بند کریں
صحت صحت کی خبریںپنجاب ،سرحد اور سندھ میں مزید ایک ایک پولیو کیس کی تصدیق ،ملک میں مجموعی تعداد 55ہو گئی۔پولیو ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/09/2008 - 12:11:40 وقت اشاعت: 21/09/2008 - 12:36:27 وقت اشاعت: 21/09/2008 - 12:26:04 وقت اشاعت: 20/09/2008 - 02:25:55 وقت اشاعت: 20/09/2008 - 01:26:59 وقت اشاعت: 19/09/2008 - 15:56:49 وقت اشاعت: 19/09/2008 - 15:56:49 وقت اشاعت: 19/09/2008 - 11:10:39 وقت اشاعت: 18/09/2008 - 17:23:07 وقت اشاعت: 18/09/2008 - 15:35:54 وقت اشاعت: 18/09/2008 - 12:30:07

پنجاب ،سرحد اور سندھ میں مزید ایک ایک پولیو کیس کی تصدیق ،ملک میں مجموعی تعداد 55ہو گئی۔پولیو بحران شدت اختیار کر گیا،خطیر رقم خرچ کر کے مرض پر قابو پانے کا دعوی ناکام

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین19ستمبر2008 )سرکاری حکام نے صوبہ پنجاب ،سرحد اور سندھ میں مزید ایک ایک پولیو کیس کی تصدیق کی ہے جس کے بعدملک میں پولیو کیسزکی مجموعی تعداد 55ہو گئی ۔قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ)کے شعبہ وائرالوجی کے آفیسر انچارج نے جمعہ کو این این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز پنجاب ،سرحد اور سندھ سے تعلق رکھنے واکے بعض بچوں کے خون کے نمونے ٹیسٹ کے لئے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) میں لائے گئے تھے جن میں سے مزید تین بچے پولیو وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے متاثرہ بچوں میں پی ون اور پی تھری وائرس پایا گیا ہے اس طرح پنجاب میں پولیو کیسزکی تعداد 11،سندھ میں 15، بلوچستان میں 6،سرحد میں 20جبکہ اسلام آباد میں 3پولیو کیسز کی تصدیق ہوگئی ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر پولیو کیسز صوبہ سرحد اور سند ھ سے ہیں درین اثناء وزارت صحت کے ترجمان نے بھی امسال 55 پولیو کیسزکی تصدیق کی ہے اوریہ تعداد گزشتہ دو سالوں کے مقابلے میں زیاد ہ ہے۔

وزارت صحت کے ہیلتھ ایجوکیشن نے بھی 55 پولیو کیسزکی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 32 تھی جبکہ 2006ء پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 40 تھی۔اس سال اب تک تصدیق ہونے والے پولیو کیسز کی تعدادمیں سے زیادہ تر کا تعلق صوبہ سرحداور سندھ سے ہے۔۔وفاقی حکومت کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی پولیو جیسے مرض پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے اور تعدادبڑھ کر 55ہو گئی ہے وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق اس وقت عالمی ڈونر ممالک سے اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیمیں کروڑوں روپے کے فنڈ فراہم کر رہی ہیں مگر اتنی خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود نتیجہ صفر رہا ہے پوری دنیا میں پولیو کا مر ض 98فیصدتک ختم ہو چکا ہے جبکہ پاکستان میں میں اب یہ مرض ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے حکومت نے پولیو پر قابو پانے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کر دیے ہیں اس طرح بڑے بڑے سیمینار کرائے ہیں مگر پولیو کا مرض چند سالوں تک تو قابو میں رہا مگر اب ایک بار پھر شدت اختیار کر چکا ہے وفاقی وزیر صحت شیری رحمان نے کئی بار سخت نوٹس بھی لیے ہیں نئے سیکرٹری صحت سلمان غنی کو بھی پولیو جیسے مرض کا چیلنج درپیش ہو گا حکومت نے بر وقت توجہ نہ دی تو یہ مرض پورے ملک سے شہری علاقوں تک پھیل جائے گا ،خصوصی پولیو مہم بھی برائے نام رہی ہیں۔


19/09/2008 - 15:56:49 :وقت اشاعت