بند کریں
صحت صحت کی خبریںحکومتی اداروں میں کرپشن کی نشاندہی کرنے پر وفاقی کابینہ کا رد عمل افسوسناک ہے‘ اس حمام میں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 13/12/2012 - 19:22:14 وقت اشاعت: 13/12/2012 - 18:09:50 وقت اشاعت: 13/12/2012 - 17:05:31 وقت اشاعت: 13/12/2012 - 16:28:23 وقت اشاعت: 13/12/2012 - 16:18:12 وقت اشاعت: 13/12/2012 - 16:18:12 وقت اشاعت: 12/12/2012 - 23:31:47 وقت اشاعت: 12/12/2012 - 21:54:09 وقت اشاعت: 12/12/2012 - 20:45:27 وقت اشاعت: 12/12/2012 - 20:43:58 وقت اشاعت: 12/12/2012 - 17:52:11

حکومتی اداروں میں کرپشن کی نشاندہی کرنے پر وفاقی کابینہ کا رد عمل افسوسناک ہے‘ اس حمام میں سب ننگے ہیں‘ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے ملک کو بچانے اور کرپشن کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہو ں گی ،نیب سے انکوائری کیلئے بنائی گئی وفاقی کابینہ کی کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا ،پبلک اکاونٹس کمیٹی ، ایف بی آر اور ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل سمیت دیگر اداروں کے مطابق روزانہ کی کرپشن کا حجم 10سے 12 ارب ہے ‘ نیب نے تو7 ارب کا تخمینہ لگایا ، ریگولیٹری نظام کا خاتمہ پاکستان کو ناکامی کی طرف لے جا رہا ہے‘ 172کیسوں میں ریگو لیٹرز کو طلب کر کے ان سے باز پرس کی گئی ، رواں سال میں 80 ارب کی ریکوریاں کی گئیں ، کرپٹ مچھلیوں اور مگر مچھوں کو پکڑنے کی بجائے پانی کا راستہ روکا جائے تاکہ یہ خود اپنی موت مر جائیں ، چےئر مین نیب ایڈ مرل (ر) فصیح بخاری کی نیب ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس

ٓاسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔13دسمبر 2012ء ) چےئر مین نیب ایڈ مرل (ر) فصیح بخاری نے حکومتی اداروں میں کرپشن کی نشاندہی کرنے پر وفاقی کابینہ کے رد عمل کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں‘ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے ملک کو بچانے اور کرپشن کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہو ں گی ، کرپشن کی رپورٹ سے متعلق نیب سے انکوائری کیلئے بنائی گئی وفاقی کابینہ کی کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا ،پبلک اکاونٹس کمیٹی ، ایف بی آر اور ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل سمیت دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملک میں روزانہ ہونے والی کرپشن کا حجم 10سے 12 ارب روپے ہے تاہم نیب نے اس کا تخمینہ 7 ارب روپے لگایا ہے ، ریگولیٹری نظام کا خاتمہ پاکستان کو ناکامی کی طرف لے جا رہا ہے 172کیسوں میں ریگو لیٹرز کو طلب کر کے ان سے باز پرس کی گئی ، رواں سال کے دوران 80 ارب روپے کی ریکوریاں کی گئیں ، کرپشن کرنے والی مچھلیوں اور مگر مچھوں کو پکڑنے کی بجائے نہر میں جانے والے پانی کا راستہ روکا جائے تاکہ یہ خود اپنی موت مر جائیں ۔

جمعرات کو یہاں نیب ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کے دوران چےئر مین نیب نے کہا کہ ریاست کو ملک کے تین ستون چلاتے ہیں مگر بد قسمتی سے مقننہ اور ایگزیکٹو ایک طرف ہیں جبکہ عدلیہ الگ راستے پر چل رہی ہیں ،ان تین ستونو ں کے متحد نہ ہونے کے باعث کرپشن پر قابو پانے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں ، ٹرائیکا میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے ، ملک میں کرپشن کوئی نئی بات نہیں یہ مسائل 1980ء سے چلے آ رہے ہیں ، کرپشن پر قابو پانے کے لئے قومی اداروں میں ہونے والی لیکجز کو بند کرنا ہو گا ،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس جی ڈی پی کا 9 فیصد ہے جبکہ یہ شرح 17 سے 20 فیصد ہونی چاہیے ، ٹیکس چوری سالانہ 2500 سے 3000 ارب روپے کی ہے ، پی اے سی کے مطابق 300 سے 350 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے ، ٹیکس چوری ، لینڈ مافیا ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ ، قرضوں کی معافی، کسٹم ڈیوٹیز کا ادا نہ کرنا ، بجلی اور گیس چوری ، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں لیکجز، انتظامی ناہلی ، میگا پراجیکٹس میں تاخیر سمیت دیگر اداروں میں ہونے والی روزانہ کی کرپشن کا تخمینہ 10 سے 12 ارب لگایا گیا ہے تاہم نیب نے اسے 7 ارب روپے قرار دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے تسلیم کر لیا ہے کہ ہم ایک کرپٹ قوم بن چکے ہیں تاہم اس تاثر کا خاتمہ کرنا ہو گا اور ایک دوسرے پر الزام ترشیوں کی بجائے متحد ہو کر نظام کو بچانے کے لئے کرپشن کے خلاف جدو جہد کرنی ہو گی کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ، کابینہ کے وزراء نے نیب پر جو تنقید کی ہے یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نیب آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے اور حکومت میں تنقید برادشت کرنے کا حوصلہ موجود ہے ، انہوں نے کہا کہ مچھلیوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالنے سے کام نہیں چلے گا اور کب تک ان کو جیلوں میں ڈالتے رہیں گے ، کرپشن کی نہر میں پانی کو روکنے کے لئے نلکے کو بند کرنا ہے اس سے مچھلیاں اور مگر مچھ خود بخود ختم ہو جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ اقربا پروری کا تذکرہ تو قائد اعظم بھی کیا کرتے تھے لہذا اہم عہدوں کے لئے موزوں امیدواروں کا انتخاب کرنا ہو گا ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نیب سے ناراض ہے اور ہماری کارکردگی سے مطمئن نہیں ، ماضی میں کی جانے والی کرپشن مین ملوث مچھلیوں کو پکڑنے کی بجائے مستقبل میں کرپشن کی روک تھام کی طرف توجہ دے رہے ہیں ، اس وقت نیب میں 1700 سے زائد کیس چل رہے ہیں ، 172 کیسوں میں ریگو لیٹرز کو طلب کیا گیا ہے ، ملک میں ریگولیٹرزی نظام ختم ہو چکا ہے جو پاکستان کو ناکامی کی طرف لے جا رہا ہے ، گزشتہ چھ ماہ سے 873 کیسوں پر فوکس کر رکھا ہے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب اور وفاقی کابینہ میں کوئی تنازعہ نہیں اور نہ ہی یہ دونوں آمنے سامنے ہیں ، میڈیا ملک کو توڑ رہا ہے ،خبروں کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے ،ملک ریاض اور ارسلان افتخار کی طرف سے ٹیکس چوری کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوروں کے خلاف ایف بی آر ہی کارروائی کر سکتا ہے ،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رواں سال کے گیارہ ماہ کے دوران 80 ارب روپے کی ریکوریاں کی گئی ہیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نیروزانہ کی کرپشن سے متعلق نیب کی رپورٹ کی انکوائری کے لئے جو کمیٹی بنائی ہے اس کے ساتھ مکمل تعاون کرینگے اور کمیٹی جو لائحہ عمل دے گی اس کے مطابق کام کیا جائے گا ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ نگران حکومت کے دورانیہ طویل ہو گا ، اب ملک میں نہ مارشل لاء آ سکتا ہے نہ ہی کوئی غیر آئینی اقدام ہو گا ۔


13/12/2012 - 16:18:12 :وقت اشاعت