موبائل کمپنیوں کو جب لائسنس دیا جاتا ہے اس میں یہ شامل ہوتا ہے کہ کتنے علاقے کو سروس دینا ہے، قائمہ کمیٹی یقین دہانیوں کو بریفنگ

اسلام آباد میں زیادہ سرکاری ملازم رہائش پذیر ہیں اور سرکاری گھر زیادہ ہیں اگر پورے سال میں تین گھروں کی مرمت ہوئی یہ کارکردگی بہتر نہیں، چیئر مین سی ڈی اے پر برہم

جمعہ 17 ستمبر 2021 14:41

موبائل کمپنیوں کو جب لائسنس دیا جاتا ہے اس میں یہ شامل ہوتا ہے کہ کتنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 ستمبر2021ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیوں کو بتایاگیا ہے کہ موبائل کمپنیوں کو جب لائسنس دیا جاتا ہے اس میں یہ شامل ہوتا ہے کہ کتنے علاقے کو سروس دینا ہے۔جمعہ کو سینٹ کی حکومتی یقین دہانیوں کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کامل علی آغا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔

اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سینیٹر طاہر بزنجو،ڈاکٹر ہمایوں محمد خان،شاہین آفریدی،پیر صابر شاہ،ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان،سیکرٹری پارلیمانی امور سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔طاہر بزنجو نے کہا کہ ایبٹ آباد کی یونین کونسل سالہد کے بعض علاقوں میں فور جی کی سروس نہیں تاہم اب لوگوں نے بتایا کہ یہاں کام شروع ہوگیا ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ اگر وہاں کام ہورہا ہے تو اس کو سراہا جانا چاہیے۔صابر شاہ نے کہا کہ اس معاملہ کو سنجیدہ لینا چاہیے۔چیئرمین نے کہا کہ کچھ بہتری کا بتایا گیا ہے اس پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ جولائی میں سروے کیا تھا پھر ستمبر میں ایک اور سروے کیا اس کے مطابق سروس ٹھیک ہے۔یوفون کو فور جی سپیکٹرم کچھ عرصہ پہلے دی گئی ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ کسی افسر کی ڈیوٹی لگائیں وہ جو کمی کوتاہی رہ گئی ہے اس کی نشاندہی کریں۔کمیٹی کوپی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ موبائل کمپنیوں کو جب لائسنس دیا جاتا ہے اس میں یہ شامل ہوتا ہے کہ کتنے علاقے کو سروس دینا ہے۔اگر انہیں یہ کہیں کہ پورے ملک میں سروس دیں تو یہ ممکن نہیں ہوتا۔جہاں کمرشل طور پر ان کو فائدہ نظر آئے تو وہ وہاں تک سروس پھیلا دیتے ہیں۔

2014 میں صرف زونگ نے فور جی سپیکٹرم لیا۔دودن پہلے یوفون کو فور جی سپیکٹرم دیا۔وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ ہمارا اصل مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، اگر ہم ساری کمپنیوں کو کہیں سروس فراہمی کا کہہ دیں لیکن فور جی نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ بہترین فور جی سروس ہو۔جہاں جس کمپنی کا ٹاور یا سروس ہے،اسے پابند کیا جائے کہ وہاں وہ کمپنی فور جی سروس دے۔

چیئرمین نے کہا کہ پی ٹی اے نے گزشتہ اجلاس میں جو یقین دہانی کرائی تھی وہ بتائے کہ یہ دیکھا جائے کہ کون کون سی سروس ہے،اس وقت طلبا وطالبات کی تعلیم آن لائن ہوتی ہے اس لئے فور جی کی ضرورت ہوتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ پہاڑی علاقوں میں سروس ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔جس جگہ کوئی مسئلہ ہو بتایا جائے ہم دیکھ لیں گے۔یونیورسل سروس فنڈ سے فکس سروس کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

کمپنی اپنے معاہدے پر عمل کررہی ہے۔وزیر مملکت علی محمد نے کہا کہ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے صارفین کو سہولت دیں۔صابر شاہ نے پی ٹی اے کی جانب سے ان کے سوال پر بہتر ردعمل پر شکریہ اداکیا۔سی ڈی اے کے ممبر انجنئیرنگ سید منور شاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایٹ 40 گھر کیٹیگری ٹو کی ہے،اس میں اس وقت 6 گھروں کی مرمت ہورہی ہے اس سے قبل دو تین سالوں میں تقریبآ 17کے قریب گھروں کی مرمت ہوچکی ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ اسلام آباد میں زیادہ سرکاری ملازم رہائش پذیر ہیں اور سرکاری گھر زیادہ ہیں اگر پورے سال میں تین گھروں کی مرمت ہوئی یہ کارکردگی بہتر نہیں۔سی ڈی اے نے بتایا کہ یہاں 80 گھر ہیں ان میں 40 پی ڈبلیو ڈی اور چالیس سی ڈی ایمرمت کرتا ہے۔سیکرٹری پارلیمانی امور نے بتایا کہ گھروں کی مرمت کا کام پی ڈبلیو ڈی کرتا ہے۔ان کے پاس بجٹ ہی نہیں ہوتا۔

جو سی ڈی اے میں تبدیل کروالیتا ہے وہاں مرمتی کا کام ہوجاتاہے۔سی ڈی اے نے بتایا کہ جہاں فنڈز نہیں ہوتے تھے وہاں سی ڈی اے فنڈز دیتی تھی اب وہ بند کردیا ہے۔صابر شاہ نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کی ذمہ داری سی ڈی اے کیوں اٹھاتا ہی ہمایوں محمد خان نے کہا کہ بااثر آفیسران اپنے گھر پی ڈبلیو ڈی سے سی ڈی اے میں منتقل کروالیتے ہیں,سی ڈی اے کس معیار کے تحت گھر کا انتخاب کرتی ہی ۔

چئیرمین نے کہا کہ اس کی قانونی جوازیت بھی بتائیں۔سی ڈی اے نے بتایا کہ سی ڈی اے بھی حکومتی گرانٹ سے یہ کام کرتی ہے۔درخواست گزار کی درخواست پر سروے کیا جاتا ہے پھر اس کی مرمتی کا طریقہ کار ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے چالیس گھروں کی تفصیل فراہم کردوں گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ان 80 گھروں میں سے 40 گھر سی ڈی اے نے بنائے ہیں اور چالیس گھر پی ڈبلیو ڈی نے بنائے۔

آرڈیننس کے تحت یہ گھر سی ڈی اے کو بنانے چاہییں تھے۔چئیرمین نے کہا کہ کسی قانون کے بغیر کیسے یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ چاہے تو وہ گھر بنادے۔ڈاکٹر ہمایوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے پاس جو گھر ہیں وہ تو مرمت ہوجاتے ہیں کیونکہ سی ڈی اے کے پاس فنڈز کے کئی ذرائع ہیں جبکہ پی ڈبلیو ڈی کے پاس فنڈز نہیں ہوتے۔یہ تقسیم نہیں ہونی چاہییے،باقی گھر بھی سی ڈی اے کو دیئے جائیں۔

چئیرمین نے سی ڈی اے سے مکمل رپورٹ طلب کرلی۔سی ڈی اے نے بتایا کہ پلاننگ کمیشن کو ہم نے سمری دی ہے کہ سرکاری گھروں کی مرمت کے لئے مزید فنڈز دیئے جائیں۔15000 سرکاری گھر ہیں فنڈز کم ہیں۔ہم درخواست پر کیس ٹو کیس کام کرتے ہیں۔اس وقت 50 کروڑ روپے فوری درکار ہیں۔صابر شاہ نے کہا کہ دو محکموں کے درمیان رسہ کشی ہے۔ہم یہاں معاملہ کے حل اور سٹریم لائن کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔

چیئرمین نے کہا کہ اس سلسلے میں قانونی رائے وزارت قانون سے لے کر جامع رپورٹ دیں۔وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا کہ پی ڈبلیو ڈی پورے پاکستان میں سرکاری گھروں کی ذمہ دار ہے۔اس حوالے سی پالیسی واضح ہونی چاہییے۔پی ڈبلیو ڈی کے لوگوں کو بھی بلایا جائے۔چیئرمین نے کہا کہ اسلام آباد پی ڈبلیو ڈی نے ڈویلپ کیا تھا،الاٹمنٹ بھی اسی نے کی تھی،بعد میں سی ڈی اے بنا۔

یہ تقسیم کیسے ہوئے یہ فیصلہ کہاں ہوا یہ دیکھنا پڑے گا۔پی ڈبلیو ڈی کو بھی بلا لیتے ہیں۔سیکرٹری پارلیمانی امور نے کہا کہ سی ڈی اے کا کام الاٹمنٹ کا ہے۔میرا گھر پی ڈبلیو ڈی کا ہے جب میں یہاں آیا تو میں نے ان سے مرمت کا کہا تو اس میں 14 لاکھ کی لاگت بنائی گئی اور میں نے یہ کام دولاکھ میں اپنی جیب سے کروا دیا۔سی ڈی اے نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی اور سی ڈی اے میں مرمت پر کوئی رسہ کشی نہیں۔

اگر پی ڈبلیو ڈی مرمت کرنا چاہتا ہے تو سی ڈی اے کو اعتراض نہیں۔کمیٹی نے ضلع مانسہرہ کی تحصیل داربند میں اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب پر معاملہ نمٹا دیا۔کمیٹی کو سیکرٹری پارلیمانی امور کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں اور فنکشنلز کمیٹیوں کی ذمہ داریوں،اختیار،فنکشنزکے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ انور بھنڈر کی رپورٹ کے حصول کے لئے کوشش کی لیکن اس کا ریکارڈ نہیں ملا۔

چئیرمین نے کہا کہ پوری قائمہ کمیٹی کا ریکارڈ ہی موجود نہ ہونا تشویش ناک ہے اس پر چیئرمین کو کہیں گے کہ وہ نوٹس لے۔سیکرٹری نے بتایا کہ پارلیمنٹ بالادست ادارہ ہے ہم اس کے سامنے جواب دہ ہیں۔پارلیمنٹ کا کام نگرانی کا بھی ہے۔کسی یقین دہانی کو نوٹ کرنا،عملدرآمد دیکھنا کمیٹی کا کام ہے۔کمیٹی اس پر پھر اپنی رپورٹ اپنی سفارشات کے ساتھ ایوان کو دے گی۔

چئیرمین کی رولنگ بھی یقین دہانی ہے اور متعلقہ وزارت اس پر عمل درآمد کی پابند ہے۔صابر شاہ نے کہا کہ چیئرمین سینٹ نے تربیلا ڈیم میں کشتی ڈوبنے سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ کی ادائیگی نہ ہونے پر وزیر اعلی کو طلب کرنے کی رولنگ دی ہے،اگر چیئرمین نے ساتھ کسی وزیر کو کہا ہو تو یہ نوٹ کریں تو یہ یقین دہانی ہوگی۔چیئرمین نے کہا کہ اس اجلاس کی کارروائی نکلوائی جائے اور اس کا جائزہ لیا جائے۔

سیکرٹری نے کہا کہ رولنگ بھی ساتھ نکلوالیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ کمیٹی عوامی سماعت بھی کرسکتی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ رضاربانی کی جانب سے قائمہ کمیٹیوں کا کام ہول ہائوس سے کرنے کا تجربہ کیا لیکن وہ کامیاب نہیں رہا۔جو باتیں ہم قائمہ کمیٹی میں پوچھ سکتے ہیں وہ پارلیمان میں مشکل ہوتی ہے۔کمیٹی کوبتایا گیا کہ اگر کوئی ممبر چیئرمین،ڈپٹی چئیرمین یا وزیر بن جاتا ہے یا اس کی مدت ختم ہوجاتی ہے تو اس رکن کا بزنس بھی ختم جائے گا۔

اس پر ممبران نے کہا کہ اس میں ترمیم کی جانی چاہییے۔ایسا نہیں ہونا چاہییے ہم پارلیمان کے نمائندے ہونے پر عوامی مفاد میں معاملہ اٹھاتے ہیں۔یہ مسئلہ جب تک حل نہیں ہوتا اس وقت تک ختم نہیں ہونا چاہیے۔چیئرمین نے کہا کہ اس میں ترمیم کرکے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لئے سفارشات کرتے ہیں۔سیکرٹری نے کہا کہ اس حد تک ترمیم ہوسکتی ہے کہ یہ یقین دہانی ہے تو اس کی تکمیل ہونی چاہییے لیکن اگر کوئی ممبر بل لے کر آیا ہے اور وہ ممبر نہیں رہا تب کون اسے آگے لے کر جائے گا،کوئی محرک سبکدوشی کے بعد کمیٹی میں نہیں آسکتا۔

کمیٹی کے تین کام ہیں یقین دہانی کو نوٹ کرے،عمل درآمد کروائے۔وہ یقین دہانیوں پر عملدرآمد کا ٹائم فریم دے سکتی ہے۔کمیٹی یقین دہانی کے مطابق وقت مقرر کرے،اصول وضع کرے۔اس سے معاملات جلد ہوجائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے اب تک 14 مختلف یقین دہانیاں کی گئیں جن میں سے 4 پر عمل درآمد ہوچکا یے جبکہ 10 پر کام جاری ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments