بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاکستان 2010تک پولیو فری ملک بن جائے گا،ڈی ایچ او اسلام آباد.پولیو مہم میں وفاقی دارالحکومت ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 26/08/2008 - 15:53:36 وقت اشاعت: 25/08/2008 - 00:38:14 وقت اشاعت: 24/08/2008 - 12:26:54 وقت اشاعت: 23/08/2008 - 15:24:48 وقت اشاعت: 22/08/2008 - 15:02:25 وقت اشاعت: 20/08/2008 - 17:09:50 وقت اشاعت: 20/08/2008 - 16:13:18 وقت اشاعت: 20/08/2008 - 14:20:48 وقت اشاعت: 20/08/2008 - 14:20:06 وقت اشاعت: 20/08/2008 - 14:19:25 وقت اشاعت: 19/08/2008 - 22:20:13

پاکستان 2010تک پولیو فری ملک بن جائے گا،ڈی ایچ او اسلام آباد.پولیو مہم میں وفاقی دارالحکومت کو 19زون میں تقسیم کیا گیا ہے،

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین20اگست2008 )ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر اسلام آباد ڈاکٹر محمد سعید نے کہا ہے کہ 2010ء تک پاکستان پولیو فری ملک بن جائے گا اس وقت نوے کی دہائی کے مقابلے میں پولیو زدہ بچوں کی شرح انتہائی کم ہو چکی ہے ،انسداد پولیو کی سہ روزہ مہم کے دوران اسلام آباد میں دو لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔انہو نے کہا دو دنوں میں اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں ایک لاکھ 25ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں اس مقصد کے لئے 640موبائل ٹیمں تشکیل دی گئی ہیں۔

اسلام آباد کے ایریا کو 19زون میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس میں 102سیکٹر سپروائزر تعینات کیے گئے ہیں ۔ڈاکٹر سعید نے کہا کہ کسی بھی علاقے میں ہونے والا پولیو کا کیس محض اس علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ انسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لئے موثر نگرانی کا نظام قائم کیا گیاہے جس کے تحت مختلف علاقوں اور محلوں میں کوریج کا جائزہ لینے کے لئے چیف کمشنر افسر اور ڈسٹرک ہیلتھ افسر جا کر بچوں کے انگوٹھوں میں لگائے جانے والے نشانات کو چیک کیا جا رہا ہے تاکہ ہر بچہ کو پولیو ویکسین کی خوراک کو یقینی بنایا جا سکے اور اسکی زندگی بھری کی معذوری کا خاتمہ کیا جا سکے ۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کی بیماری ختم کرنے کے لیے مزید کاوشیں کی جارہی ہیں تاکہ اس کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔ مختلف علاقوں اور محلوں میں جاکر پولیو کے قطرے پلانے کے لئے رکھے گئے عملے کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پولیو کے کیس کا رونماء ہونا ممکن ہے.
جس پر توجہ دی جارہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پولیو کے خلاف مہم میں موٴثر کردار ادا کرتے ہوئے ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلوانے کے عمل کو یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ نوے کی دہائی کے آغاز میں پاکستان میں پولیو کے ہزاروں کیسز ہوتے تھے جو کہ اب بہت کم ہو چکے ہیں اس وقت ہر سال 30 ہزار سے زائد پولیو کے کیسز آتے تھے جو کہ اب31 رہ گئے ہیں پولیو کے مکمل خاتمے کے حکومت پر عزم ہے اور 2010تک پاکستان پولیو فری ملک بن جائے گا ۔انہوں نے ملک بھر میں پولیو مہم کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 19اگست سے شروع ہونے والی سہ روزہ قومی انسداد پولیو مہم زوروشور سے جاری ہے اس مہم کے دوران 3کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جس کے لئے 75ہزار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ملک بھر کے 27ٹول پلازوں پر پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں جبکہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کی وجہ سے باجوڑ ایجنسی میں کم از کم دو لاکھ بچے پولیو کے قطرے سے محروم رہیں گے۔امسال ملک بھر میں پولیو 31کیسسز کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ وزارت صحت 1994ء سے پولیو کے خلاف مہم چلا رہی ہے ۔ڈسٹرک ہیلتھ افسر نے کہا کہ پولیو وائرس وحشی ہو چکا ہے جو صرف انسان میں ہی زندہ رہ سکتا ہے اسکے علاوہ پولیو وائرس ختم ہو جاتا ہے ملک میں پولیو خاتمہ والدین کے تعاون کی اشد ضرورت ہے اگر بچوں میں قوت معدافعت بڑھ جائے تو وائرس دنیا سے ختم ہو جائے گا ،انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ویکسینیشن سے بچے میں پولیو کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو ہمارے یہاں بچوں کو اکثر ہیضہ وغیرہ رہتا ہے اور اگر اسکے دوران آپ نے قطرے پلائے تو وہ بالکل پانی کی طرح ہیں اور ان کا فائدہ نہیں ہوتا۔


20/08/2008 - 17:09:50 :وقت اشاعت