لورالائی میں منشیات اور فحاشی کے مراکز کا کاروبار عروج پر ہے ، عوامی حلقے

مخصوص گلیوں میں ان کے اڈوں کی بھر مار ، نوجوان نسل تباہی کے نشانے پر پولیس اور انتظامیہ فوری ایکشن لے

جمعہ 15 اکتوبر 2021 23:47

لورالائی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اکتوبر2021ء) لورالائی میں منشیات اور فحاشی کے مراکز کا کاروبار عروج پر مخصوص گلیوں میں ان آڈوں کی بھر مار سے نوجوان نسل تباہی کے نشانے پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ ان کیخلاف فوری ایکشن لیکر نوجوان نسل اور دیگر کے مستقبل کو محفوظ بنائے منشیات اور فحاشی کے مخصوص اڈوں کے خلاف کریک ڈوان کرکے انکا خاتمہ کیا جائے اور ا س کاروبار میں ملوث اور اسکی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کا فوری آغازکیا جائے بصورت دیگر نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہونے سے کوئی نہیں بچا سکے گا لورالائی کے بعض محلوں میں شراب کا کاروبار بھی ہورہا ہے لیکن پولیس اور ایکسائز اسکے خلاف کاروائی نہیں کررہے منشیات اور خاص کر شراب کا کاروبار اقلیتوں کے مذہب کے نام پر ہوتا ہے اور انکے افراد کو لائسینس بھی جاری کئے جاتے ہیں اسلام میں زنا کاری اور منشیات فروشی کو حرام اور گناء کبیرہ قرار دیا گیا ہے اسی طرع غیر مذہب میں بھی فحاشی اور شراب سمیت دیگر منشیات حرام ہیں لہذا حکومت اس سارے دھندے میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کاروائی کرے منشیات اور عیاشی کا عادی پاکستان کاکسی صورت ترقی و خوش حالی کے جانب گامزن نہیں ہوسکتا منشیات کا عادی گھر اور معاشرے میں اپنا اصل مقام کھو دیتا ہے جس سے اسکی زندگی تباہ و بربار ہو جاتی ہے اور وہ سبکی نظروں میں بھی گھر جاتا ہے نہ وہ دین کا رہتا ہے او نہ ر ہی زندگی کے کسی کام آتا ہے بلکہ اسکا گھر بھی اجڑ جاتا ہے منشیات کے عادی فرد کا پورا خاندان پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے اور حکومت منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے منشیات سینٹرز بناتی ہے جسپر بھی کروڑوں روپے کا خرچ بجٹ سے لیا جاتا ہے اگر حکومت ان منشیات کے آڈوں کو خاتمہ یقینی بنائے تو ایک انسان کی قیمتی زندگی بھی بچ سکتی ہے اور سرکاری خزانے کا ضیاع سے بھی منشیات کے آڈوں سے انتظامیہ کوئی تعاون نہ کرے تو یہ آڈے خود بخود ہی ختم ہو سکتے ہیں ان آڈوں سے منتھلی اور ٹیکسز سے اگر حکومت کو کوئی مالی فائدہ مل رہا ہے تو کوئی اور زرائع تلاش کئے جائیں تو بہتر ہی گا لورالائی میں ایم پی اے کی کوششوں سے منشیات کا ہسپتال منظور ہوا ہے جو کہ یقینا ایک خوش ائیند بات ہے جسمیں اس لت میں شامل تمام افراد کا سروے کرکے انھیں ہسپتال میں علاج ممکن بنایا سکے گا منشیات اور بے حیائی کے آڈوں کے خلاف کارو ائی میں سماجی قبائلی سیاسی اور سول سوسائیٹی کو بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا اس ناسور کے خلاف ہر فورم اور پلیٹ فارم پر بھر پور آواز اٹھا کر اس ناسور کا خاتمہ کر کے اپنے نوجوانوں اوردیگر طبقوں کے مستقبل کو محفوظ بنا ئیں تا کہ ہم ایک باحیاء اور خوشحال قوم اور ترقی کے منازل طے کر سکیں۔

لورالائی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments