چارسدہ میں قتل ہونے والی بچی کے قتل میں اہم شواہد مل گئے

اب تک 70مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ وفاقی وزیر علی محمد خان

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ اکتوبر 11:19

چارسدہ میں قتل ہونے والی بچی کے قتل میں اہم شواہد مل گئے
چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 اکتوبر2020ء) چارسدہ میں قتل ہونے والی بچی کے قتل میں اہم شواہد مل گئے۔تفصیلات کے مطابق چارسدہ میں بچی کے قتل کو 4 روز گزر جانے کے بعد باجود بھی پولیس ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔اب تک 20 مشکوک افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ وفاقی وزیر علی محمد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ریپ کے بعد قتل کی جانے والی ڈھائی سال کی بچی کے کیس میں اہم شواہد مل گئے ہیں۔

اب تک 70مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔چارسدہ میں ڈھائی سالہ زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے خلاف پشاور اور چارسدہ میں احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان مقتول بچی کے پہنچے اور اہل خانہ سے تعزیت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر علی محمد خان نے کہا کہ جب تک ریپ کرنے والوں کو چوک پر نہیں لٹکایا جاتا ایسے جرائم کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔

ے۔پولیس کی تحقیقاتی ٹیم مختلف زاویوں سے کیس کی تفتیش کر رہی ہے۔ زینب کی ڈی این اے رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔زینب کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس کی تحقیق سے مطمئن ہیں۔ آئی جی پنجاب نے بھی یقین دلایا ہے کہ جلد ملزمان تک پہنچ جائیں گے جبکہ والد نے مجرم کو سرعام پھانسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک خوف پیدا نہیں ہو گا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

واضح رہے چارسدہ کی ڈھائی سال کی بچی کو زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ میڈیکل رپورٹ میں زینب سے زیادتی کی تصدیق کردی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بچی کا پیٹ اور سینہ چیرا گیا، معصوم بچی گزشتہ روز چارسدہ سے اغوا ہوگئی تھی،کمسن بچی کی لاش پشاور میں کھیتوں سے برآمد ہوئی، قتل کی وجہ جاننے کے لیے بچی کا چار مرتبہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ جبکہ ایک انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ اس کیس کی تفتیش کیلئے پشاور اور چارسدہ پولیس میں تنازعہ بھی پیدا ہوا۔

چار سدہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments