سندھ لاک ڈاؤن، تاجروں نے حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا

کورونا مثبت کیسز میں اضافے کے بعد سندھ میں لاک ڈاؤن اور نئی پابندی عائد، تاجروں نے پابندیاں مسترد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی دے دی، ذرائع

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری ہفتہ 24 جولائی 2021 23:40

سندھ لاک ڈاؤن، تاجروں نے حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جولائی2021ء) کورونا مثبت کیسز میں اضافے کے بعد سندھ میں لاک ڈاؤن اور نئی پابندی عائد، تاجروں نے پابندیاں مسترد کرتے ہوئے حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا، وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی- تفصیلات کےمطابق کراچی تاجر ایکشن کمیٹی نے سندھ حکومت کے شام 6 بجے تک کاروبار کرنے اور ہفتے میں دو روز کاروبار بند رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کو 72 گھنٹوں کا وقت دے کر وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرنے کی دھمکی دے دی۔

کرونا کے بڑھتے کیسز سے نمٹنے کے لئے سندھ حکومت کی جانب سے پیر سے نئی پابندیاں عائدکی گئیں ہیں، جس کے تحت بازاروں، تجارتی مراکز اور مارکیٹس کو صبح 6 سے شام 6 بجے تک کھولنے جبکہ ہفتے میں دو روز کاروبار بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

سندھ حکومت کے حکم پر کراچی میں تاجر ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں تاجر رہنما رضوان عرفان، عتیق میر، شرجیل گوپلانی، حکیم شاہ، جمیل پراچہ، وقاص عظیم، شادی ہالز ایسو سی ایشن کے چیئرمین رانا ریئس سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما جمیل پراچہ کا کہنا تھا کہ ’آج پھر سے اُس جگہ پر آگئے جہاں ڈیڑھ سال پہلے موجود تھے، حکومت نے بتایا ہے کہ کرونا کی 23 لہریں آئیں گی، ابھی تو چوتھی لہر ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’سندھ حکومت ہماری مشاورت کے بغیر ہی فیصلے کرتی ہے جبکہ ہم نے ماضی میں بھی مطالبہ کیا کہ ہمیں مشاورت میں شامل کیا جائے، جن شادی ہالز نے بکنگ کی وہ اب کیا کریں گے؟‘۔

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو بہتر گھنٹوں کا ٹائم دیتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نذر ثانی کرے ورنہ بدھ کو ہزاروں لوگوں کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے‘۔ تاجر رہنما احمد چنوائے کا کہنا تھا کہ ’ وزیراعلیٰ سے استدعا کی تھی کہ کرونا ٹاسک فورس میں تاجر برادری کے نمائندے کو بھی شامل کریں، کیونکہ ہمیں بیٹھ کر یہ دیکھنا ہوگا کہ کراچی میں کاروبار کیسے کرنا ہے، پچھلے ڈیڑھ سال میں کرونا سے کاروبار بہت متاثر ہوا، جس سے چھوٹا تاجر بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور حکومت نے اُس کی بحالی کے لیے کئی اقدامات نہیں ہے‘۔

انہوں نے حکومت کو ساتھ بیٹھ کر مشاورت کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو چھوٹے تاجر کے مسائل کو بھی حل کرنا ہے کیونکہ تاجر کے متاثر ہونے سے ٹیکس ہدف حاصل کرنا بھی آسان نہیں ہوگا، حکومتی نمائندے ہمارے ساتھ بیٹھ کر ویکسی نیشن مہم کو تیز کرنے پر بات کریں، ہم اس معاملے میں مکمل ساتھ دیں گے، ہم حکومت کو جگہ مہیا کریں گے یا ہمیں ویکسین دی جائے تاکہ سب کو کرونا سے بچاؤ کی خوراکیں لگائی جاسکیں‘۔

احمد چنوائے نے کہا کہ ’لاک ڈاؤن کے نام پر رشوت کا بازار گرم ہوجاتا ہے، جس کے گواہ تمام تاجر ہیں‘۔ شادی ہالز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رانا رئیس نے کہا کہ ’حکومت نے وعدہ کیا کہ جو سیکٹر ویکسین کا عمل مکمل کرنے گا وہ سیکٹر بند نہیں ہوگا، ہم نے مکمل ایس و پیز پر عمل درآمد کیا مگر پھر بھی سخت پابندیاں لگائیں گئیں، آج سے شادی سیزن شروع ہونا تھا لیکن پھر سے پابندیاں لگا دی گئیں، اٹھارہ ماہ میں اب تک وزیراعلیٰ نے ہم سے کوئی ملاقات نہیں کی جبکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا سیکٹر ہمار ہی ہے‘۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’حکومت ہمارے سیکٹر کے لئے بھی پیکج اناؤنس کرے کیونکہ اس شعبے سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، شادی ہال مالکان دیوالیہ ہوچکے ہیں‘۔ کراچی تاجر ایکشن کمیٹی کے ڈپٹی کنونیئر شرجیل گوپلانی نے کہا کہ ’ہم نے وزیراعلیٰ سے ملاقات اور بات کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا ہے، حکومت اب نمائندے نہ بھیجے بلکہ مراد علی شاہ ملاقات کے لیے خود وقت نکالیں، ہم آج ہی احتجاج پر جارہے تھے لیکن سندھ حکومت کو بہتر گھنٹوں کا وقت دے رہے ہیں‘۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments