بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ برزلر انویجینشن بیماری کا شکار 25 سالہ نوجوان کا کامیاب آپریشن
8 ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2006 - 20:03:27 وقت اشاعت: 14/11/2006 - 21:35:48 وقت اشاعت: 14/11/2006 - 14:47:26 وقت اشاعت: 13/11/2006 - 13:30:23 وقت اشاعت: 12/11/2006 - 21:06:25 وقت اشاعت: 12/11/2006 - 19:24:53 وقت اشاعت: 12/11/2006 - 16:56:56 وقت اشاعت: 12/11/2006 - 16:13:37 وقت اشاعت: 12/11/2006 - 14:20:19 وقت اشاعت: 11/11/2006 - 15:35:58 وقت اشاعت: 10/11/2006 - 22:06:33

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ برزلر انویجینشن بیماری کا شکار 25 سالہ نوجوان کا کامیاب آپریشن

8 گھنٹے کے طویل آپریشن میں پاکستانی اورپاکستانی نژاد امریکی ماہر ڈاکٹروں نے حصہ لیا، عبدالغفور کا آپریشن مفت کیا گیا،20 ہزارڈالر مالیت کی مشینری پاکستان کو عطیہ کر دی ہے، آئندہ اس بیماری کے آپریشن میں آسانی ہوگی، مریض آئندہ 3 سے 6 ماہ میں مکمل صحت یاب ہو جائے گا، امریکی نیولوجسٹ ڈاکٹر سعید باجوہ کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین12نومبر2006 ) پاکستان میں پہلی مرتبہ پاکستان اور پاکستانی نژاد ڈاکٹروں نے سانس رکنے، دل کی دھڑکن رکنے اور نروس سسٹم کو جام کر دینے والی بیماری برزلر انویجینشن کے شکار 25 سالہ مریض کا کامیاب آپریشن کیا ہے۔ یہ آپریشن اتوار کو یہاں الشفاءء انٹرنیشنل ہسپتال اورپاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹروں نے کیا جو کہ 8 گھنٹے تک جاری رہا اس دوران ڈاکٹر خالد سیٹھی، سعید باجوہ، اسماعیل کھتری اور امریکی ٹیکنیشن ڈیوڈ نیٹوٹلنر نے انتہائی مہارت کے ساتھ 25 سالہ کشمیری نوجوان عبدالغفور کا کامیاب اور مفت آپریشن کیا۔

آپریشن کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران امریکی نیورولوجسٹ ڈاکٹر سعید باجوہ نے خطرناک بیماری اوراس کے حوالے سے آپریشن کی تفصیلات بتائیں۔ اس دوران ڈاکٹر سعید باجوہ نے بتایا کہ عبدالغفور نامی مریض الشفاء ہسپتال میں آیا جس کے طبی معائنے کے بعد پتہ لگایا گیا کہ اس نوجوان کی پیدائش سے لے کر گردن اورسر کی ہڈیاں جڑ گئی تھیں جس کو برین اسٹیمپ کہتے ہیں اور اس کی وجہ سے بریڈنگ، دل کے نظام اور نروس سسٹم کو اپنا فنکشن کرنے میں دشواری پیدا ہو رہی ہے اور مریض کے دایاں ہاتھ اور بائیں ٹانگ نے پھر کام کرنا چھوڑ دیا تھا اوراس کی وجہ سے گردن کی اور مہرے کی ہڈیوں کے مابین پریشر بڑھ گیا تھا اورمریض کی جان کوخطرہ لاحق تھا۔

انہوں نے کہا کہ الشفاء ہسپتال کے نیورو سرجری ڈیپارٹمنٹ نے اس کو ہمارے آنے سے پہلے ڈائگنوز کیا جس کے بعد امریکہ سے ڈاکٹر خالد سیٹھی کو بلایا اور ہم نے اس مریض کا کامیاب آپریشن8 گھنٹے کے طویل وقت میں کیا۔ انہوں نے مرض کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا مرض دنیا میں بہت کم ہوتا ہے اس کا آپریشن کے دوران بہت خیال رکھنا پڑتا ہے کیونکہ تھوڑی سی غلطی سے مریض کی جان بھی جا سکتی ہے لیکن ہمارے ساتھ جانسن اینڈ جانسن فارما سویٹیکلز کمپنی کے ذیلی اڈارے ڈیپویی نے اس آپریشن میں ہمیں 20 ہزار ڈالر کا سامان عطیے کے طور پر دیا ہے جو مریض کے آپریشن کے دوران استعمال کیا گیا۔

امریکہ سے آئے ہوئے ڈاکٹر خالد سیٹھی نے بتایا کہ اس مرض کے آپریشن میں پاکستان میں پرزہ جات اور مشینری موجود نہ ہونے کی وجہ سے لاعلاج قراردیا جا سکتا تھا لیکن امریکہ میں اس کیلئے مشینری موجود ہے جو ہم اپنے ساتھ پاکستان لائے اورکامیاب آپریشن کیا اور مریض کی جان بچائی۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب آپریشن کے بعد مریض اب بالکل ٹھیک حالت میں ہے کیونکہ اس کی گردن اور سر کی ہڈی کو بالکل ٹھیک کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جو مشینری یہاں لائے ہیں وہ الشفاء ہسپتال کو عطیے کے طور پر دے رہے ہیں تاکہ پاکستان میں اس قسم کے آپریشن کرنے میں دشواری پیش نہ آ سکے۔ ڈاکٹر سعید باجوہ نے کہا کہ اس آپریشن میں ڈاکٹر خالد سیٹھی، شفا ہسپتال کے نیورولاجسٹ ڈاکٹر اسماعیل کھتری اور ہمارے ساتھ امریکہ سے آئے ہوئے ٹیکنیکل شخص ڈیوڈنیوٹلنر نے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ مریض کو اس مرض سے مکمل نجات آئندہ 3 سے 6 ماہ میں حاصل ہو جائیگی۔ شفا ہسپتال کے نیورولاجسٹ ڈاکٹر اسماعیل کھتری نے کہا کہ اس آپریشن میں جو مشینری استعمال کی گئی ہے اس کے ذریعے اب الشفاء ہسپتال میں اس قسم کے آپریشن کا ہونا ناممکن ہوگیا ہے۔
12/11/2006 - 19:24:53 :وقت اشاعت