چئیرمین خالد مگسی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس

پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نوشین حامد نے کمیٹی کو کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلائو کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات بارے آگاہ کیا

چئیرمین خالد مگسی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 فروری2020ء) پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت نوشین حامد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلائو کی روک تھام کے حوالے سے اب تک کے اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ کرونا وائرس کے خلاف عوامی آگاہی مہم جاری ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چئیرمین کمیٹی خالد مگسی کی زیر صدارت جمعرات کو وزارت صحت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں پاکستان میں کرونا وائرس کسیز پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پارلیمانی سیکرٹری نے اجلاس کو بتایا کہ یہ وائرس پہلی دفعہ پاکستان آیا ہے اس لئے عوام کو اس بارے زیادہ معلومات نہیں ہیں جس کے لئے بھر پور مہم آگاہی شروع کی گئی ہے۔ اگر یہ وائرس انفلوئنزا کی فیملی سے ہے تو گرمی میں خود ہی مر جائے گا۔

(جاری ہے)

چئیرمین کمیٹی خالد مگسی نے کہا کہ نتیجہ یہ ہے کہ چائنہ ایک کنٹرولڈ ملک ہے پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف لڑنا مشکل ہوجائے گا۔

کمیٹی کے رکن رمیش لعل نے کہا کہ کرونا وائرس کیسز سامنے آتے ہی مارکیٹ سے ماسک غائب ہوگئے ہیں، اس معاملے پر بھی فوری طور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں چار دن پہلے کرونا وائرس پہنچا اور تیزی سے پھیل گیا، ہمارے لوگوں کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا، پڑھے لکھے بچے بھی ماسک نہیں پہن رہے۔ ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے کہا چین میں کرونا کے خلاف سپرے کیا جا رہا ہے ہمیں ڈینگی کی طرح کرونا کے لئے بھی سپرے کا بندوبست کرنا پڑے گا ۔ دیگر ممبران کا کہنا تھا کہ ہم کچھ زیادہ ہی پر امید ہو گئے تھے کہ وائرس پاکستان نہیں آئے گا صرف باڈی ٹمپریچر چیک کرنے سے کیا ہوتا ہے ۔ ایران میں چار دن میں 65 اموات ہو چکی ہیں۔

Your Thoughts and Comments