ملک مشکل دور سے گزرکر اب بہتری کی جانب گامزن ہوچکا ہے،صدر مملکت

ہم وہ قوم ہیں جس نے دہشت گردی کو شکست دی ہماری افواج اور عوام نے مل کر مشکل حالات کا سامنا کیا،ڈاکٹر عارف علوی کاسکھر میں طلباسے خطاب

پیر اکتوبر 22:54

ملک مشکل دور سے گزرکر اب بہتری کی جانب گامزن ہوچکا ہے،صدر مملکت
سکھر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 اکتوبر2020ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ جو قومیں اصولوں پر بنتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں مضبوط تعلیمی نظام میرٹ اور انسٹی ٹیوشنز کو مضبوط کیا جا رہا ہے مشکل وقت سے گزر گئے ہیں اب ہم بہتری کی طرف گامزن ہیں آئی بی اے سکھر میں طلباسے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے دنیا بھر میں راستے کھل رہے ہیں ہم وہ قوم ہیں جس نے دہشت گردی کو شکست دی ہماری افواج اور عوام نے مل کر مشکل حالات کا سامنا کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں اعلی تعلیم اور ریسرچ کے مواقع حکومت مختلف پروگرامز کے تحت بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ ترقی کرے گا تو ملک ترقی کرے گا ۔ہمارے نوجوان پاکستان میں بیٹھ کر ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے بیرون ممالک کی جاب حاصل کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جمہوریت میں تنقید کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ملک کی ترقی بھی جمہوریت میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ یورپ اور دوسرے ممالک میں چند سو مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے سربراہ مملکت فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم کے عزم اور حوصلے بلند ہیں اچھی قیادت کے فیصلوں کی وجہ سے آج دنیا بھر میں کورونا کی بچاو کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں لیکن ادارے تب ہی بنتے ہیں جب ادارے مضبوط ہوں گے تو ملک ترقی کرے گا ۔

تقریب سے وائس چانسلر ای بی اے سکھر پروفیسر ڈاکٹر میر محمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر آئی بی اے 70 فیصد طلبہ کو اسکالرشپ دے رہا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں ہم نے میرٹ کو برقرار رکھا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے آئی بی اے کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالیں تقریب میں طلبانے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے براہ راست سوالات بھی کیے تقریب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل طلبااور پروفیسرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سکھر شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments