سندھ کے ہر ضلع میں چھاتی کے کینسر کے علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں

نیشنل فورم کے آگاہی سیمنار سے ڈاکڑ روفینہ سومرو، ڈاکڑ شائستہ خان، آفتاب عمر، رقیہ نعیم، احمد شاہ و دیگر کا خطاب

سندھ کے ہر ضلع میں چھاتی کے کینسر کے علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اکتوبر2021ء) سندھ کے ہرضلعی ہسپتال میں چھاتی کے کینسر کے حوالے سے تما م علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں کیونکہ چھاتی کا سرطان خواتین میں بہت عام ہوتا جا رہا ہے اور بہت کم ہسپتالوں میں اسکی تشخیص اور علاج کی سہولیات موجود ہیں ۔اس بات کا مطالبہ مقررین نے گذشتہ روز چھاتی کے سرطان پر آگاہی کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس سیمینار کا انعقاد نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کے تعاون سے کیاتھا۔اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی سندھ رابعہ نظامی مہمان خصوصی تھیں جبکہ دیگر مقررین میں لیاقت نیشنل ہسپتال کی سرجن ڈاکڑ روفینہ سومرو، آغاخان ہسپتال کی ڈاکڑ شائستہ خان، پنک ربن کے سی ای او عمر آفتاب، آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ، نیشنل فورم فار انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے صدر محمد نعیم قریشی، سیکریڑی جنرل رقیہ نعیم، نائب صدر انجنیئر ندیم اشرف، یوگی وجاہت، سی ایس آر کلب کے صدر انیس یونس، ڈاکڑ حناء طارق، سینئر صحافی عافیہ سلام، ڈاکڑ عاصم قدوائی، ڈاکڑ صائمہ عرم اعجاز، سمرین جنید و دیگر نے خطاب کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر شرکاء کا خطاب کرتے ہوئے کہناتھا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں صرف 2سرکاری ہسپتال ہیں جو کہ چھاتی کے سرطان کا علان کرتے ہیں اور پاکستان میں چھاتی کے سرطان خطے میں سب سے زیادہ ہے اس لئے حکومت کو چائیے کہ وہ اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکر روفینہ سومرو نے کہا کہ پاکستان میں 30سے 40سال تک کی عمر کی خواتین میں چھاتی کا سرطان ہورہا ہے جوکہ ایک خطرناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے اور اگر ہم امریکا میں خواتین میں اس بیماری کا جائزہ لیں تو وہاں 50سال عمرتک کی خواتین میں پایا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صرف 10فی صد خواتین میں چھاتی کا سرطان پہلے اسٹیج پر تشخیص کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موٹاپا، اپنی صحت کا خیال نہ کرنا اور خاندان میں کسی کو اس بیماری کا ہونا خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ان خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنا چیک اپ کروا کر اس بیماری کی جلد تشخیص کو ممکن بنا سکتی ہیں۔ڈاکڑ آفتاب عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 10سالوں میں اس بیماری میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اسے کم کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں چھاتی کے سرطان کی ادویات کی بھی کمی ہے جس کے باعث اس مرض کے علان میں مشکلات پیش آتی ہیں۔اس موقع پر سیکریڑی جنرل این ایف ای ایچ رقیہ نعیم نے کہا کہ انکی این جی او نے شجرکاری کرنے کیساتھ ساتھ اب چھاتی کے سرطان کے حوالے سے بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ مختلف مواقعوں پر آگاہی سیمنار کا انعقاد کرتا رہے گا تاکہ خواتین میں اس بیماری کے حوالے سے زیادہ آگاہی فراہم کی جا سکے۔

اس موقع پر ڈاکر شائستہ خان نے کہا کہ یورپ، امریکا اور آسٹریلیا میں سب سے زیادہ چھاتی کا سرطان پا یا جاتا ہے مگر وہاں اس بیماری کا بہترین علان بھی میسر ہے ۔انہوں نے کہا ویسٹ میں 90فیصد خواتین کو ادویات کے ذریعے اس مرض کو ختم کیا جاتا ہے اور پاکستان میں اسکی تعداد 30فی صد ہے۔ممبر صوبائی اسمبلی رابعہ نظامی نے خطا کرتے ہوئے کہا کہ چھاتی کا سرطان ایک خطرناک مرض ہے اور خاتون اول اس سلسلے میں خواتین میں آگاہی فراہم کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھاتی کے سرطان کے علان کیلئے حکومت کو ابھی مذید کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر عافیہ سلام نے کہا کہ ماہر امراض نسواں کو بھی چھاتی کے سرطان کے حوالے سے خواتین کو آگاہی فراہم کرنی چایئے۔صدر آرٹس کونسل احمد شاہ نے کہا کہ خواتین کی صحت کی آگاہی فراہم کرنے کیلئے انکا ادارہ ہر وقت تیار ہے۔

Your Thoughts and Comments