصوں سےBleedingاس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیماری خطر ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔جسم کے مختلف حصوں سے Bleedingہوجانا میڈیکل ایمرجنسی ہے۔فوراً ڈاکٹر اور ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔فوری طور پر پلیٹ لیٹس کی کمی کو میگا پلیٹلٹ کٹس لگا کر پورا کیا جاتاہے مگر ان کے لگانے کے باوجود پلیٹ لیٹس اور خون کے سفید خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ جاری رہتی ہے۔

میگا کٹس کے علاوہ جسم کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیےImmunoglobulinکی ڈرپس لگائی جاتی ہیں۔اگر خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کسی بیماری کی وجہ سے نہ گررہی ہو جیسا کہ ITPکی بیماری میں ہوتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ خود ہی نارمل مقدار میں آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اگرکسی دوا کی وجہ سے کمی ہورہی ہوتو فوری طور پر اس دوا کو بند کر دیا جاتاہے۔ڈینگی کے مریضوں کو علاج کرتے ہوئے اس بات کا مشاہدہ اور تجربہ کیا گیا کہ ڈینگی وائرس سے متاثر مریضوں میں ڈینگی بخار میں جب پلیٹ لیٹس کی مقدار گرتی ہے تو پپیتا کے پتوں کا جوس استعمال کرنے سے فوری طور پر ان کی مقدار میں اضافہ شروع ہو جاتاہے۔


اگر کچھ بن نہ پڑتے تو پھر پلیٹ لیٹس کی میگا کٹس لگاتے ہیں اور اس سے بھی فرق نہ پڑے تو پھر جسم کے مدافعاتی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے Immunoglobulinکی ڈرپس لگاتے ہیں۔ساتھ ساتھ سٹیر ائیڈ دوائیں بھی دیتے ہیں جن سے خون میں پلیٹ لیٹس کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتاہے۔اگر پلیٹ لیٹس کی مقدار میں کمی ہو تی رہے تو اور کوئی علاج کار گرنہ ہوتو پھر آپریشن کرکے تلی کو نکال دیا جاتاہے۔

جس کی وجہ سے پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔اگر سٹیر ائیڈ دوائیں بھی کار گرنہ ہوں تو آپ کے مدافعاتی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے بعض دوائیں بھی دی جاتی ہیں جن سے بعض صورتوں میں افاقہ تو ضرور ہو تاہے لیکن اس طرح کی دواؤں کی مضر اثرات بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اور بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-18

Your Thoughts and Comments