بند کریں
صحت صحت کی خبریںمجھ پرایوان صدر یا جی ایچ کیو سے مستعفی ہونے کیلئے کوئی دباؤ نہیں، نہ ہی استعفیٰ دونگا، اگر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/11/2012 - 16:40:24 وقت اشاعت: 18/11/2012 - 14:28:44 وقت اشاعت: 18/11/2012 - 14:20:45 وقت اشاعت: 18/11/2012 - 14:17:19 وقت اشاعت: 18/11/2012 - 13:06:11 وقت اشاعت: 17/11/2012 - 22:45:38 وقت اشاعت: 17/11/2012 - 21:49:08 وقت اشاعت: 17/11/2012 - 16:47:49 وقت اشاعت: 17/11/2012 - 15:33:06 وقت اشاعت: 16/11/2012 - 16:33:14 وقت اشاعت: 16/11/2012 - 16:31:58

مجھ پرایوان صدر یا جی ایچ کیو سے مستعفی ہونے کیلئے کوئی دباؤ نہیں، نہ ہی استعفیٰ دونگا، اگر کوئی چاہتا ہے کہ میں چلا جاؤں تو مجھے فارغ کر دے، ارسلان افتخار کیس میں شعیب سڈل کمیشن نے تعاون مانگا ،تو نیب مثبت جواب دے گا۔ نیب نے گزشتہ ماہ کے دوران14 وفاقی وزارتوں اور محکموں جبکہ159 صوبائی اداروں کے15سو ارب کے ترقیاتی منصوبوں میں350 ارب سے زائد کی کرپشن کو قبل از وقت پکڑ کر قومی خزانے کو نقصان سے بچالیا، واپڈا، سی ڈی اے، پورٹ قاسم اتھارٹی ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، این ایچ اے، پی ٹی اے، ای او پی آئی، او جی ڈی سی ایل میں قبل از وقت کرپشن پکڑی گئی ، چیئرمین نیب ایڈمرل(ر) فصیح الدین بخاری کی نیب ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔17نومبر۔2012ء)چیئرمین نیب ایڈمرل(ر) فصیح الدین بخاری نے کہا ہے کہ مجھ پرایوان صدر یا جی ایچ کیو سے مستعفی ہونے کیلئے کوئی دباؤ نہیں، نہ ہی استعفیٰ دونگا، اگر کوئی چاہتا ہے کہ میں چلا جاؤں تو مجھے فارغ کر دے، ارسلان افتخار کیس میں شعیب سڈل کمیشن نے تعاون مانگا ،تو نیب مثبت جواب دے گا۔ نیب نے گزشتہ ماہ کے دوران14 وفاقی وزارتوں اور محکموں جبکہ159 صوبائی اداروں کے15سو ارب کے ترقیاتی منصوبوں میں350 ارب سے زائد کی کرپشن کو قبل از وقت پکڑ کر قومی خزانے کو نقصان سے بچالیا، جن وزارتوں اور اداروں میں قبل از وقت کرپشن پکڑی گئی ان میں واپڈا، سی ڈی اے، پورٹ قاسم اتھارٹی ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، این ایچ اے، پی ٹی اے، ای او پی آئی، او جی ڈی سی ایل ودیگر شامل ہیں۔

وہ ہفتہ کو یہاں نیب ہیڈ کوارٹرز میں کرپشن کی پیشگی روک تھام آگاہی سیل کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر مصدق عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، بریگیڈیئر مصدق عباسی نے اپنے شعبے کی6ماہ کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ انہیں نیب میں تعینات ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر گیا، اس ایک سال کے دوران ان پر بڑی تنقید کی گئی لیکن جواب دینے کی بجائے چپ اختیار کی اور اپنی کارکردگی سے جواب دینے کا فیصلہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن پکڑنے کے دو طریقے ہیں ایک کرپشن کے بعد تحقیقات کرنا اور دوسرا طریقہ کرپشن کو قبل از وقت روک لینا ہے ہم نے دوسرے طریقہ اختیار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گرینڈ کرپشن اشرفیہ مل جل کر کر تی ہے۔ اس لئے ہم نے ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کرپشن کے خلاف لڑنے کا پروگرام بنایا ہے اور اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دونگا، اگر کسی نے نکالنا ہے تو نکال دے، صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں کرپشن کے خلاف کارروائی پر ایوان صدر یا جی ایچ کیو سے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا نہ ہی انہیں مستعفی ہونے کا کہا گیا، جرائم پیشہ عناصر اور مافیا زکا دباؤ ضرور ہوتا ہے۔

لیکن انہوں نے کبھی یہ دباؤ اپنے سٹاف اور آفیسرز پر نہیں آنے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن کی کرپشن پکڑی جائے وہ گند ضرور اچھالتے ہیں لیکن میں نے اس کی بھی پروا نہیں کی، انہوں نے کہا کہ دعوے کرنے جائز نہیں ہوتے اس لئے میں نے بڑے بڑے دعوے اور باتیں کرنے کی بجائے کارکردگی کے بعد میڈیا سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت کی جانب سے دو چیئرمین احتساب گھر بھیج دئیے گئے تو پھر حکومت نے مجھ سے نیب کی سربراہی سنبھالنے کیلئے کہا اور کوشش کی کہ چیئرمین نیب اپوزیشن کیلئے بھی قابل قبول ہو نواز شریف نے بھی میری تقرری کی حمایت کی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ارسلان افتخار کیس جب نیب کو بھجوایا گیا تھاتو اس وقت بھی میرا نکتہ نظر تھا کہ یہ دو شخصیات کے درمیان کا معاملہ ہے اس لئے نیب کا کیس نہیں بنتا لیکن سپریم کورٹ نے یہ معاملہ نیب کو بھجوایا تو ہم نے قبول کرلیا پھر خود ہی سپریم کورٹ نے یہ کیس واپس لے لیا اس پر بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

اس بارے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر شعیب سڈل کمیشن نے ارسلان افتخار کیس میں نیب کی مدد مانگی تو تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اصل فکر کرپشن روکنے کی ہے ۔ماضی میں کرپشن کی روک تھام کیلئے49 قوانین بنائے گئے اور مختلف ادارے قائم کئے گئے لیکن یہ سب ناکام ہو گئے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے کرپشن کی پیشگی روک تھام کا ماڈل اپنایا ہے،28 فیصد عملے کے ساتھ ہماری کارکردگی سب کے سامنے ہے72 فیصد عملے کی کمی سے دو چار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی اے سی کرپشن کی نشاندہی کرتی ہے تحقیقات کے اختیارات نیب اور دیگر اداروں کے پاس ہیں، لیکن اس میں پوائنٹ سکرونگ کی کوئی بات نہیں، پی اے سی، عدلیہ نیب سمیت سب قومی ادارے مل کر کرپشن کی روک تھام کر رہے ہیں۔ بریگیڈیئر مصدق عباسی نے کرپشن کی پیشگی روک تھام کے اپنے سیل کی کارکردگی بارے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اور وفاقی اداروں کے ترقیاتی منصوبوں میں ٹینڈر اور نیلامی کے وقت مداحلت کرکے1475 ارب روپے کے منصوبوں میں قبل از وقت کرپشن پکڑی اور قومی خزانے کو تقریباً350 ارب کے نقصان سے بچایا۔

ان اداروں میں وفاقی حکومت کے14 سندھ کے55بلوچستان کے12 ” کے پی کے،، کے14 اور پنجاب کے77منصوبے شامل ہیں، وفاق کے منصوبوں کی مالیت1426 ارب سندھ کے26 ارب ، بلوچستان9 ارب ” کے پی کے،، کے 97 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ19 ارب کے واپڈا کے نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ کی لاگت321 ارب روپے تک بڑھائی گئی جو ”پی پی آر اے،، رولز کی خلاف ورزی ہے اس پر واپڈا کے خلاف کارروائی پراسس میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ گولن گول ہائیڈرو پاور کے7 ارب کے منصوبے پر نظر ثانی کیلئے کیا گیا ہے۔210 ارب کے کوہالہ ہائیڈرو پاور منصوبے کی تحقیقات جاری ہیں، کنونشن سنٹر کے قریب ایک فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کے معاملے میں بھی گڑ بڑ تھی جسے روک دیا گیا یہ18 ارب کا منصوبہ تھا۔125 ارب کے سیف سٹی منصوبے میں بھی کرپشن پکڑی گئی جس کی تحقیقات جاری ہیں، شکر پڑیاں میں آرٹ اینڈ گرافٹ گیلری تعمیر میں قواعد کی خلاف ورزی ختم کرائی گئی۔

یہ4 ارب کا منصوبہ ہے انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے بلیو ایریا توسیع منصوبے کو بھی بے قاعدگیوں پر روکا گیا۔ جی سکس میں قواعد کے خلاف5ارب کے میرج ہال کیس کی تحقیقات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے پارک انکلیو منصوبے میں725 کارنر پلاٹ سفارش پر الاٹ کئے گئے ۔ اس کی سی ڈی اے کو دوبارہ قرعہ اندازی کیلئے کہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم کے7ارب کے منصوبوں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔

پورٹ قائم کی جانب سے ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کو ایک ارب50کروڑ کے آرڈرز دوسری بار دینے پر نیب نے انہیں منسوخ کر دیا۔” کے پی ٹی کے25 ارب کے دو منصوبے بھی زیر تحقیق ہیں، انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کے جنگلوٹ ،سکردو روڈ کے40 ارب کے منصوبے میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے اسے منسوخ کروایا گیا۔ این ایچ اے کی جانب سے ٹول پلازوں کے 432 ملین کے ٹھیکوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

پی ٹی اے کی جانب سے200 ارب کے تھری جی اور فورجی منصوبوں میں پالیسی کی خلاف ورزی پر مداخلت کرکے پالیسی پر عمل درآمد کی یقین دہانی حاصل کی گئی ہے۔ ”یو ایس ایف کو،، کے 53 ارب کے فنڈز میں سے خلاف ضابط اخراجات پر مداخلت کرکے اسے روکا گیا۔ اسی طرح ای او بی آئی کی جانب سے ڈی ایچ اے سے321 کنعال زمین کی خلاف ضابط خریداری کو روکا گیا یہ16 ارب روپے کی خریداری تھی۔ او جی ڈی سی ایل کے40 ارب کے منصوبے میں بے ضابطگی پر اس کے خلاف تحقیقات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف آگاہی مہم کو موثر بنانے کیلئے نیب نے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں تجویز کیں ہیں جن پر عملدرآمد سے نوجوانوں میں کرپشن کے خلاف شعور اجاگر ہو گا۔
17/11/2012 - 22:45:38 :وقت اشاعت