سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی تارکین کی ملازمتیں ختم ہوجائیں گی

سعودی حکومت نے ’نطاقات‘ پروگرام کا آغاز کر دیا، غیر ملکیوں کو فارغ کر کے مقامی شہریوں کو ساڑھے 3 لاکھ ملازمتیں دی جائیں گی

Muhammad Irfan محمد عرفان پیر مئی 11:52

سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی تارکین کی ملازمتیں ختم ہوجائیں گی
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24مئی2021ء) سعودی مملکت میں گزشتہ کچھ سالوں سے لاکھوں غیر ملکی کارکنان کو فارغ کر کے ان کی جگہ مقامی افراد کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے جسے ’سعودائزیشن‘ کا نام دیا گیا ہے۔سعودائزیشن کی وجہ سے اب تک لاکھوں غیر ملکی بے روزگار ہو کروطن کو لوٹ چکے ہیں جن میں پاکستانیوں کی گنتی سب سے زیادہ ہے۔ اب ایک بار پھر لاکھوں پاکستانیوں کے سروں پر نوکری کے خاتمے کی تلوار لٹکنا شروع ہو گئی ہے۔

سعودی وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے "نطاقات" نام سے ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد مملکت میں مقامی شہریوں کے لیے 3 لاکھ 40 ہزار روزگار کے مواقع مہیا کرنا ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق نائب وزیر برائے انسانی وسائل اور سماجی ترقی ڈاکٹر عبد اللہ بن ناصر ابو ثنین نے بتایا کہ وزارت برائے انسانی وسائل آئندہ تین سال میں تین لاکھ40 ہزارملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

(جاری ہے)

یہ ملازمتیں سعودی شہریوں کے لیے دستیاب ہوں گی۔ ان کے علاوہ بھی ملک میں معیشت میں نئی ملازمتیں وجود میں آئیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ 'نطاقات' پروگرام میں توسیع اور اس کے بہت سے پہلووٴں کو حل کرنے میں کامیابی کے لیے اس کی ترقی کی ضرورت ہے تاکہ لیبر مارکیٹ پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی وزارت انسانی وسائل نے لیبر مارکیٹ میں تین پیشے سعودیوں کے لیے مخصوص کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پہلے اقدام کے طور پر انڈور شاپنگ سینٹرز (مالز) کے تمام پیشے سعودیوں کے لیے مختص کردیے۔ تاہم اس ضمن میں بعض سرگرمیوں اور پیشوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔دوسرا فیصلہ ریستورانوں اور قہوہ خانوں کے بارے میں ہے۔ اس کے تحت ان تمام مقامات پر سعودائزیشن کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔تیسرے فیصلے میں اشیاء خور ونوش فروخت کرنے والے بڑے مراکز میں سعودائزیشن کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ ان تینوں فیصلوں کی بدولت سعودی نوجوانوں کو 51 ہزار ملازمتیں ملیں گی۔

متعلقہ عنوان :

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments