بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو جنگ کی دھمکی

بھارتی فوج تضادات‘خرافات‘بزدلوں اور بھگوڑوں کا ہجوم ہے جب تک ہر نیا بھارتی آرمی چیف پاکستان کو جنگ کی دھمکی نہ دے لے اُسے اپنی تقرری کا یقین نہیں آتا

بدھ فروری

Bharti army chief ki pakistan ko jung ki dhamki
ارشاد احمد ارشد:
نئے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھی گذشتہ دنوں پاکستان کو جنگ کی دھمکی دے ڈالی کسی بھی بھارتی آرمی چیف کی طرف سے پاکستان کو جنگ کی دھمکی دینا کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی باعث تعجب و حیرت ہے جنرل بپن راوت نے بھی وہی کیا جو ان کے پیش رو کرتے چلے آرہے ہیں،حیرت تو تب ہوئی جب جنرل بپن راوت پاکستان کو جنگ کی دھمکی نہ دیتے پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دینا ہر بھارتی آرمی چیف کے فرائض میں شامل ہے جب تک ہر نیا بھارتی آرمی چیف پاکستان کو جنگ کی دھمکی نہ دے لے اس وقت تک شائد اسے یقین نہیں ہوتا کہ وہ آرمی چیف بن چکا ہے سو جنرل بپن راوت نے بھی آرمی چیف بننے کی خوشی میں پاکستان کو جنگ کی دھمکی دئے ڈالی بات صرف بھارتی آرمی چیفس کی نہیں بلکہ ہر بھارتی سیاستدان اور حکمران بھی جنگی جنون سوار ہے قارئین کو شائد حیرت ہوگی کہ پاکستان کو جنگ کی پہلی دھمکی گاندھی نے دی تھی وہ بھی قیام پاکستان کے صرف ایک ماہ بعد گاندھی نے جب پاکستان کو جنگ کی دھمکی دی اس وقت وہ پرار تھنا میں مصروف تھے اس سے بھارتی حکمرانوں کے پاکستان کے خلاف جنگی جنون کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جنرل بپن راوت کا تعلق اگرچہ انفنٹری سے ہے تاہم وہ سپر سیڈ جنرل ہیں ان کو مسلمان لفیٹنیٹ جنرل پی ایم حارث اور لفیٹنیٹ جنرل پروین بخشی پر ترجیح دی گئی تھی 70 برس کے عرصہ میں بھارتی فوج کے 26 آرمی چیفس بن چکے ہیں اس فہرست میں ایک بھی مسلمان جنرل نہیں ہے سنیارٹی کے اعتبار سے بھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا مسلمان جنرل پی ایم حارث کو آرمی چیف بننا چاہئے تھا لیکن نریندر مودی نے پی ایم حارث کی بجائے ایک جونئیر جنرل بپن راوت کو آرمی چیف بنادیا سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا سروسز میں مسلمانوں کی نمائندگی تشویشناک حد تک کم ہے کمیٹی نے جب بھارتی فوج میں مسلمانوں کی تعداد کی معلومات مانگیں تو فوج نے یہ کہتے ہوئے معلومات دینے سے انکار کردیا تھا کہ وہ مذہبی بنیاد پر اعداد و شمار جاری نہیں کرے گی یہ بیان اور وضاحت درحقیقت فوج میں مسلمانوں کی شرمناک حد تک نمائندگی کم ہونے پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش تھی یقینی بات ہے اگر جنرل پی ایم حارث کو آرمی چیف بنادیا جاتا تو اس سے مسلم سماج کا حوصلہ بڑھتا لیکن جب بات کسی مسلمان کی ہو تو بھارتی حکمرانوں کے سارے اصولوں ضابطے،جہموریت اور سیکولر ازم کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اس وقت بھارتی حکمران،،،،صرف اور صرف ہندو بنیاد برہمن کی نظر سے دیکھتے سوچتے اور فیصلے کرتے ہیں یہی سوچ اور فکر بھارتی حکمرانوں اور جرنیلوں کو پاکستان کے خلاف مہم جوئی پر برانگیخة کرتی ہے چنانچہ بھارتی فوج کے نئے سربراہ جنرل بپن راوت نے عادت سے مجبور ہوکر اور ماضی کی روایات کے عین مطابق پاکستان پر دباﺅ بڑھانے جنگ میں الجھانے اور مقبوضہ جموں کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے فوجی کاروائیوں میں تیزی لانے کی دھمکی دے ڈالی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل بپن راوت نے کہا کہ وہ پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے لئے فوجی کاروائیوں میں تیزی لانے کے حق میں ہیں تاکہ بقول ان کے سرحد پار دہشت گردی کو روکا جاسکے اس سے پہلے بھارتی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ ان کی فوج پاکستان کے جوہری دھوکے سے نمٹنے اور اگر حکومت کہے تو سرحد پار کرکے کاروائی کرنے کے لئے بھی تیار ہے جبکہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا جارحیت مسلط کرنا بھارت کی خواہش ہوسکتی ہے ہماری جوہری صلاحیت مشرق کی طرف سے آنے والے خطرات کے لئے ہیں ایٹمی صلاحیت نے ہی بھارت کو جنگ سے باز رکھا ہوا ہے وہ ہماری عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما کر دیکھ لے اگر بھارت نے مہم جوئی کی تو اس کا بھرپور جواب ملے گا جنرل آصف غفور سے پوچھا گیا کہ بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو دھوکہ قرار دیا ہے،،،،،،؟اس پر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا بھارتی آرمی چیف کا بیان انتہائی بچگانہ اور غیرذمہ دارانہ ہے ہم سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف ایک انتہائی ذمہ دار پوسٹ ہوتی ہے یہ پوسٹ فور سٹار وہ رینک ہے جو زندگی بھر کے تجربے اورپختگی سے حاصل ہوتا ہے لہٰذا اس ذمہ دار عہدے پر موجود شخص کی طرف سے ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان نامناسب ہے اس طرح وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے عزم کو آزمایا تو جنرل راوت کا شک دور کردیا جائے گا جنرل بپن راوت اس فوج کے چیف ہیں جو اس سے قبل متعدد بار پاکستان کے ساتھ پنجہ آزما چکی اور ہر بار منہ کی کھاچکی ہے بھارتی فوج کو پورس کے ہاتھی ناانصافیوں تضادات خرافات بزدلوں اور بھگوڑوں کی فوج قرار دیا جائے تو بے جانہ ہوگا 27 اکتوبر1947 کو بھی بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا اس جنگ میں نہتے کشمیری مجاہدین قبائل اور پاک فوج کے چند ایک دستوں نے بھارت کے قبضہ سے ریاست جموں کشمیر کا ایک بڑا علاقہ آزاد کروالیا تھا جسے دنیاآج آزاد جموں کشمیر کے نام سے جانتی ہے اس کے 18 سال بعد1965 میں ایک بار پھر بھارت بڑے پیمانے پر پاکستان پر حملہ کردیا تھا اس وقت بھی بھارتی آرمی چیف جے این چوہدری کے سرپر جنگی جنون سوار تھا اس نے اپنی فوج کو باور کردار کھاتھا کہ پاک فوج ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتی اوریہ کہ پاکستان صرف دو گھنٹے کی مار ہے سحری کے وقت ہم واہگہ بارڈر پر حملہ کریں گے تو صبح کے وقت ہمارے ٹینک لاہورکے مال روڈ پر دوڑرہے ہوں گے ناشتہ لاہور اور جم خانہ کلب میں کریں گے شراب کا جام لنڈھائیں گے اور لڑکیاں نچائیں گے اسی زعم میں 6 ستمبر کی رات چار بجے بھارتی فوج پاکستان پر حملہ آور ہوئی پاکستان کو دو گھنٹے میں فتح کرنے کا بھیانک سراب بن گیا اور لاہور جم خانہ کلب میں صبح کا ناشتہ کرنے کا خواب بھی ادھورا ہی رہ گیا اس جنگ میں بھارت نے اپنی مرضی کا ہر محاذ کھولا،،،،لیکن وہ جہاں بھی حملہ آور ہوا دندان شکن جواب ملا دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی لڑائی سیالکوٹ سیکٹر میں لڑئی گئی اس محاذ پر ٹینک،ٹینک سے ٹکڑاگئے اور بار بار ٹکراتے رہے ٹینکوں کی اس لڑائی میں بھارت کو تین ایک کی عدد برتری حاصل تھی اور اس نے یلغار بھی اچانک کی تھی مگر چونڈہ کا محاذ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا تھا یکم ستمبر کو ہمارے دو سپر جیٹ طیاروں نے بھارت کے چار طیارے گرا کر بھارت پر جس برتری کا آغاز کیا وہ جنگ کے اختتام تک قائم رہی جنگ ستمبر کے دوران دنیا بھر کے غیر ملکی جنگی وقائع نگار پاکستان پہنچے سب نے برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارت اپنی آبادی جنگی وسائل اور تین ایک کی عددی برتری کے باوجود کسی بھی محاذ پر پاکستان کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکا جنرل بپن راوت نے ماضی کے آرمی چیفس کے برعکس پاکستان کے خلاف ایک نئی در فنطنی چھوڑتے ہوئے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو دھوکہ قرار دیا ہے اسی طرح کا دھوکہ واجپاتی کو بھی ہوا تھا جب اس نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو سبق سکھانے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن جب جواب میں پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کئے تو اسی وقت ہی بھارت کے غبارے سے ہوا نکل گئی تھی اور واجپاتی تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بیانات دینے پر مجبور ہوگئے تھے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو سمجھنے کے لئے جنرل بپن راوت کو کینڈین انٹرنیشنل پیس اینڈ سٹینز سروے کی یہ رپورٹ ضرور پڑھ لینی چاہئے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان پیس کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 350 نیوکلئیر وار ہیڈ ہیں رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وار ہیڈ بھارتی وار ہیڈ سے زیادہ جدید اور جلد مارک کرتے ہیں ان کو جنگ کے لیے تیار کرنا اور اکٹھا کرنا بہت آسا ن ہے جبکہ بھارتی ٹیکنالوجی پاکستان کی ٹیکنالوجی سے بہت پیچھے ہیں پاکستانی وارہیڈ کے نشانے پر بھارت کے کئی اہم شہر بھی ہیں یہ توہے پاکستان کی بھارت کے مقابلے میں ایٹمی صلاحیت جس کا اعتراف دشمنوں کو بھی ہے جہاں تک بھارتی فوج کی لڑنے کی صلاحیت کا تعلق ہے اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ جب فروری 2017 میں مقبوضہ کشمیر میں تربیت حاصل کرنے والے فوج کے 300 کمانڈوز کو بھارتی ریاست بہار میں ماﺅ باغیوں کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا گیا تو بہار پہنچنے سے قبل راستے میں ہی59 کمانڈوز لاپتہ ہوگئے اس شرمناک واقعہ پر فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ کمانڈوز لاپتہ نہیں ہوئے بلکہ حکام کو آگاہ کیے بغیر اپنے گھروں کو چلے گئے تھے اس شرمناک واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد پورے بھارت میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور فوج کی لڑنے کی صلا حیت پر طرح طرح کے سوالات کھڑے ہوئے دوسری طرف بھارتی فضائیہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے پاس پاکستان اور چین کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے بھارتی فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں 200 طیاروں کی کمی کا سامنا ہے اور 45 آپریشن اسکواذرنز کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت یہ تعداد صرف32 ہے اسی طرح ائیر وائس چیف ائیر مارشل بی ایس دھاینانے پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے دفاع کو بتایا کہ ان کے پاس پاکستان اورچین کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت نہیں ہے وائس چیف ائیر مارشل بی ایس دھانیا کا یہ انکشاف خاصا دلچسپ ہے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی جب سے اقتدار میں آئے ہیں وہ مسلسل پاکستان کو جنگ کی سنگین دھمکیاں دیتے چلے آرہے ہیں اور کسی اشتعال کے بغیر لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے جنگی ماحول پیدا کرنے کے درپے ہیںجنرل بپن راوت ہوں یا نریندرمودی سب کو اس حقیقت کا اچھی طرح ادراک ہے کہ وہ جنگ کے میدان میں مرد میدان بن کر پاکستان کا مقابلہ نہیں کرسکتے یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے اسے تباہ کرنے میں مصروف ہے ان سازشوں کا بھانڈہ بھارت کے سابق آرمی چیف بکرم سنگھ پھوڑچکے ہیں جنرل بکرم سنگھ نے بھارتی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار پاکستان کو تباہ کرنے کے لئے پاکستانی عناصر کو ہی استعمال کررہی ہے بھارتی سابق آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں کو ان کے اپنے اداروں کیخلاف اکسانا ہوگا اور مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو اندرونی مسائل میں الجھانا ہوگا یہ ہیں بنیاکے پاکستان کے خلاف عزائم وارادے یقینی بات ہے ان ناپاک عزائم کا مقابلہ ہم باہمی اتحاد سے ہی کرسکتے ہیں جب ہم متحد متفق ہوجائیں تو بھر بنیا کو بیانگ دھل کہہ سکتے ہیں ،
”نہ خنجر اٹھے گانہ تلواران سے“
”یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں“

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Bharti army chief ki pakistan ko jung ki dhamki is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 14 February 2018 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.