عمران خان کو نیچے اتارنے کا واحد طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے ، اعتزاز احسن

اگر دباو کے تحت استعفیٰ لیا تو وہ سیاسی شہید بن جائیں گے ، پی ٹی آئی حکومت صرف 4 ووٹوں پر کھڑی ہے ، اس کے باوجود عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے بہت محنت کرنی پڑے گی ، معروف وکیل سیاسی رہنما کی ٹی وی پروگرام میں گفتگو

Sajid Ali ساجد علی اتوار جنوری 22:21

عمران خان کو نیچے اتارنے کا واحد طریقہ  تحریک عدم اعتماد ہے ، اعتزاز ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 24 جنوری2021ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عمران خان کو نیچے اتارنے کا واحد طریقہ تحریک عدم اعتماد ہی ہے ، اگر ان سے دباو کے تحت استعفیٰ لیا تو وہ سیاسی شہید بن جائیں گے ، حکومت صرف چار ووٹوں پر کھڑی ہے ، لیکن اس کے باوجود عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے بہت محنت کرنی پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014 میں ہم نوازشریف کو وزیر اعظم نہیں مانتے تھے کیوں کہ الیکشن نتائج کے دوران ہی انہوں نے جیت کا اعلان کردیا تھا ، لیکن ہم نے اس وقت بھی کہا کہ دھرنے کی سیاست کے خلاف ہیں ، اس وجہ سے نوازشریف نے ہمارے کہنے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلائے۔

(جاری ہے)

معروف وکیل رہنما نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے ہی وزن سے نیچے گررہی ہے ، کیوں کہ پی ٹی آئی پر کار کردگی دکھانے کے لیے بہت دباو ہے جب کہ پنجاب میں ان کی حکومت کا ووٹوں کا مارجن بھی بہت کم ہے ، یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کردیا ، بلازرداری کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ انڈسٹریل زون کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری طاقت کو نکالنا جانتے ہیں ، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کے تحت حکومت کے خلاف نکلے ہیں ، پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے پلیٹ فارم سے ہی ناجائز حکومت کو گھر بھیجیں گے ، جب ہم حملہ کریں گے تو کٹھ پتلی کو گھر جانا ہو گا ، کیوں کہ عمران خان کی حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے ، مشکل معاشی صورتحال کے دوران وفاق نے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا ، وفاقی حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے اور 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments