لعل شہباز قلندرکے عرس کے موقع پر 25 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد متوقع ہے، چیف سیکریٹری سندھ

منگل اپریل 23:59

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اپریل2019ء) لعل شہباز قلندرکے 767 ویں سالانہ عرس کے انتظامات سے متعلق چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقدہ ہوا۔اجلاس میں سیکریٹری اوقاف محمد نواز شیخ، کمشنر حیدرآباد محمد عباس بلوچ، ڈی آئے جی حیدرآباد نعیم شیخ کی انتظامات کے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس میں کمشنر حیدرآباد نے بتایا کہ انڈس ہائی وے پر حادثات روکنے اور زائرین کی سہولت اور رہنمائی کے لئے موٹر وے پولیس کے 300 اہلکار ، پولیس موبائیل اور ایمبولینس موجود ہونگے۔

انہوںنے مزید بتایا کہ سیہون شہر میں مختلف مقامات پر 40 ہیٹ اسٹروک کیمپ اور مختلف کیمپ ہسپتال قائم کئے گئے ہیں۔ 20 ہزار زائرین کی سہولت کے لئے سیہون میں ٹینٹ سٹی قائم کیا گیاہے۔

(جاری ہے)

ڈی آئی جی حیدرآباد نے بتایا کہ عرس مبارک کے لئے جامع سیکیورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے جس میں سہون آنے والے تمام راستوں پر چیکنگ ہوگی۔ ڈی آئی جی حیدرآباد نے مزید کہا کہ تمام زائرین کو واک تھرو گیٹ سے داخل کر کے کلیئر قرار دے کر مزار کی طرف روانہ کیا جائے گا اس معاملے میں اوقاف اور ضلعی انتظامیہ کا انکے ساتھ تعاون ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ اس دفع لعل شہباز قلندر کے عرس کے موقع پر 25 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد متوقع ہے۔ زائرین کے لئے تمام سہولیات فراہم کی جائیں اور عرس مبارک پر سیکیورٹی اولین ترجیح ہے۔ کنٹرول روم سے سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ پولیس، رینجرز ، اوقاف اور ضلعی انتظامیہ کا آپس میں روابط رہیں۔

ممتاز علی شاہ نے مزید کہا کہ عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ کو مکمل فعال کیا گیا ہے، 100 بیڈ اسپتال اور ڈاکٹر کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوںنے کہا کہ اڑل نہر اور دریائے سندھ میں نہانے پر قلم 144 نافذ کیا گیا ہے اور پولیس اور ضلعی انتظامیہ پابندی کو یقینی بنانے۔ عرس کے موقع پر شہر میں صفائی اور پانی کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

سیکریٹری اوقاف نے کہا کہ عرس کے دوران بجلی اور پانی کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں ٹینکر اور بوتل واٹر کے زریعے زائرین کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ڈی آئی جی حیدرآباد رینجرز، پولیس اور نیوی کی نفری اڑل واہ اور دریائے سندھ پر موجود ہونگے اور پولیس کی طرف سے بھی ایک اسپتال قائم کیا گیا ہے۔ اور درگاھ کے آس پاس سے تمام انکروچمنٹ کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments