بند کریں
صحت صحت کی خبریںجنگلا بس میں ایشیاء کی سب سے بڑی کرپشن ہوئی،ڈی جی ایل ڈی اے نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائیں، ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/02/2013 - 12:51:55 وقت اشاعت: 22/02/2013 - 19:56:16 وقت اشاعت: 22/02/2013 - 19:54:48 وقت اشاعت: 22/02/2013 - 18:51:07 وقت اشاعت: 22/02/2013 - 18:47:53 وقت اشاعت: 22/02/2013 - 18:47:53 وقت اشاعت: 22/02/2013 - 18:46:40 وقت اشاعت: 21/02/2013 - 23:50:49 وقت اشاعت: 21/02/2013 - 22:59:23 وقت اشاعت: 20/02/2013 - 23:24:28 وقت اشاعت: 20/02/2013 - 18:42:11

جنگلا بس میں ایشیاء کی سب سے بڑی کرپشن ہوئی،ڈی جی ایل ڈی اے نے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائیں، پنجاب کو کنگلا کرنے کا منصوبہ پہلے دن سے آج تک لاہوریوں کیلئے وبال جان ہے، اخراجات خفیہ رکھ رہے ہیں، محکمہ پی اینڈ ،ڈی کے مطابق 75 ارب روپے خرچ کر کے 30 ارب بتاتے ہیں بسوں کی خریداری، جنگلوں میں اور جان بوجھ کر غلط پلاننگ سے مال بنایا گیا، مریض دھکے کھا رہے ہیں، ہسپتالوں اور دوائیوں کی کاسٹ پر بنائے گئے، کرپشن کے اس منبع کی فوری انکوائری کی ضرورت ہے ،مسلم لیگ(ق) کے مرکزی رہنما و نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی کابیان

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔22فروری۔2013ء) مسلم لیگ(ق) کے مرکزی رہنما و نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ جنگلا بس میں ایشیاء کی سب سے بڑی کرپشن کی گئی، ڈی جی ایل ڈی نے قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائیں، انشاء اللہ یہ احتساب سے نہیں بچ سکیں گے، بسوں کی خریداری میں، جنگلے میں جان بوجھ کر غلط پلاننگ کر کے مال بنایا گیا، کرپشن کے اس سکینڈل میں ملوث گماشتہ افسروں کے سربراہ ڈی جی ایل ڈی اے تھے ان سب کو اربوں روپے کی خورد برد کا حساب دینا ہو گا۔

چودھری پرویزالٰہی نے ایک بیان کہا کہ اربوں روپے کی تشہیر کے ذریعہ شریف برادران عوام پر اپنی یہ رائے ٹھونسنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ چاند پر انسان بردار خلائی جہاز بھیجنے کی طرح انہوں نے بھی جنگلا بس بنا کر کوئی بہت بڑا کام کیا ہے حالانکہ یہ دنیا بھر میں متروک سسٹم ہے۔جمعہ کواپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب کے ہسپتالوں، سکولوں اور مریضوں کی ادویات کے فنڈر کرپشن کے منبع اس منصوبہ پر خرچ کیے گئے جو اپنی تکمیل کے دوران عوام کیلئے وبال جان اور جان لیوا بنا رہا اور مکمل ہو کر بھی لاہوریوں کیلئے وبال جان اور جان لیوا ہے، روزانہ لوگ حادثات کا شکار ہور رہے ہیں کسی کی جان گئی تو کسی کی ٹانگیں ٹوٹ جاتی ہیں تو کسی کے بازو، ایک کے گھٹنے رگڑے جاتے ہیں تو دوسرے کی کہنیاں، جبکہ کھلے کراس سگنلز پر ٹریفک مسلسل جام رہتی ہے اور لوگ انہیں کوستے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگلہ بس پر اخراجات کی تفصیلات کو چھپایا جا رہا ہے، پی سی I بنایا گیا نہ رولز اور پروسیجر پر عمل ہوا نہ فزیبلٹی بنائی گئی، منصوبہ بندی اور زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کیا گیا، شریف برادران اسے 30 ارب روپے میں مکمل کرنے کادعوی کر رہے ہیں جبکہ صوبائی سرکاری محکمے پی اینڈ ڈی کے مطابق اس پر اب تک 75 ارب روپے کے لگ بھگ خرچ کیے جا چکے ہیں اور اس کو چلانے پر روزانہ کروڑوں روپے کا خرچہ ہو رہا ہے جبکہ ابھی تک بہت سے متاثرین کو ان کے گرائے گئے مکانوں، دکانوں کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا اور وہ جھولیاں پھیلا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کو کنگلا کرنے والے اس اکھاڑ پچھاڑ اور فنڈز اجاڑ منصوبہ کیلئے سڑکیں اور جنگلے تین تین بار توڑ کر دوبارہ لگائے گئے، پانی، بجلی، گیس، ٹیلیفون کے پائپ برباد کر دئیے گئے ان کی دوبارہ تنصیب کے اخراجات بھی ظاہر نہیں کیے جا رہے، ان سب کی اعلیٰ سطحی انکوائری کی فوری ضرورت ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ انہوں نے ہمارے لاہور میٹرو ٹرین کے روٹ کی تو نقل کی ہے لیکن چونکہ میٹرو ٹرین کے منصوبہ میں پنجاب حکومت کی کوئی سرمایہ کاری نہیں تھی اس لیے اس میں پنجاب کے حکمرانوں اور ان کے گماشتہ افسروں کو کوئی کشش نظر نہیں آ ئی یہی وجہ ہے کہ نام نہاد خادم اعلیٰ اس کیلئے ملنے والی غیر ملکی امداد اور سرمایہ کاری رد کر کے دنیا بھر میں مستعمل ہمارے جدید ترین نظام کی بجائے بس سروس کا یہ متروکہ نظام لے آئے۔

انہوں نے کہا کہ میٹرو ٹرین انڈر گراؤنڈ ہونے کے باعث عوام کو کوئی زحمت نہ ہوتی جبکہ اس کیلئے اربوں ڈالر کا سرمایہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے فراہم کرنا تھا اور حکومت پنجاب کی 40 کروڑ ڈالر کی کل سرمایہ کاری زمین اور تکنیکی معاونت کی صورت میں تھی اس کی زندگی 100 سال سے زائد تھی اور فی گھنٹہ 35 ہزار مسافر سفر کرتے اس سے ماحول، لوگوں کے کاروبار، آمد و رفت بھی متاثر نہ ہوتی جبکہ جنگلا بس پر روزانہ بھی اتنے مسافر سفر نہیں کر سکتے۔

چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شہباز شریف کی ہٹ دھرمی اور انتقامی رویہ کے باعث انڈر گراؤنڈ ٹرین سسٹم کا ہمارا منصوبہ ترک کرنے سے نہ صرف لاہور 10 ارب ڈالر کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بلکہ پنجاب کے عوام ایک ارب روپے کی سالانہ بچت سے ہمیشہ کیلئے محروم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ٹرین سسٹم تربیلا ڈیم کے بعد انجینئرنگ کا سب سے بڑا منصوبہ تھا جس سے لاہور کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا جبکہ جنگلا بس کے ذریعے لاہور کو تاریخی خوبصورتی سے محروم اور ہمیشہ کیلئے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور شہریوں کی اربوں روپے کی املاک اور کاروبار تباہ کر دئیے گئے۔
22/02/2013 - 18:47:53 :وقت اشاعت