سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کی تعیناتی سے نئی تاریخ رقم

جسٹس عائشہ ملک پاکستان میں خواتین قانون دانوں کیلئے ایک روشن نظیر ہے

منگل 25 جنوری 2022

بشریٰ شیخ
بلاشبہ جوڈیشل کمیشن کا کثرت رائے سے لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں بطور جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دینا ایک احسن عمل ہے جس سے اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی ہو گی۔جسٹس عائشہ ملک ملکی تاریخ میں عدالت عظمیٰ کی پہلی خاتون جسٹس ہوں گی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کے معاملے پر غور کیا گیا۔جوڈیشل کمیشن کے 5 اراکین نے ان کے حق میں ووٹ دیا اور 4 اراکین نے مخالفت کی۔یاد رہے کہ جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی میں سینیارٹی کے حوالے سے ایک تنازع نے بھی جنم لیا اور وکلا نے احتجاجی ہڑتال تک کی دھمکی تک دے ڈالی۔

(جاری ہے)

بہرحال جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی ایک مثبت روایت ہے کہ معمول سے ہٹ کر بہت سی خواتین نے وکالت کے شعبے میں قدم رکھا ہے ایسی مثال ان کی ہمت افزائی کا باعث بنے گی۔جسٹس عائشہ ملک نے ہی پاکستان میں ٹو فنگر ٹیسٹ کو کالعدم قرار دیا۔جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کے بعد پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں پہلی خاتون جج کی تعیناتی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔


پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد وہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدلیہ میں جج بننے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کر لیں گی۔اس فیصلے کے بعد ٹوئٹر سمیت پاکستانی سوشل میڈیا پر جسٹس عائشہ ملک کا نام ٹاپ ٹرینڈ رہا۔زیادہ تر صارفین پہلی خاتون جج کی نامزدگی پر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔پاکستان کی انسانی حقوق سے متعلق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر لکھا،”پاکستان میں خواتین کے لئے آگے کی سمت ایک اور اہم قدم۔

پاکستان سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج۔جسٹس عائشہ ملک کو مبارک باد،لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ان کا ریکارڈ مثالی ہے۔سپریم کورٹ میں خاتون جج کی تعیناتی کا یہ پہلا قدم ہے اور کئی دیگر انتہائی قابل خواتین جج بھی موجود ہیں۔“نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے ٹویٹ کیا،”جسٹس عائشہ ملک کو مبارک،آپ نے تاریخ رقم کر دی ہے۔


جرمنی اور امریکہ سمیت متعدد ممالک کے سفیروں اور سفارت خانوں کی جانب سے بھی اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔اسلام آباد میں تعینات جرمن سفیر برن ہارڈ شلیگ ہیک نے ٹویٹ کیا،”ہمیں پاکستان جوڈیشل کمیشن کی طرف سے عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کے طور پر نامزدگی پر بہت خوشی ہے۔جسٹس عائشہ اور قانون سے وابستہ تمام افراد کو مبارک باد۔

یہ تاریخی لمحہ ہے اور پاکستان میں خواتین قانون دانوں کے لئے ایک روشن نظیر ہے۔“جسٹس عائشہ اے ملک لاہور ہائیکورٹ کے 40 معزز جج صاحبان میں شامل صرف دو خاتون ججوں میں سے ایک ہیں۔پاکستان میں خواتین وکلا کے یکساں مواقع کیلئے کام کرنے والے گروپ‘ویمن ان لا‘ کے مطابق محض 15 فیصد خواتین جج پاکستان کی عدلیہ کا حصہ ہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی گرائمر سکول سے اور ایل ایل ایم کی ڈگری امریکہ کے ہارورڈ لا سکول سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے واپس کراچی آ کر اپنی عدالتی پریکٹس کا آغاز کیا۔

کراچی میں قائم فخر الدین جی ابراہیم اینڈ کو کے سینئر پارٹنر زاہد ایف ابراہیم کی جسٹس عائشہ اے ملک سے پہلی ملاقات 1997ء میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ انٹرویو دینے آئیں تھیں۔اگلے چار سال جسٹس عائشہ ملک نے زاہد ایف ابراہیم کے والد اور سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ فخر الدین جی ابراہیم،جو بعد میں گورنر سندھ بھی تعینات ہوئے،کے زیر سایہ کام کیا۔


زاہد ابراہیم کہتے ہیں کہ ’عائشہ بے لاگ اور اپنی بات کہنے والوں میں سے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عرف عام میں جسے قانون کی حکمرانی کہا جاتا ہے عائشہ اس کی بنیاد پر کارفرما ہیں اور ہمیشہ سے ہی ان میں کھرا رہنے کی خواہش رہی ہے۔‘ذاتی زندگی میں عائشہ مصوری سے محظوظ ہوتی ہیں اور خاص طور پر منی ایچر آرٹ کو پسند کرتی ہیں۔اس کے علاوہ وہ پالتو جانور رکھنے کی بھی شوقین ہیں۔

ایک حاضر سروس جج جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے اور جسٹس عائشہ کو ابتدائی دنوں سے جانتے ہیں،نے بتایا کہ جسٹس عائشہ کی ایک پالتو بلی بھی ہے اور جس چیز کے بارے میں وہ بہت پُرجوش ہیں۔’حتیٰ کہ آپ انھیں کاغذ تک ضائع کرتے نہیں دیکھیں گے۔وہ استعمال شدہ کاغذ بھی سنبھال لیتی ہیں اور بعد ازاں ذاتی استعمال کے لئے اسے ڈائری کی شکل میں جلد کروا لیتی ہیں۔

‘2001ء میں جسٹس عائشہ ملک شادی کے بعد لاہور آ گئیں اور یہاں اپنی وکالت جاری رکھی اور 2012ء میں وہ لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج تعینات ہوئیں۔جسٹس عائشہ ملک اب ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔2014ء میں جسٹس عائشہ کی عدالت میں ایک وکیل کا لائسنس جج صاحبہ کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے کی بنا پر معطل کر دیا گیا تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق وکیل نے ’توہین آمیز زبان‘ استعمال کی تھی۔جسٹس عائشہ ملک کے ساتھی جج کا مزید کہنا تھا کہ مرد وکلا اکثر اوقات ان کے ساتھ بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ تاہم جسٹس عائشہ خواتین کو پیشہ قانون میں بااختیار بنانے کیلئے ہر دم کوشاں رہتی ہیں۔2016ء سے سالانہ پنجاب خواتین ججز کانفرنس منعقد کروانے میں ان کا کردار مرکزی نوعیت کا رہا ہے۔

اب تک ان کے صادر کیے گئے 99 فیصلے خواتین کے حقوق کے لئے ان کی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک کی میراث محض صنفی مساوات کے لئے سعی تک محدود نہیں بلکہ وہ بطور ایسی جج بھی اپنی پہچان بنا چکی ہیں جو طاقتور حلقوں کے خلاف ایسے دبنگ فیصلے صادر کرنے سے نہیں ڈرتیں جن کی بدولت ان حلقوں میں سراسیمگی پھیل جاتی ہے۔پاکستان سپریم کورٹ کی تاریخ میں ابھی تک کوئی خاتون چیف جسٹس کے عہدے پر فائز نہیں ہو پائی ہیں اور نہ ہی لاہور ہائیکورٹ میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے حالانکہ پہلی خاتون جج کی تعیناتی 1974ء میں ہوئی تھی۔

پاکستان میں مرد ججوں کے مقابلے میں خواتین جج کی تعداد ناکافی ہے،اقلیتی فرقوں سے وابستہ مرد و خواتین بھی تاریخ پاکستان میں اس عہدے پہ بہت کم فائز ہوتے ہیں۔حال ہی میں پہلی بار دو ہندو خواتین پاکستانی ججوں میں شامل ہوئی ہیں۔سابق جج لاہور ہائیکورٹ جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہا ہے کہ جسٹس عائشہ ملک کے سپریم کورٹ کے جج بننے سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر ابھرے گا،پاکستان کے سوا تمام سارک ممالک میں سپریم کورٹ میں خاتون ججز تعینات ہیں،74 برسوں میں کوئی خاتون جج سپریم کورٹ میں تعینات نہیں ہوئی،پہلی دفعہ جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ میں جج کیلئے نامزد ہوئی ہیں،پاکستان کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے جسٹس عائشہ ملک ان کی دل کی بات کر سکتی ہیں،جسٹس عائشہ ملک آئین کے علاوہ کارپوریٹ لاء بھی سمجھتی ہیں۔


ادارہ اردوپوائنٹ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین :

Supreme Court Mein Pehli Khatoon Judge Ki Taenaati Se Nayi Tareekh Raqam is a national article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 January 2022 and is famous in national category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.