حکمرانوں کی غلط عوام دشمن منفی پالیسیوں کی وجہ سے ہر فرد متاثر و پریشان ہے،مولانا عبدالحق ہاشمی

گیس میسر ہے نہ بجلی آرہی ہے ، عوام کی دکھوں وپریشانیوں کا مداواجماعت اسلامی ہی کر سکتی ہے ، صوبائی امیر لله

جمعرات نومبر 21:24

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2020ء) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی غلط عوام دشمن منفی پالیسیوں کی وجہ سے ہر فرد متاثر پریشان ہے جماعت اسلامی عوام کی دکھوں وپریشانیوں کا مداواکر سکتی ہے ۔موجودہ حکومت کی غریب دشمن پالیسیوں سے بلوچستان بہت زیادہ متاثر اور عوام دووقت کے کھانے ،جان ومال کی حفاظت ومستقبل کیلئے پریشان ہیںعوام کو تعلیم صحت روزگار کے حوالے سے بہت پریشانی ہے گیس میسر ہے نہ بجلی آرہی ہے زراعت ومعیشت تباہ پریشان حال عوام کا کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

انہوں نے کہاکہ حکومتی ڈنگ ٹپائو پالیسیوں سے ملک میں معاشی بد حالی اور بے یقینی کی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ تاجر پریشان اور دیہاڑی دار طبقہ تباہ ہوچکا ہے۔

(جاری ہے)

سٹیٹ بنک کی تازہ رپورٹ حکمرانوں کی بد ترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو مطمئن ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت نے بلا تفریق ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کو رلایا ہے مہنگائی نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

حکومتی نمائندوں کیساتھ ساتھ ناجائز منافع خور ، ذخیرہ اندوز اور گرانفروش دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ ملک میں قیامت اور نفسا نفسی کا عالم ہے۔ گھی، آئل 30روپے فی کلو اضافے کے ساتھ جبکہ چینی اور آٹا ڈبل نرخوں پر دستیاب ہے۔ یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ سترفیصد زرعی آبادی والا ملک گندم بیرون ملک سے درآمد کرنے پر مجبور ہے۔

حکمرانوں کو اپنی کارکردگی اور نا اہلی کا جواب عام انتخابات میں دینا پڑے گا۔ ہر طرف مہنگائی بے ،روزگاری ہے ۔حکمرانوں نے عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے جبکہ دوسری جانب کرونا وائرس کی نئی لہر نے عوام کو خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔ حکومت سمیت پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور دیگر ادارے صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ وزیر اعظم اوران کی نااہل ٹیم ڈھٹائی کے ساتھ مسلسل غلط بیانی کرکے عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ حکومتی ترجمانوں سمیت تمام وزراء کے درمیان بھی جھوٹ بولنے کا مقابلہ جاری ہے۔ لوگوں کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments