بند کریں
صحت صحت کی خبریںاختتام ہونے والے سال عیسوی 2014ء پاکستان میں صحت کا شعبہ مایوس کن اور بحران میں گھرا رہا،پنجاب ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 01/01/2015 - 14:15:26 وقت اشاعت: 01/01/2015 - 12:42:13 وقت اشاعت: 01/01/2015 - 12:07:42 وقت اشاعت: 01/01/2015 - 11:46:01 وقت اشاعت: 31/12/2014 - 23:06:08 وقت اشاعت: 31/12/2014 - 22:18:23 وقت اشاعت: 31/12/2014 - 19:26:42 وقت اشاعت: 31/12/2014 - 17:46:44 وقت اشاعت: 31/12/2014 - 17:12:20 وقت اشاعت: 31/12/2014 - 17:05:40 وقت اشاعت: 31/12/2014 - 16:49:32

اختتام ہونے والے سال عیسوی 2014ء پاکستان میں صحت کا شعبہ مایوس کن اور بحران میں گھرا رہا،پنجاب اور سندھ میں سرکاری محکمہ صحت کی عدم سہولیات کے باعث بچوں کی اموات کا گراف خطرناک حد تک اوپر رہا

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔31دسمبر۔2014ء) اختتام ہونے والے سال عیسوی 2014ء پاکستان میں صحت کا شعبہ مایوس کن اور بحران میں گھرا رہا۔ وفاقی حکومت اور صوبوں کے محکمہ صحت اور وزرائے صحت کا قلمدان بازیچہ اطفال بنا رہا۔ پنجاب اور سندھ میں سرکاری محکمہ صحت کی عدم سہولیات کے باعث بچوں کی اموات کا گراف خطرناک حد تک اوپر رہا۔ پنجاب، خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان میں محکمہ صحت میں بدانتظامی اور کرپشن عروج پر رہی۔

وزرائے صحت کی تبدیلیاں بھی کوئی تبدیلی نہ لاسکی۔ سندھ میں محکمہ صحت نے اعلیٰ عدالتوں کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے انضمام شدہ سحر افشاں کو دوبارہ حیدرآباد کا ڈرگ انسپکٹر بنادیا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں محکمہ صحت کے اداروں میں ان پسماندہ علاقوں میں اسامیاں خالی پڑی رہیں جہاں صوبائی محکمہ صحت نے طبی اور نیم طبی عملے کی تقرریوں کے احکامات جاری کئے تھے۔

ان صوبائی ملازمین کے خلاف حکم عدولی پر کوئی انضباطی کارروائی بھی نہیں کی گئی۔ خود صوبائی وزیر صحت میر صالح بلوچ نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت میں بہت کچھ کرنے کے اقدامات کا عزم 29 دسمبر کو کردیا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ میں دو وزرائے صحت کی تبدیلیوں سمیت متعدد سیکریٹریز کے تبادلے بھی کوئی تبدیلی نہ لاسکے اور محکمہ صحت خیبر پختونخواہ کرپشن اور بدانتظامی کی دلدل میں رہا جبکہ پنجاب میں سرگودھا کے ضلعی اسپتال میں نومبر سے 29 دسمبر تک 74 بچے انکوبیٹر کی بدانتظامی کے باعث جاں بحق ہوگئے۔

اس کے علاوہ ملتان ودیگر ڈویژن سمیت جنوبی پنجاب میں ضلعی صحت کے ادارے بدتری کا شکار رہے جبکہ منتخب حکومت نے کابینہ میں مکمل وزیر صحت کے بجائے صحت کا نظام نامزد مشیر صحت کے ذریعے چلایا۔ سندھ میں بھی متحدہ کے وزیر صحت کے مستعفیٰ ہونے کے باوجود نئے وزیر صحت ڈاکٹر جام مہتاب ڈھر محکمہ صحت کے انتظام کو بہتر کرنے اور کرپشن کو کم کرنے کے لئے کوئی نمایاں کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔ سیکریٹری صحت اقبال حسین درانی کے تبادلے کے بعد تاحال مستقل سیکریٹری صحت کی تقرری عمل میں نہ آسکی جبکہ صحت کے ترقیاتی منصوبوں میں سے کوئی بھی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔ محکمہ صحت سندھ کرپشن اور بدانتظامی کی دلدل سے باہر نہ آسکا۔

31/12/2014 - 22:18:23 :وقت اشاعت