اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد برقرار رہے گی، مہنگائی کی اوسط شرح 7سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ پیر ستمبر 17:24

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
کراچی (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 ستمبر2020ء) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے، اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد برقرار رہے گی، مہنگائی کی اوسط شرح 9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کردی ہے، جس کے تحت اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود 7 فیصد برقرار رہے گی۔ شرح سود میں اتنی تیز تر کمی کبھی نہیں ہوئی، مارچ میں شرح سود 13.5 فیصد تھی، کورونا وباء کے باعث شرح سود میں 6.25 فیصد کمی کی جاچکی ہے۔

شرح سود میں کمی سے کاروباری طبقات کو 470 ارب روپے کا ریلیف ملا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی جائزہ لینے کے بعد شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ نئی مانیٹری پالیسی کے تحت اگلے دو ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 7سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

(جاری ہے)

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں، مہنگائی میں تھوڑا اضافہ ہوا ہے لیکن یہ انتظامی مسئلہ ہے۔

جون کے مقابلے میں اب معاشی حالات بہت بہتر ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر میں 5ارب ڈالر اضافہ ہوگیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بیرونی قرضوں کی وجہ سے نہیں ہوا۔برآمدات ، ترسیلات اور پیداوار کا شعبہ بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ مانیٹری پالیسی کیلئے آخری میٹنگ جون میں ہوئی تھی۔ مانیٹری پالیسی کو تین ماہ گزر چکے ہیں کورونا کی وجہ سے تین ماہ معیشت کیلئے کٹھن تھے۔

معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے لیکن خدشات برقرار ہیں۔اسٹیٹ بینک نے کاروباری برادری کے مسائل حل کرنے کیلئے کام کیا ہے۔اسی طرح لک میں بجلی کے شعبہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں جاری مالی سال کے ابتدائی دوماہ میں گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 162.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی اور اگست 2020ء میں ملک میں بجلی کے پیداوارکے شعبہ میں مجموعی طور42 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی ہے۔

گزشتہ مالی سال کے ابتدائی دوماہ میں ملک میں بجلی پیدا کرنے کے شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 16 ملین ڈالرریکارڈ کیا گیا تھا۔ ایندھن سے بجلی پیداکرنے کے شعبہ میں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں 32.7 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں تھرمل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے شعبہ میں 17.1 ملین ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔

پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں 9.3 ملین ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے دوماہ میں ۔ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں 20.2 ملین ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی تھی۔ کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں کوئی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments