مارکٹائی کر کے ترقیاں لینے والے پولیس افسران عدالت میں پیش ہوں‘ جسٹس ثاقب نثار

دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے کیس میں امین وینس ،عمر ورک ذاتی حیثیت میں طلب مقدمہ بھی درج کرائیں گے اور معاملے کو منطقی انجام کی طرف بھی بڑھائیں گے‘ چیف جسٹس/ آئی جی پنجاب کو بھی طلب کر لیا گیا

جمعہ اگست 20:35

مارکٹائی کر کے ترقیاں لینے والے پولیس افسران عدالت میں پیش ہوں‘ جسٹس ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے کیس میں امین وینس اور عمر ورک کو ذاتی حیثیت میں اور آئی جی پنجاب کو طلب کر لیا ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیاکہ سابق سی سی پی او امین وینس نے مرحوم شہری کے 80کروڑ مالیت کے کاروبار کو 40کروڑ میں فروخت کرنے کا زبردستی معاہدہ کرایا۔قانون کے تحت عدالت لگانا پولیس کا کام نہیں اور سابق ایس ایس پی عمر ورک نے اس سارے عمل میں معاونت فراہم کی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ یہ وہی سی سی پی او ہے جس کی زمینوں سے گزرنے والے نالے کا معاملہ بھی عدالت میں آیا تھا۔

سرکاری وکیل نے جواب دیا جی بدو نالے والے معاملے میں بھی سابق سی سی پی او سے متعلق عدالت نے حکم دیا تھا۔سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے بتایا کہ سابق سی سی پی او امین وینس کا معاملہ نیب میں بھی ہے۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ یہ تو سیدھا سادھا نیب کا معاملہ ہے، مارکٹائی کر کے ترقیاں لینے والے پولیس افسران آج عدالت میں پیش ہوں، مقدمہ بھی درج کرائیں گے اور معاملے کو منطقی انجام کی طرف بھی بڑھائیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے سابق سی سی پی او امین وینس اور پولیس افسر عمر ورک کو ذاتی حیثیت میںاور آئی جی پنجاب کو بھی طلب کر لیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments