شناخت سے محروم شہری اور قومی شناختی کارڈ

جمعہ فروری

Mufti Mohiuddin Ahmed Mansoori

مفتی محی الدین احمد منصوری

نوجوان بیٹاحصول روزگار کے لئے دن بھر خاک چھانتارہا بلاآخرتھک ہارکے دبے قدموں کے ساتھ گھرمیں داخل ہوئے توماں نے پوچھا بیٹاکوئی کام ملا ؟ بیٹے نے مایوس کن لہجے میں جواب دیا نہیں ماں کمپنی کے مالکان نے قومی شناختی کارڈ مانگاہے ۔ بغیرقومی شناختی کارڈکے کہیں پربھی نوکری ممکن نہیں۔ کراچی کے ہزاروں گھروں کی یہی رودادہے شہرقائدمیں نوجوان سستی کاہلی یا ہنرنا ہونے کی وجہ سے بیروزگار نہیں بلکہ قومی شناختی کارڈ ناہونے کی وجہ سے ناصرف بیروزگار ہیں بلکہ نوجوان تعلیم و تربیت سے خواتین و بزرگ شہری صحت کی سہولیات سے محروم ہیں ۔

کراچی پاکستان کاواحد شہرہے جہاں سہولیات سے زیادہ شہری آبادہے شہرقائدمیں ویسے توہرزبان کے لوگ آبادہیں جن میں زیادہ تر اردو بولنے والوں کے علاوہ بڑی تعدادمیں پختون اور بنگلہ زبان بولنے والے شہری آباد ہیں ۔

(جاری ہے)

بدقسمتی سے ملکِ خداداد میں عرصہ دراز سے تخلیق پاکستان میں بنیادی کرداراداکرنے والوں کی شناخت کومشکوک بنایاہواہے ۔ قومی شناختی کارڈ کی ضرورت و اہمیت کسی ذی ہوش شہری پر مخفی نہیں حصولِ تعلیم ہو یا حصول روزگار فیس اور ڈگری سے پہلے قومی شناختی کارڈ طلب کرتے ہیں اب تو ہسپتال میں علاج سے پہلے اور مرنے کے بعد دفنانے سے پہلے قبرستان میں بھی قومی شناختی کارڈ ہی طلب کیاجاتاہے اس لحاظ سے ہمارے پاس قومی شناختی کارڈ ہونانہایت ضروری ہے ۔

ہمارے ملک میں شناختی کارڈ ہے تو تعلیم ہے روزگار ہے علاج و معالج ہے ۔سہولت ہے وگرنا آپ جٹ جاہل مفلس بیروزگار بیماروپریشان ۔ دنیاچاند سے آگے ستاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں مگرقومی شناختی کارڈ ناہونے کی وجہ سے ایک دنیاموبائل فون سے ناآشناہے۔
مفلس و غریب آدمی اپنی بیٹی کوشادی میں جہیز دینے سے قاصرہے وہ اپنی بیٹی کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیرنے کے لئے کسی ویلفیئر کے پاس جہیز کی بھیک مانگتاہے ۔

جواب ملتاہے کہ اپنے قومی شناختی کارڈ کی کاپی کے ساتھ درخواست جمع کروائیں۔بوڑھاباپ بیمارہے گھرمیں علاج ومعالج کے لئے پیسے نہیں شہرمیں سرکاری ہسپتالوں کی کمی نہیں اورخدمت کرنے کیلئے ویلفیئر کے لاتعداد ادارے بھی موجودہیں۔ مگرنہیں ہے تووہاں جمع کروانے کیلئے قومی شناختی کارڈ۔ دل میں ارمان ہے خواہش ہے کہ اپنے بچے کاخواب پوراکروں اسے خوب پڑھاؤں تاکہ ڈاکٹربنے انجینئربنے والدین نے رات دن محنت مزدوری کی باپ ریڑھی لگاکر،ماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کرکے داخلے کے لئے پیسے جمع کئے پر داخلے کی پہلی شرط بچے کا Bفارم اور والدین کا قومی شناختی کارڈ۔

میری پرچون کی دکان ہے۔ میری آمدنی بہت اچھی ہے میں صاحب حیثیت مالدارہوں پرمیں باوجود فرض ہونے کے حج جیسے عظیم فریضہ اداکرنے سے قاصرہوں باوجود عاشقانہ شوقِ دیدار کے مدینے کی زیارت نہیں کرسکتا کیونکہ اس مقدس سفرمیں مال ومتاع سے پہلے ضرورت ہے شناختی کارڈ کی۔
کراچی میں موجود ہزاروں خاندان قومی شناختی کارڈ کی عدم فراہمی کی وجہ سے شدیدمتاثرہے ان کی خوشیاں خواہشیں مسکراہٹیں، معدوم پڑگئی انکی زندگیوں کی رونقیں بے نور ہوگئی ۔

یہ ان مجبور لوگوں کے لئے ایک ایساتکلیف دہ مرحلاہی کہ جہاں شگفتگی کاایک ایک پھول بوسیدہ ہوکر موسمِ خزاں کی نذرہورہاہو ۔ پریہ بے کس و نادار لوگ اپنی بے بسی پر نوہا بھی نہیں کرسکتے ناہی اس ظلمِ عظیم کے خلاف لب کشائی کی جسارت کرسکتے ہیں ۔ ان مجبور بے حال بے شناخت شہریوں کی ذبوحالی کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ ملک کا سب معتبرادارہ نیشنل ڈیٹابیس رجسڑیشن اٹھارٹی ہے کیونکہ! پاکستان کے ان بے شناخت شہریوں کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات ناہونے کے برابرہیں جواقدامات حال یا ماضی میں کیئے گئے نادرا کے معززا فسران اسے ماننے اور ان غریب الوطن مظلوم ومجبور شہریوں کے مسائل حل کرنے کوتیارنہیں۔

کراچی کے شہریوں کے مسائل نادرا کی غیرمتوازن پالیسی سے زیادہ غیرمہذب بداخلاق اور معتصب افسران کی وجہ سے پیچیدہ ہیں جوکسی صورت کراچی کے شہریوں کوسہولت فراہم کرنے پرآمادہ نظرنہیں آتے۔
نادرا کاعجیب دہرانظام ہی کہ ایک خاندان کے چھ سات افرادکو قومی شناختی کارڈ جاری کرتے ہیں پھراسی خاندان کے باقی ماندہ افرادکو غیرضروری اعتراضات لگاکر یا پھرغیرملکی بناکرواپس کردیتے ہیں۔

میراذاتی مشاہدہ ہے کہ دوبھائی ایک ساتھ CNICکے حصول کیلئے نادرا کے میگاسینٹر میں داخل ہوئے ٹوکن حاصل کیااپنے نمبرآنے پردونوں بھائی الگ الگ کاونٹر میں گئے ایک بھائی کو کلیئر کرکے پروسس مکمل کردیاجبکہ دوسرے بھائی کو مشکوک قرار دے کر انکوئری میں ڈال دیا اب اسے نادراکی ناقص پالیسی کہے یانادراکے افسران (بیوروکریسی)کی ہٹ دھرمی،بعض کیسزز میں قصوروار نادرا کا ادارہ ہوتاہے مگرتمام ترتکلیف متاثرہ شہری اور اسکے پورے خاندان کوبھگتنا پڑتاہے مثلاَ ایک خاندان میں ایک دوایسے افراد کو شناختی کارڈ جاری کیاجاتاہے کہ وہ خاندان کافردہی نہیں ہوتا اور ناہی اس فردکاخاندان سے کوئی واسطہ ہوتاہے بلکہ نادرا کاکوئی راشی افسر چند روپوں کے عوض ایک ایسے بندے کوخاندان میں ڈال دیتے ہیں جسکا نا کوئی فیملی پس منظر ہے اور ناہی پاکستانی شہریت اور پھر نادرا کی اس خودساختہ غلطی کی سزا سالوں سال ایک معززشہری اور اسکے خاندان کودی جاتی ہے اوپرسے انکوائری کانظام اس قدر پیچیدہ او رناقص ہی کہ سالوں تک سائل انتظارکی بھٹی میں جلتارہتاہے مگراسے کوئی معقول جواب نہیں ملتا۔

گزشتہ سال ایک SOP کے ذریعے یہ پالیسی اپنائی گئی کہ وہ شہری جس کے پاس CNICموجودہے مگرکارڈکامقررہ میعادختم ہوچکی ہے ان شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیاجائے اس حکم نامہ کے ساتھ ہی شہریوں کوکچھ سہولت میسرہوئی پرکب تک نادرا کے معزز افسران اسکوبرداست کرتے بس چندہی روز بعد افسران نے اپنی پرانی روش اپناتے ہوئے SOPکوپسِ پشت ڈال دیا۔

نادرا کے افسران کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سائل کتنا مجبوروپریشان ہے ۔ چاہے کوئی مایوسی پریشانی بیماری اور مالی تنگدستی کی وجہ سے تڑپتاہوا عمررسیدہ بوڑھا ان کے آگے ہاتھ جوڑے پاؤں پکڑیں باوجود اس کے کہ اس شہری کے پاس وہ تمام تر دستاویزات موجودہیں جو واضح ثابت کردیں کہ سائل پاکستان کامعززشہری ہے۔ بس ان شہریوں کاقصوریہ ہے کہ انکے آباؤاجداد کی جائے پیدائش متحدہ ہندوستان کے کسی شہریا متحدہ پاکستان کے صوبہ مشرق بنگال ہے ۔

کاش افسران کویادہوتاکہ یہ تحریک پاکستان کے عظیم سپاہیوں کی اولادہیں۔
بہرحال قومی ادراے ملک میں شہریوں کوسہولت فراہم کرتے ہیں ناکہ انہیں پریشان کرتے ہیں نادر ا کا ادارہ کراچی کے شہریوں کومکمل طورپرسہولت فراہم کرنے میں ناکام نظرآتی ہے ۔آج ایک عرصہ گزرنے کے باوجود شہریوں کو قومی دھارے میں شامل ناکرناافسوس ناک بات ہے جبکہ یہ نادرا کی اہم ذمہ داری ہے ۔

امن وامان قائم کرنے ملک کو ترقی کی راہ میں گامزن کرنے ملک کی اکانومی کوبہتربنانے آبادی پرنظررکھنے کے کئے ایک دفعہ سب کو قومی دھارے میں شامل کیاجائے تواس کے بہترین نتائج برآمدہونگے ایک مرتبہ حکومتی ادارے باالخصوص نادرا کو اس حوالے سے سنجیدگی کامظاہرہ کرناہوگا تاکہ کراچی کے عوام کی محرومی ختم ہو ۔ جہاں حکومت بلوچستان اور فاٹا کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے توکیاکراچی کے بے شناخت شہریوں کاکوئی حق نہیں؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

کراچی کے مزید کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Shanakht Se Mehroom Sheri Or Qomi Shanakhti Card Column By Mufti Mohiuddin Ahmed Mansoori, the column was published on 01 February 2019. Mufti Mohiuddin Ahmed Mansoori has written 13 columns on Urdu Point. Read all columns written by Mufti Mohiuddin Ahmed Mansoori on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.